ترک تعلقات نہیں چاہتا تھا میں
ترک تعلقات نہیں چاہتا تھا میں غم سے ترے نجات نہیں چاہتا تھا میں کب چاہتا تھا تیری عنایت کی بارشیں شادابیٔ حیات نہیں چاہتا تھا میں مجھ سے تو اے بہشت نظر یوں نظر نہ پھیر کیا تجھ کو تا حیات نہیں چاہتا تھا میں میں چاہتا تھا تم سے نہ جیتوں کبھی مگر کھا جاؤں خود سے مات نہیں چاہتا تھا ...