قومی زبان

جنگل جنگل شوق سے گھومو دشت کی سیر مدام کرو

جنگل جنگل شوق سے گھومو دشت کی سیر مدام کرو انشاؔ جی ہم پاس بھی لیکن رات کی رات قیام کرو اشکوں سے اپنے دل کو حکایت دامن پر ارقام کرو عشق میں جب یہی کام ہے یار ولے کے خدا کا نام کرو کب سے کھڑے ہیں بر میں خراج عشق کے لیے سر راہ گزار ایک نظر سے سادہ رخو ہم سادہ دلوں کو غلام کرو دل کی ...

مزید پڑھیے

کس کو پار اتارا تم نے کس کو پار اتارو گے

کس کو پار اتارا تم نے کس کو پار اتارو گے ملاحو تم پردیسی کو بیچ بھنور میں مارو گے منہ دیکھے کی میٹھی باتیں سنتے اتنی عمر ہوئی آنکھ سے اوجھل ہوتے ہوتے جی سے ہمیں بسارو گے آج تو ہم کو پاگل کہہ لو پتھر پھینکو طنز کرو عشق کی بازی کھیل نہیں ہے کھیلو گے تو ہارو گے اہل وفا سے ترک تعلق ...

مزید پڑھیے

زندگی وادی و صحرا کا سفر ہے کیوں ہے

زندگی وادی و صحرا کا سفر ہے کیوں ہے اتنی ویران مری راہگزر ہے کیوں ہے تو اجالے کی طرح آ کے لپٹ جا مجھ سے اک اندھیرا سا ادھر اور ادھر ہے کیوں ہے روز ملتا ہے کوئی دل کو لبھانے والا پھر بھی تو ہی مرا محبوب نظر ہے کیوں ہے گھر کی تصویر بھی صحرا کی طرح ہے لیکن فرق اتنا ہے کہ دیوار ہے در ...

مزید پڑھیے

گلشن میں لے کے چل کسی صحرا میں لے کے چل

گلشن میں لے کے چل کسی صحرا میں لے کے چل اے دل مگر سکون کی دنیا میں لے کے چل کوئی تو ہوگا جس کو مرا انتظار ہے کہتا ہے دل کہ شہر تمنا میں لے کے چل یہ پیاس بجھ نہ پائی تو میں ڈوب جاؤں گا ساحل سے دور تو مجھے دریا میں لے کے چل پہچانتا نہیں ہے مرا نام قیسؔ بھی اے خضر راہ کوچۂ لیلیٰ میں لے ...

مزید پڑھیے

جلوہ نمائی بے پروائی ہاں یہی ریت جہاں کی ہے

جلوہ نمائی بے پروائی ہاں یہی ریت جہاں کی ہے کب کوئی لڑکی من کا دریچہ کھول کے باہر جھانکی ہے آج مگر اک نار کو دیکھا جانے یہ نار کہاں کی ہے مصر کی مورت چین کی گڑیا دیوی ہندوستاں کی ہے مکھ پر روپ سے دھوپ کا عالم بال اندھیری شب کی مثال آنکھ نشیلی بات رسیلی چال بلا کی بانکی ہے انشاؔ ...

مزید پڑھیے

اس شہر کے لوگوں پہ ختم سہی خوش طلعتی و گل پیرہنی

اس شہر کے لوگوں پہ ختم سہی خوش طلعتی و گل پیرہنی مرے دل کی تو پیاس کبھی نہ بجھی مرے جی کی تو بات کبھی نہ بنی ابھی کل ہی کی بات ہے جان جہاں یہاں فیل کے فیل تھے شور کناں اب نعرۂ عشق نہ ضرب فعاں گئے کون نگر وہ وفا کے دھنی کوئی اور بھی مورد لطف ہوا ملی اہل ہوس کو ہوس کی سزا ترے شہر میں ...

مزید پڑھیے

اور تو کوئی بس نہ چلے گا ہجر کے درد کے ماروں کا

اور تو کوئی بس نہ چلے گا ہجر کے درد کے ماروں کا صبح کا ہونا دوبھر کر دیں رستہ روک ستاروں کا جھوٹے سکوں میں بھی اٹھا دیتے ہیں یہ اکثر سچا مال شکلیں دیکھ کے سودے کرنا کام ہے ان بنجاروں کا اپنی زباں سے کچھ نہ کہیں گے چپ ہی رہیں گے عاشق لوگ تم سے تو اتنا ہو سکتا ہے پوچھو حال بیچاروں ...

مزید پڑھیے

کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا

کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرا ترا T'was a full moon out last night, all evening there was talk of you Some people said it was the moon,and some said that it was you ہم بھی وہیں موجود تھے ہم سے بھی سب پوچھا کیے ہم ہنس دئیے ہم چپ رہے منظور تھا پردہ ترا I too was there, and was asked, by each one to explain I laughed it ...

مزید پڑھیے

دل عشق میں بے پایاں سودا ہو تو ایسا ہو

دل عشق میں بے پایاں سودا ہو تو ایسا ہو دریا ہو تو ایسا ہو صحرا ہو تو ایسا ہو اک خال سویدا میں پہنائی دو عالم پھیلا ہو تو ایسا ہو سمٹا ہو تو ایسا ہو اے قیس جنوں پیشہ انشاؔ کو کبھی دیکھا وحشی ہو تو ایسا ہو رسوا ہو تو ایسا ہو دریا بہ حباب اندر طوفاں بہ سحاب اندر محشر بہ حجاب اندر ...

مزید پڑھیے

رات کے خواب سنائیں کس کو رات کے خواب سہانے تھے

رات کے خواب سنائیں کس کو رات کے خواب سہانے تھے دھندلے دھندلے چہرے تھے پر سب جانے پہچانے تھے ضدی وحشی الہڑ چنچل میٹھے لوگ رسیلے لوگ ہونٹ ان کے غزلوں کے مصرعے آنکھوں میں افسانے تھے وحشت کا عنوان ہماری ان میں سے جو نار بنی دیکھیں گے تو لوگ کہیں گے انشاؔ جی دیوانے تھے یہ لڑکی تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3800 سے 6203