قومی زبان

دل سے جب آہ نکل جائے گی

دل سے جب آہ نکل جائے گی جاں بھی ہمراہ نکل جائے گی دل میں کچھ بھی تو نہ رہ جائے گا جب تری چاہ نکل جائے گی ہم نے سمجھا تھا کہ کچھ برسوں میں فصل جاں کاہ نکل جائے گی پھر سبھی جوڑ کے سر بیٹھے ہیں پھر کوئی راہ نکل جائے گی تم سے ملنے کی بھی کوئی صورت انشا اللہ نکل جائے گی توڑ کر ساری ...

مزید پڑھیے

تنگ ہم پر بھی ہماری دنیا

تنگ ہم پر بھی ہماری دنیا دشمن عشق ہے ساری دنیا زیست کی منزل مقصود نہیں آخرت کی ہے سواری دنیا ہم بھی اللہ کے پیارے اٹھیں جب ہو اللہ کو پیاری دنیا انگلیوں پر یہ نچائے سب کو چاہتی کیا ہے مداری دنیا ہم کہ دنیا کے نہیں دیوانے مختلف تم سے ہماری دنیا کیوں پنپتا ہے درخت الفت کیوں ...

مزید پڑھیے

حیف باعث ترے عتاب کا میں

حیف باعث ترے عتاب کا میں کیا کروں اپنے اضطراب کا میں تیری آنکھوں کے آئنے میں رہوں عکس بن جاؤں تیرے خواب کا میں ربط میں بھی حساب ان کا میں اور قائل ہوں بے حساب کا میں اور کب تک رہوں میں مثل سوال منتظر آپ کے جواب کا میں سرد مہری کا ہے لحاف ان پر اور پیکر ہوں اضطراب کا میں جو محبت ...

مزید پڑھیے

کہا میں نے مری آنکھوں میں پانی ہے

کہا میں نے مری آنکھوں میں پانی ہے جواب آیا محبت کی نشانی ہے کہا میں نے لگی دل کی بجھانی ہے جواب آیا یہ جذبہ جاودانی ہے کہا میں نے کھلیں گے کب وفا کے پھول جواب آیا ابھی موسم خزانی ہے کہا میں نے محبت محور ہستی جواب آیا بلائے ناگہانی ہے کہا میں نے کہ ہر لمحہ سسکتا ہوں جواب آیا کہ ...

مزید پڑھیے

اک بڑی جنگ لڑ رہا ہوں

اک بڑی جنگ لڑ رہا ہوں میں ہنس کے تجھ سے بچھڑ رہا ہوں میں جیسے تم نے تو کچھ کیا ہی نہیں سارے فتنے کی جڑ رہا ہوں میں ایک تیرے لیے رفیق دل اک جہاں سے جھگڑ رہا ہوں میں زندگانی مری سنور جاتی گر سمجھتا، بگڑ رہا ہوں میں کس کی خاطر غزل کی چادر پر گوہر فکر جڑ رہا ہوں میں کوئی چشمہ کبھی ...

مزید پڑھیے

یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں

یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں تم انشاؔ جی کا نام نہ لو کیا انشاؔ جی سودائی ہیں ہیں لاکھوں روگ زمانے میں کیوں عشق ہے رسوا بے چارا ہیں اور بھی وجہیں وحشت کی انسان کو رکھتیں دکھیارا ہاں بے کل بے کل رہتا ہے ہو پیت میں جس نے جی ہارا پر شام سے لے کر صبح تلک یوں کون ...

مزید پڑھیے

لوگ پوچھیں گے

لوگ پوچھیں گے کیوں اداس ہو تم اور جو دل میں آئے سو کہیو! یوں ہی ماحول کی گرانی ہے' 'دن خزاں کے ذرا اداس سے ہیں' کتنے بوجھل ہیں شام کے سائے ان کی بابت خموش ہی رہیو نام ان کا نہ درمیاں آئے نام ان کا نہ درمیاں آئے ان کی بابت خموش ہی رہیو 'کتنے بوجھل ہیں شام کے سائے' 'دن خزاں کے ذرا اداس سے ...

مزید پڑھیے

دل پیت کی آگ میں جلتا ہے

دل پیت کی آگ میں جلتا ہے ہاں جلتا رہے اسے جلنے دو اس آگ سے لوگو دور رہو ٹھنڈی نہ کرو پنکھا نہ جھلو ہم رات دنا یوں ہی گھلتے رہیں کوئی پوچھے کہ ہم کو نا پوچھے کوئی ساجن ہو یا دشمن ہو تم ذکر کسی کا مت چھیڑو سب جان کے سپنے دیکھتے ہیں سب جان کے دھوکے کھاتے ہیں یہ دیوانے سادہ ہی سہی پر ...

مزید پڑھیے

دل اک کٹیا دشت کنارے

دنیا بھر سے دور یہ نگری نگری دنیا بھر سے نرالی اندر ارمانوں کا میلہ باہر سے دیکھو تو خالی ہم ہیں اس کٹیا کے جوگی ہم ہیں اس نگری کے والی ہم نے تج رکھا ہے زمانا تم آنا تو تنہا آنا دل اک کٹیا دشت کنارے بستی کا سا حال نہیں ہے مکھیا، پیر پروہت پیادے ان سب کا جنجال نہیں ہے نا بینے نہ ...

مزید پڑھیے

لب پر نام کسی کا بھی ہو

لب پر نام کسی کا بھی ہو، دل میں تیرا نقشا ہے اے تصویر بنانے والی جب سے تجھ کو دیکھا ہے بے تیرے کیا وحشت ہم کو، تجھ بن کیسا صبر و سکوں تو ہی اپنا شہر ہے جانی تو ہی اپنا صحرا ہے نیلے پربت اودی دھرتی، چاروں کوٹ میں تو ہی تو تجھ سے اپنے جی کی خلوت تجھ سے من کا میلا ہے آج تو ہم بکنے کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3795 سے 6203