قومی زبان

بہار آدھی گزر گئی ہائے ہم قیدی ہیں زنداں کے

بہار آدھی گزر گئی ہائے ہم قیدی ہیں زنداں کے گئے کچھ اور کچھ جاتے ہیں دن چاک گریباں کے ہزاروں خوب رو گئے خاک میں گردش سے دوراں کے جھلکتے رنگ میں دیکھو مقیش ریزے افشاں کے گیا تو درد سر پر حسرت زخم دویم رہ گئی وگرنہ ہم تری شمشیر کے مارے ہیں احساں کے مرا لوہو بھی بعد از مرگ قاتل کے ...

مزید پڑھیے

گھر یار کا ہم سے دور پڑا گئی ہم سے راحت ایک طرف

گھر یار کا ہم سے دور پڑا گئی ہم سے راحت ایک طرف دل ایک طرف آہ ایک طرف ملنے کی حسرت ایک طرف ہے موت کا رنگ مرا جیونا جیوں دھندلا چراغ ہوں میں سکرات کی ظلمت ایک طرف ہستی کی تہمت ایک طرف جی آ رہا دیدۂ تر میں مجھے دم لینے کی تاب نہیں ضعف ایک طرف درد ایک طرف اور کاہش طاقت ایک طرف جوں ...

مزید پڑھیے

گر میرے لہو رونے کا باران بنے گا

گر میرے لہو رونے کا باران بنے گا کوچہ ترا رشک چمنستان بنے گا گر اس قد موزوں کا تمنا میں اثر ہے برجستہ مری باتوں کا دیوان بنے گا اس زلف کی گر لیل برات آوے مرے ہات دل کے مرے داغوں کا چراغان بنے گا عزلتؔ تو کر اس زلف پریشاں سے یہ دل جمع زنار کا شیرازۂ قرآن بنے گا

مزید پڑھیے

اے سالک انتظار حج میں کیا تو ہکا بکا ہے

اے سالک انتظار حج میں کیا تو ہکا بکا ہے بگھولے سا تو کر لے طوف دل پہلو میں مکا ہے چراغ گل کو روشن کر دیا آہوں کے شعلے سے ہزاروں درجے بلبل خام پروانوں سے پکا ہے جو ہے ہر سنگ میں پنہاں سو آتش لال سے چمکی سبھی میں حق ہے ہر عارف میں کیا سیوا جھمکا ہے گئی نیں بوئے شیر اس لب سے لیکن ...

مزید پڑھیے

گل رہے نہیں نام کو سرکش ہیں خاراں العیاذ

گل رہے نہیں نام کو سرکش ہیں خاراں العیاذ کھٹکے ہے آنکھوں میں یہ سونا گلستاں العیاذ خاک سر پر کر بگولے سے غم مجنوں میں ہائے پھاڑتا ہے دامن صحرا گریباں العیاذ بسکہ ہر کانٹے سے دل چھید ایک بلبل مر رہے ہو گیا گلشن خزاں میں بلبلستاں العیاذ ڈالتے ہیں اہل دنیا خیمے اب صحرا کے ...

مزید پڑھیے

شتاب کھو گئی پیری جوانی دو دن کی

شتاب کھو گئی پیری جوانی دو دن کی چھپی سحر میں شب کامرانی دو دن کی کسی کی ہات میں دل دے کے پاؤں لگ (سو) رہئے خوشی سے کیوں نہ کٹے زندگانی دو دن کی یہ دل کو لگتے ہی توڑا جو ان نے سو گئے بخت میرے نصیبوں کی رہ گئی کہانی دو دن کی اسے میں طوف کے حلقہ میں گھیرے رکھا تھا عجب تھی اس پہ مری ...

مزید پڑھیے

خنک جوشی نہ کرتے جوں صبا گر یہ بتاں ہم سے

خنک جوشی نہ کرتے جوں صبا گر یہ بتاں ہم سے تو مثل غنچۂ گل دل نہ جاتا رائیگاں ہم سے پھرے اس زلف و رو کے عشق میں دونوں جہاں ہم سے ادھر کفار پھر گئے سب ادھر ایمانیاں ہم سے عدو تھے مالی اور صیاد گلچیں نے قیامت کی خدا لعنت کرے تینوں پہ چھوٹا گلستاں ہم سے اجاڑا گریہ‌‌ و شور جنوں کے ...

مزید پڑھیے

جو عاشق ہو اسے صحرا میں چل جانے سے کیا نسبت

جو عاشق ہو اسے صحرا میں چل جانے سے کیا نسبت جز اپنی دھول اڑانا اور ویرانے سے کیا نسبت نہیں پہنچیں بلبلوں کی پختگی کو خام پروانے جو دائم سلگیں ان کو پل میں جل جانے سے کیا نسبت وہ زلفوں سے نہ گزرے بلکہ اپنے جی سے ٹل جاوے کہو میرے دل صد چاک کو شانے سے کیا نسبت

مزید پڑھیے

ارے الٹے زمانے مجھ پہ کیا سیدھا ستم لایا

ارے الٹے زمانے مجھ پہ کیا سیدھا ستم لایا نین میرے تھے پی کا گھر سو روئے ہجر دکھلایا چمن کا شہر فصل گل میں جب آباد تھا عزلتؔ صبا کے رنگ میں گلگشت کر حظ جنوں پایا جو دیکھوں جا خزاں میں ہائے خارستان و پت جھڑ تھا نہ غنچے تھے نہ گل نے بلبلیں نے بید کا سایا بہت سے زاغ و چغدوں کا تھا غل ...

مزید پڑھیے

خط نے آ کر کی ہے شاید رحم فرمانے کی عرض

خط نے آ کر کی ہے شاید رحم فرمانے کی عرض تب تو اب سنتا ہے ہنس کر مجھ سے دیوانے کی عرض شام غربت ہم سے مجروحوں کی ہے فریاد رس زلف کی چھاتی پھٹی ہے سنتے ہی شانے کی عرض بوسۂ لعل بتاں جو لے سو ہو بے آبرو اتنی ہی خدمت میں مستوں کی ہے پیمانے کی عرض گوش گل میں سب پھپھولے پڑ گئے شبنم کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 390 سے 6203