برق سر شاخسار دیکھیے کب تک رہے
برق سر شاخسار دیکھیے کب تک رہے ہم کو یقین بہار دیکھیے کب تک رہے دامن گلچیں میں پھول بلبل شیدا ملول روح چمن سوگوار دیکھیے کب تک رہے کتنے نئے قافلے منزلوں سے جا ملے بخت میں اپنے غبار دیکھیے کب تک رہے دیکھیے کب راہ پر ٹھیک سے اٹھیں قدم رات کی مے کا خمار دیکھیے کب تک رہے محنت بے ...