قومی زبان

اور ہی کہیں ٹھہرے اور ہی کہیں پہنچے

اور ہی کہیں ٹھہرے اور ہی کہیں پہنچے جس جگہ پہنچنا تھا ہم وہاں نہیں پہنچے ہجر کی مسافت میں ساتھ تو رہا ہر دم دور ہو گئے تجھ سے جب ترے قریں پہنچے طائر طلب کی ہے ہر اڑان اس در تک نا مراد دل کا ہر راستہ وہیں پہنچے رخ کرے ادھر کا ہی ہر عذاب دنیا کا آسماں سے جو اترے وہ بلا یہیں ...

مزید پڑھیے

موت سی خموشی جب ان لبوں پہ طاری کی

موت سی خموشی جب ان لبوں پہ طاری کی تب کہیں نبھا پائی رسم رازداری کی ہم ابھی ندامت کی قید سے نہیں نکلے کاٹتے ہیں روز و شب فصل بے قراری کی بھول ہی نہیں سکتے اے غم جہاں تو نے جس طرح پذیرائی عمر بھر ہماری کی کم ذرا نہ ہونے دی ایک لفظ کی حرمت ایک عہد کی ساری عمر پاسداری کی سب انا ...

مزید پڑھیے

زہر میں بجھے سارے تیر ہیں کمانوں پر

زہر میں بجھے سارے تیر ہیں کمانوں پر موت آن بیٹھی ہے جا بجا مچانوں پر ہم برائی کرتے ہیں ڈوبتے ہوئے دن کی تہمتیں لگاتے ہیں جا چکے زمانوں پر اس حسین منظر سے دکھ کئی ابھرنے ہیں دھوپ جب اترنی ہے برف کے مکانوں پر شوق خود نمائی کا انتہا کو پہنچا ہے شہرتوں کی خاطر ہم سج گئے دکانوں ...

مزید پڑھیے

یہ کمال بھی تو کم نہیں ترا

یہ کمال بھی تو کم نہیں ترا ہر کسی نے کر لیا یقیں ترا انتظار کر رہے ہیں دیر سے اس اداس شہر کے مکیں ترا ان دنوں پڑاؤ کس جگہ پہ ہے آج کل ہے کون ہم نشیں ترا ہر زبان پر سوال ہے یہی ایک میں ہی پوچھتا نہیں ترا یہ نئی اڑان اس زمین سے رابطہ نہ توڑ دے کہیں ترا

مزید پڑھیے

میں بھی بے انت ہوں اور تو بھی ہے گہرا صحرا

میں بھی بے انت ہوں اور تو بھی ہے گہرا صحرا یا ٹھہر مجھ میں یا خود میں مجھے ٹھہرا صحرا روح میں لہر بناتے ہیں تری لہروں سے اور کچھ دیر مرے سامنے لہرا صحرا آنکھ جھپکی تھی بس اک لمحے کو اور اس کے بعد میں نے ڈھونڈا ہے تجھے زندگی صحرا صحرا اپنی ہستی کو بکھرنے سے بچا لینا تم مجھ پہ مت ...

مزید پڑھیے

سواد ہجر میں رکھا ہوا دیا ہوں میں

سواد ہجر میں رکھا ہوا دیا ہوں میں تجھے خبر نہیں کس آگ میں جلا ہوں میں میں قریہ قریہ پھرا گرد باد بن کے جہاں اسی زمین پہ پرچم صفت اٹھا ہوں میں ابھی چھٹی نہیں جنت کی دھول پاؤں سے ہنوز فرش زمیں پر نیا نیا ہوں میں ہزار شکر ہے کہ خود پہ استوار تھا میں ہزار شکر کہ بنیاد پر گرا ہوں ...

مزید پڑھیے

کبھی کبھی تو یہ حالت بھی کی محبت نے

کبھی کبھی تو یہ حالت بھی کی محبت نے نڈھال کر دیا مجھ کو تری محبت نے تری یہ پہلی محبت ہے تجھ کو کیا معلوم گھلا دیا مجھے اس آخری محبت نے وہ یوں بھی خیر سے سرما کا چاند تھی لیکن اسے اجال دیا اور بھی محبت نے مجھے خدا نے ادھورا ہی چھوڑنا تھا مگر مجھے بنا دیا اک شخص کی محبت نے یہ تم جو ...

مزید پڑھیے

تمہیں بھی چاہا، زمانے سے بھی وفا کی تھی

تمہیں بھی چاہا، زمانے سے بھی وفا کی تھی یہ نگہ داری جنوں نے جدا جدا کی تھی وہ سارا قصہ فقط رکھ رکھاؤ کا تو نہ تھا اس ایک نام سے نسبت بھی انتہا کی تھی کسی چھبیلے میں وہ چھب نظر نہیں آئی وہ ایک چھب کہ جو اس آئینہ قبا کی تھی خدا! صلہ دے دعا کا، محبتوں کے خدا خدا! کسی نے کسی کے لیے دعا ...

مزید پڑھیے

رخصت یار کا مضمون بمشکل باندھا

رخصت یار کا مضمون بمشکل باندھا دل نہ بندھتا تھا کسی طور بڑا دل باندھا ہم نے بھی باندھ لیا زیست کا اسباب وہیں جب سنا یار سفر دار نے محمل باندھا ہم نے اس چہرے کو باندھا نہیں مہتاب مثال ہم نے مہتاب کو اس رخ کے مماثل باندھا اور کیا باندھتے ساماں میں بہ ہنگام سفر صرف دامن میں خس ...

مزید پڑھیے

کوئی وجود ہے دنیا میں کوئی پرچھائیں

کوئی وجود ہے دنیا میں کوئی پرچھائیں سو ہر کوئی نہیں ہوتا کسی کی پرچھائیں مرے وجود کو مانو تو ساتھ چلتا ہوں کہ میں تو بن نہ سکوں گا تمہاری پرچھائیں یہی چراغ ہے سب کچھ کہ دل کہیں جس کو اگر یہ بجھ گیا تو آدمی بھی پرچھائیں کئی دنوں سے مرے ساتھ ساتھ چلتی ہے کوئی اداس سی ٹھنڈی سی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3814 سے 6203