قومی زبان

ترک تعلقات نہیں چاہتا تھا میں

ترک تعلقات نہیں چاہتا تھا میں غم سے ترے نجات نہیں چاہتا تھا میں کب چاہتا تھا تیری عنایت کی بارشیں شادابیٔ حیات نہیں چاہتا تھا میں مجھ سے تو اے بہشت نظر یوں نظر نہ پھیر کیا تجھ کو تا حیات نہیں چاہتا تھا میں میں چاہتا تھا تم سے نہ جیتوں کبھی مگر کھا جاؤں خود سے مات نہیں چاہتا تھا ...

مزید پڑھیے

مضطرب آپ کے بنا ہے جی

مضطرب آپ کے بنا ہے جی یہ محبت بھی کیا بلا ہے جی جی رہا ہوں میں کتنا گھٹ گھٹ کر یہ مرا جی ہی جانتا ہے جی میرے سینے میں جو دھڑکتا ہے میرا دل ہے کہ آپ کا ہے جی آپ اس کو برا سمجھتے ہیں اپنا اپنا مشاہدہ ہے جی اتنے معصوم آپ مت بینے آپ لوگوں کو سب پتا ہے جی کیا بتاؤں کہ کتنی شدت سے تم سے ...

مزید پڑھیے

اے ابن اضطراب دل ناصبور صبر

اے ابن اضطراب دل ناصبور صبر تکلیف میں ہے باعث کیف و سرور صبر چھٹ کر رہے گی تیرگی اک دن گریز کی پھوٹے گا التفات و محبت کا نور صبر آنکھوں میں تیرتے ہیں ابھی تک کئی حروف لکھا تھا اس نے اشک سے بین السطور صبر میں کیا کروں کہ تم کو نہ ہو برہمی کبھی کس طرح دل کو آئے تمہارے حضور صبر تم ...

مزید پڑھیے

اے متوالو! ناقوں والو!!

اے متوالو ناقوں والو دیتے ہو کچھ اس کا پتا نجد کے اندر مجنوں نامی ایک ہمارا بھائی تھا آخر اس پر کیا کچھ بیتی جانو تو احوال کہو موت ملی یا لیلیٰ پائی؟ دیوانے کا مآل کہو عقل کی باتیں کہنے والے دوستوں نے اسے سمجھایا اس کو تو لیکن چپ سی لگی تھی نا بولا نا باز آیا خیر اب اس کی بات کو ...

مزید پڑھیے

بلو کا بستہ

چھوٹی سی بلو چھوٹا سا بستہ ٹھونسا ہے جس میں کاغذ کا دستہ لکڑی کا گھوڑا روئی کا بھالو چورن کی شیشی آلو کچالو بلو کا بستہ جن کی پٹاری جب اس کو دیکھو پہلے سے بھاری لٹو بھی اس میں رسی بھی اس میں ڈنڈا بھی اس میں گلی بھی اس میں اے پیاری بلو یہ تو بتاؤ کیا کام کرنے اسکول جاؤ اردو نہ ...

مزید پڑھیے

میدو کا طوطا

تین ہماری بہنیں چھوٹی مل کر کھائیں آدھی روٹی نا پتلی نا بالکل موٹی میدو ان میں سب سے چھوٹی میدو نے اک طوطا پالا اس طوطے کا رنگ نرالا نیچے نیلا اوپر کالا ٹڈے ایسی آنکھوں والا اس طوطے کی ہوئی چڑھائی دن بھر کر کے مغز کھپائی شام کو دی میدو نے دہائی اس طوطے کو لینا بھائی لاکھ پڑھائیں ...

مزید پڑھیے

انکار ہی کر دیجیے اقرار نہیں تو

انکار ہی کر دیجیے اقرار نہیں تو الجھن ہی میں مر جائے گا بیمار نہیں تو لگتا ہے کہ پنجرے میں ہوں دنیا میں نہیں ہوں دو روز سے دیکھا کوئی اخبار نہیں تو دنیا ہمیں نابود ہی کر ڈالے گی اک دن ہم ہوں گے اگر اب بھی خبردار نہیں تو کچھ تو رہے اسلاف کی تہذیب کی خوشبو ٹوپی ہی لگا لیجیے دستار ...

مزید پڑھیے

پیکر مہر و وفا روح غزل یعنی تو

پیکر مہر و وفا روح غزل یعنی تو مل گیا عشق کو اک حسن محل یعنی تو شہر خوباں میں کہاں سہل تھا دل پر قابو مضطرب دل کو ملا صبر کا پھل یعنی تو غم دل ہو غم جاناں کہ غم دوراں ہو سب مسائل کا مرے ایک ہی حل یعنی تو ڈھونڈ کر لاؤں کوئی تجھ سا کہاں سے آخر ایک ہی شخص ہے بس تیرا بدل یعنی تو پیاس ...

مزید پڑھیے

پھر اٹھایا جاؤں گا مٹی میں مل جانے کے بعد

پھر اٹھایا جاؤں گا مٹی میں مل جانے کے بعد گرچہ ہوں سہما ہوا بنیاد ہل جانے کے بعد آپ اب ہم سے ہماری خیریت مت پوچھئے آدمی خود کا کہاں رہتا ہے دل جانے کے بعد سخت جانی کی بدولت اب بھی ہم ہیں تازہ دم خشک ہو جاتے ہیں ورنہ پیڑ ہل جانے کے بعد خوف آتا ہے بلندی کی طرف چڑھتے ہوئے گل کا ...

مزید پڑھیے

ذہن و دل میں ہے جنگ یا کچھ اور

ذہن و دل میں ہے جنگ یا کچھ اور ہو رہا ہوں ملنگ یا کچھ اور حال کیا ہو گیا سماعت کا تیری باتیں تھیں سنگ یا کچھ اور کوئی اترا ہے جھیل میں دل کی اٹھ رہی ہے ترنگ یا کچھ اور تیرے ہاتھوں میں ڈور ہے یا دل ہو گیا ہوں پتنگ یا کچھ اور کوششیں رائیگاں منانے کی مجھ کو ہی تھا نہ ڈھنگ یا کچھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3794 سے 6203