قومی زبان

شام غم کی سحر نہیں ہوتی

شام غم کی سحر نہیں ہوتی یا ہمیں کو خبر نہیں ہوتی ہم نے سب دکھ جہاں کے دیکھے ہیں بیکلی اس قدر نہیں ہوتی نالہ یوں نارسا نہیں رہتا آہ یوں بے اثر نہیں ہوتی چاند ہے کہکشاں ہے تارے ہیں کوئی شے نامہ بر نہیں ہوتی ایک جاں سوز و نامراد خلش اس طرف ہے ادھر نہیں ہوتی دوستو عشق ہے خطا ...

مزید پڑھیے

جانے تو کیا ڈھونڈ رہا ہے بستی میں ویرانے میں

جانے تو کیا ڈھونڈ رہا ہے بستی میں ویرانے میں لیلیٰ تو اے قیس ملے گی دل کے دولت خانے میں جنم جنم کے ساتوں دکھ ہیں اس کے ماتھے پر تحریر اپنا آپ مٹانا ہوگا یہ تحریر مٹانے میں محفل میں اس شخص کے ہوتے کیف کہاں سے آتا ہے پیمانے سے آنکھوں میں یا آنکھوں سے پیمانے میں کس کا کس کا حال ...

مزید پڑھیے

ہم ان سے اگر مل بیٹھے ہیں کیا دوش ہمارا ہوتا ہے

ہم ان سے اگر مل بیٹھے ہیں کیا دوش ہمارا ہوتا ہے کچھ اپنی جسارت ہوتی ہے کچھ ان کا اشارا ہوتا ہے کٹنے لگیں راتیں آنکھوں میں دیکھا نہیں پلکوں پر اکثر یا شام غریباں کا جگنو یا صبح کا تارا ہوتا ہے ہم دل کو لیے ہر دیس پھرے اس جنس کے گاہک مل نہ سکے اے بنجارو ہم لوگ چلے ہم کو تو خسارا ...

مزید پڑھیے

دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے اب آن ملو تو بہتر ہو

دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے اب آن ملو تو بہتر ہو اس بات سے ہم کو کیا مطلب یہ کیسے ہو یہ کیوں کر ہو اک بھیک کے دونوں کاسے ہیں اک پیاس کے دونو پیاسے ہیں ہم کھیتی ہیں تم بادل ہو ہم ندیاں ہیں تم ساگر ہو یہ دل ہے کہ جلتے سینے میں اک درد کا پھوڑا الہڑ سا نا گپت رہے نا پھوٹ بہے کوئی مرہم ہو ...

مزید پڑھیے

رات بھر تنہا رہا دن بھر اکیلا میں ہی تھا

رات بھر تنہا رہا دن بھر اکیلا میں ہی تھا شہر کی آبادیوں میں اپنے جیسا میں ہی تھا میں ہی دریا میں ہی طوفاں میں ہی تھا ہر موج بھی میں ہی خود کو پی گیا صدیوں سے پیاسا میں ہی تھا کس لیے کترا کے جاتا ہے مسافر دم تو لے آج سوکھا پیڑ ہوں کل تیرا سایا میں ہی تھا کتنے جذبوں کی نرالی ...

مزید پڑھیے

روبرو ان کے کوئی حرف ادا کیا کرتے

روبرو ان کے کوئی حرف ادا کیا کرتے درد تو ہم کو چھپانا تھا صدا کیا کرتے بے وفائی بھی وفا ہی کی طرح کی اس نے ایسے انسان سے کرتے تو گلہ کیا کرتے چھن گئیں ہاتھ اٹھانے سے دعائیں مہنگی حوصلہ پھر وہ دعاؤں کا بھلا کیا کرتے کچھ تو آتے رہے امید کے جھونکے ورنہ اتنا شاداب مجھے آب و ہوا کیا ...

مزید پڑھیے

محبتوں میں جو مٹ مٹ کے شاہکار ہوا

محبتوں میں جو مٹ مٹ کے شاہکار ہوا وہ شخص کتنا زمانے میں یادگار ہوا تری ہی آس میں گزرے ہیں دھوپ چھاؤں سے ہم تری ہی پیاس میں صحرا بھی خوش گوار ہوا نہ جانے کتنی بہاروں کی دے گیا خوشبو وہ اک بدن جو ہمارے گلے کا ہار ہوا تمہارے بعد تو ہر اک قدم ہے بن باس ہمارا شہر کے لوگوں میں کب شمار ...

مزید پڑھیے

شیشے کا آدمی ہوں مری زندگی ہے کیا

شیشے کا آدمی ہوں مری زندگی ہے کیا پتھر ہیں سب کے ہاتھ میں مجھ کو کمی ہے کیا اب شہر میں وہ پھول سے چہرے نہیں رہے کیسی لگی ہے آگ یہ بستی ہوئی ہے کیا میں جل رہا ہوں اور کوئی دیکھتا نہیں آنکھیں ہیں سب کے پاس مگر بے بسی ہے کیا تم دوست ہو تو مجھ سے ذرا دشمنی کرو کچھ تلخیاں نہ ہوں تو ...

مزید پڑھیے

تری زمیں سے اٹھیں گے تو آسماں ہوں گے

تری زمیں سے اٹھیں گے تو آسماں ہوں گے ہم ایسے لوگ زمانے میں پھر کہاں ہوں گے چلے گئے تو پکارے گی ہر صدا ہم کو نہ جانے کتنی زبانوں سے ہم بیاں ہوں گے لہو لہو کے سوا کچھ نہ دیکھ پاؤ گے ہمارے نقش قدم اس قدر عیاں ہوں گے سمیٹ لیجئے بھیگے ہوئے ہر اک پل کو بکھر گئے جو یہ موتی تو رائیگاں ہوں ...

مزید پڑھیے

لبوں پر پیاس ہو تو آس کے بادل بھرے رکھیو

لبوں پر پیاس ہو تو آس کے بادل بھرے رکھیو سرابوں کے سفر میں اس طرح گلشن ہرے رکھیو یہ بازار جہاں ہے بے غرض کوئی نہیں ملتا پرکھ کر جب تلک دیکھو نہیں سب کو پرے رکھیو وفا کے بول پر بے مول بک جاتی ہے یہ دنیا اگر ہو بے سر و ساماں تو یہ سکے کھرے رکھیو کسی کے سامنے دامن پسارے سے ملے گا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3801 سے 6203