قومی زبان

چاند کے تمنائی

شہر دل کی گلیوں میں شام سے بھٹکتے ہیں چاند کے تمنائی بے قرار سودائی دل گداز تاریکی روح و جاں کو ڈستی ہے روح و جاں میں بستی ہے شہر دل کی گلیوں میں تاک شب کی بیلوں پر شبنمیں سرشکوں کی بیقرار لوگوں نے بے شمار لوگوں نے یادگار چھوڑی ہے اتنی بات تھوڑی ہے صد ہزار باتیں تھیں حیلۂ ...

مزید پڑھیے

پچھلے پہر کے سناٹے میں

پچھلے پہر کے سناٹے میں کس کی سسکی کس کا نالہ کمرے کی خاموش فضا میں در آیا ہے زور ہوا کا ٹوٹ چکا ہے کھلے دریچے کی جالی سے ننھی ننھی بوندیں چھن کر سب کونوں میں پھیل گئی ہیں اور مرے اشکوں سے ان کے ہاتھ کا تکیہ بھیگ گیا ہے کتنی ظالم کتنی گہری تاریکی ہے کھلا دریچہ تھر تھر تھر تھر کانپ ...

مزید پڑھیے

اے مرے سوچ نگر کی رانی

تجھ سے جو میں نے پیار کیا ہے تیرے لیے؟ نہیں اپنے لیے وقت کی بے عنوان کہانی کب تک بے عنوان رہے اے مرے سوچ نگر کی رانی اے مرے خلد خیال کی حور اتنے دنوں جو میں گھلتا رہا ہوں تیرے بنا یونہی دور ہی دور سوچ تو کیا پھل مجھ کو ملا میں من سے گیا پھر تن سے گیا شہر وطن میں اجنبی ٹھہرا آخر شہر ...

مزید پڑھیے

دروازہ کھلا رکھنا

دل درد کی شدت سے خوں گشتہ و سی پارہ اس شہر میں پھرتا ہے اک وحشی و آوارہ شاعر ہے کہ عاشق ہے، جوگی ہے کہ بنجارہ دروازہ کھلا رکھنا سینے سے گھٹا اٹھے آنکھوں سے جھڑی برسے پھاگن کا نہیں بادل، جو چار گھڑی برسے برکھا ہے یہ بھادوں کی، برسے تو بڑی برسے دروازہ کھلا رکھنا آنکھوں میں تو اک ...

مزید پڑھیے

کاتک کا چاند

چاند کب سے ہے سر شاخ صنوبر اٹکا گھاس شبنم میں شرابور ہے شب ہے آدھی بام سونا ہے، کہاں ڈھونڈیں کسی کا چہرا (لوگ سمجھیں گے کہ بے ربط ہیں باتیں اپنی) شعر اگتے ہیں دکھی ذہن سے کونپل کونپل کون موسم ہے کہ بھرپور ہیں غم کی بیلیں دور پہنچے ہیں سرکتے ہوئے اودے بادل چاند تنہا ہے (اگر اس کی ...

مزید پڑھیے

دل آشوب

یوں کہنے کو راہیں ملک وفا کی اجال گیا اک دھند ملی جس راہ میں پیک خیال گیا پھر چاند ہمیں کسی رات کی گود میں ڈال گیا ہم شہر میں ٹھہریں، ایسا تو جی کا روگ نہیں اور بن بھی ہیں سونے ان میں بھی ہم سے لوگ نہیں اور کوچے کو تیرے لوٹنے کا تو سوال گیا ترے لطف و عطا کی دھوم سہی محفل محفل اک ...

مزید پڑھیے

یہ کون آیا

انشاؔ جی یہ کون آیا کس دیس کا باسی ہے ہونٹوں پہ تبسم ہے آنکھوں میں اداسی ہے خوابوں کے گلستاں کی خوشبوئے دل آرا ہے یا صبح تمنا کے ماتھے کا ستارا ہے ترسی ہوئی نظروں کو اب اور نہ ترسا رے اے حسن کے سوداگر اے روپ کے بنجارے رمنا دل انشاؔ کا اب تیرا ٹھکانا ہو اب کوئی بھی صورت ہو اب کوئی ...

مزید پڑھیے

یہ بچہ کس کا بچہ ہے

۱ یہ بچہ کیسا بچہ ہے یہ بچہ کالا کالا سا یہ کالا سا مٹیالا سا یہ بچہ بھوکا بھوکا سا یہ بچہ سوکھا سوکھا سا یہ بچہ کس کا بچہ ہے یہ بچہ کیسا بچہ ہے جو ریت پہ تنہا بیٹھا ہے نا اس کے پیٹ میں روٹی ہے نا اس کے تن پر کپڑا ہے نا اس کے سر پر ٹوپی ہے نا اس کے پیر میں جوتا ہے نا اس کے پاس کھلونوں ...

مزید پڑھیے

گھوم رہا ہے پیت کا پیاسا

دیکھ تو گوری کسے پکارے بستی بستی دوارے دوارے بر میں جھولی ہاتھ میں کاسہ گھوم رہا ہے پیت کا پیاسا دل میں آگ دبی ہے ڈرنا آنکھوں میں اشکوں کا جھرنا لب پر درد کا بارہ ماسا گھوم رہا ہے پیت کا پیاسا کانٹوں سے چھلنی ہیں پاؤں دھوپ ملی چہرے پر چھاؤں آس ملی آنکھوں میں نراسا گھوم رہا ہے ...

مزید پڑھیے

منی تیرے دانت کہاں ہیں

منی تیرے دانت کہاں ہیں دانت تھے میں نے دودھ پلا کر سات برس میں پالے آ کر ان کو لے گئے چوہے لمبی مونچھوں والے گڑ کا ان کو ماٹ ملا تھا میٹھا اور مزے دار لاکھ خوشامد کر کے مجھ سے لے لئے دانت ادھار منی تیرے دانت کہاں ہیں بلی تھی اک مامی موسی چپکے چپکے آئی پنجوں پر تھی دیگ کی کھرچن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3796 سے 6203