قومی زبان

برق سر شاخسار دیکھیے کب تک رہے

برق سر شاخسار دیکھیے کب تک رہے ہم کو یقین بہار دیکھیے کب تک رہے دامن گلچیں میں پھول بلبل شیدا ملول روح چمن سوگوار دیکھیے کب تک رہے کتنے نئے قافلے منزلوں سے جا ملے بخت میں اپنے غبار دیکھیے کب تک رہے دیکھیے کب راہ پر ٹھیک سے اٹھیں قدم رات کی مے کا خمار دیکھیے کب تک رہے محنت بے ...

مزید پڑھیے

تجھ سے مل کر دل میں رہ جاتی ہے ارمانوں کی بات

تجھ سے مل کر دل میں رہ جاتی ہے ارمانوں کی بات یاد رہتی ہے کسی ساحل پہ طوفانوں کی بات وہ تو کہئے آج بھی زنجیر میں جھنکار ہے ورنہ کس کو یاد رہ جاتی ہے دیوانوں کی بات کیا نہ تھی تم کو خبر اے کج کلاہان بہار بوئے گل کے ساتھ ہی پھیلے گی زندانوں کی بات خیر ہو میرے جنوں کی کھل گئے صدہا ...

مزید پڑھیے

کہیں ساقی کا فیض عام بھی ہے

کہیں ساقی کا فیض عام بھی ہے کسی شیشے پہ میرا نام بھی ہے وہ چشم مست مئے بھی جام بھی ہے پھرے تو گردش ایام بھی ہے نوائے چنگ و بربط سننے والو پس پردہ بڑا کہرام بھی ہے مری فرد جنوں پہ اے بہارو گواہوں میں خزاں کا نام بھی ہے نہ پوچھو بے بسی اس تشنہ لب کی کہ جس کی دسترس میں جام بھی ...

مزید پڑھیے

خلش سکوں کا مداوا نہیں تو کچھ بھی نہیں

خلش سکوں کا مداوا نہیں تو کچھ بھی نہیں شکست ساز میں نغمہ نہیں تو کچھ بھی نہیں جسے زمانہ کہے اضطراب کا عالم وہ زندگی کا سہارا نہیں تو کچھ بھی نہیں سرود بانگ مؤذن نہیں دلیل سحر مژہ پہ صبح کا تارا نہیں تو کچھ بھی نہیں ہوا کریں ترے کان آشنائے شور جرس سفر کا دل میں ارادہ نہیں تو کچھ ...

مزید پڑھیے

دل پریشاں ہے نہ جانے کس لیے

دل پریشاں ہے نہ جانے کس لیے حشر ساماں ہے نہ جانے کس لیے پر سکوں گہرائیوں میں ضبط کی شور طوفاں ہے نہ جانے کس لیے لاکھ آباد تمنا ہو کے دل پھر بھی ویراں ہے نہ جانے کس لیے میری بربادی پہ میرا ہر نفس زہر خنداں ہے نہ جانے کس لیے تشنۂ ہمت جو تھا ذوق فنا آج آساں ہے نہ جانے کس لیے خالی ...

مزید پڑھیے

اپنا اعجاز دکھا دے ساقی

اپنا اعجاز دکھا دے ساقی آگ سے آگ بجھا دے ساقی نقش بیداد مٹا دے ساقی ہم کو آزاد بنا دے ساقی وہ اٹھیں کالی گھٹائیں توبہ اب تو پینے کی رضا دے ساقی جس سے سوئے ہوئے دل چونک اٹھیں نغمہ اک ایسا سنا دے ساقی تجھ کو مستقبل زریں کی قسم پچھلی باتوں کو بھلا دے ساقی صدر مے خانہ بنایا تھا ...

مزید پڑھیے

بلائے جاتے ہیں مقتل میں ہم سزا کے لیے

بلائے جاتے ہیں مقتل میں ہم سزا کے لیے کہ اب دماغ نہیں عرض مدعا کے لیے ازل کے روز ہمیں کون سے وہ تحفے ملے کہ ہم سے دہر نے بدلے گنا گنا کے لیے وہ وعدے یاد نہیں تشنہ ہے مگر اب تک وہ وعدے بھی کوئی وعدے جو مے پلا کے لیے وہ لمحہ بھر کی ملی خلد میں جو آزادی تو قید ہو گئے مٹی میں ہم سدا کے ...

مزید پڑھیے

شمعیں روشن ہیں آبگینوں میں

شمعیں روشن ہیں آبگینوں میں داغ دل جل رہے ہیں سینوں میں پھر کہیں بندگی کا نام آیا پھر شکن پڑ گئی جبینوں میں لے کے تیشہ اٹھا ہے پھر مزدور ڈھل رہے ہیں جبل مشینوں میں ذہن میں انقلاب آتے ہی جان سی پڑ گئی دفینوں میں بات کرتے ہیں غم نصیبوں کی اور بیٹھے ہیں شہ نشینوں میں جن کو گرداب ...

مزید پڑھیے

مرے فکر و فن کو نئی فضا نئے بال و پر کی تلاش ہے

مرے فکر و فن کو نئی فضا نئے بال و پر کی تلاش ہے جو قفس کو یاس کے پھونک دے مجھے اس شرر کی تلاش ہے ہے عجیب عالم سرخوشی نہ شکیب ہے نہ شکستگی کبھی منزلوں سے گزر گئے کبھی رہ گزر کی تلاش ہے مجھے اس جنوں کی ہے جستجو جو چمن کو بخش دے رنگ و بو جو نوید فصل بہار ہو مجھے اس نظر کی تلاش ہے مجھے ...

مزید پڑھیے

دل توڑ کر وہ دل میں پشیماں ہوا تو کیا

دل توڑ کر وہ دل میں پشیماں ہوا تو کیا اک بے نیاز ناز پہ احساں ہوا تو کیا اپنا علاج تنگئ دل وہ نہ کر سکے میرا علاج تنگی داماں ہوا تو کیا جب بال و پر ہی نذر قفس ہو کے رہ گئے صحن چمن میں شور بہاراں ہوا تو کیا اک عمر رکھ کے روح مری تشنۂ نشاط اب نغمۂ حیات پرافشاں ہوا تو کیا جب میرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 380 سے 6203