بہار آدھی گزر گئی ہائے ہم قیدی ہیں زنداں کے
بہار آدھی گزر گئی ہائے ہم قیدی ہیں زنداں کے گئے کچھ اور کچھ جاتے ہیں دن چاک گریباں کے ہزاروں خوب رو گئے خاک میں گردش سے دوراں کے جھلکتے رنگ میں دیکھو مقیش ریزے افشاں کے گیا تو درد سر پر حسرت زخم دویم رہ گئی وگرنہ ہم تری شمشیر کے مارے ہیں احساں کے مرا لوہو بھی بعد از مرگ قاتل کے ...