شام غم کی سحر نہیں ہوتی
شام غم کی سحر نہیں ہوتی یا ہمیں کو خبر نہیں ہوتی ہم نے سب دکھ جہاں کے دیکھے ہیں بیکلی اس قدر نہیں ہوتی نالہ یوں نارسا نہیں رہتا آہ یوں بے اثر نہیں ہوتی چاند ہے کہکشاں ہے تارے ہیں کوئی شے نامہ بر نہیں ہوتی ایک جاں سوز و نامراد خلش اس طرف ہے ادھر نہیں ہوتی دوستو عشق ہے خطا ...