قومی زبان

سر تیرے آستاں پہ جھکائے ہوئے ہے ہم

سر تیرے آستاں پہ جھکائے ہوئے ہے ہم یعنی فراز عرش پے چھائے ہوئے ہے ہم حاصل ہمیں ہے لطف بہار جمال دوست مے خانہ آج سر پے اٹھائے ہوئے ہے ہم گم کردہ راہ کعبہ و بت خانہ سے اب دور ان منزلوں کی خاک اڑائے ہوئے ہیں ہم آ شیخ میکدے میں تیری عاقبت بخیر رحمت کو بوتلوں میں چھپائے ہوئے ہیں ...

مزید پڑھیے

سب کچھ مری قسمت کا تیرے در کے قریں ہے

سب کچھ مری قسمت کا تیرے در کے قریں ہے جینا بھی یہیں ہے مجھے مرنا بھی یہیں ہے عالم سے نرالا ہے تیرے حسن کا عالم تو خود بھی حسیں تیری محبت بھی حسیں ہے واعظ کی زباں اور یہ جنت کے فسانے کمبخت نے مے خانہ تو دیکھا ہی نہیں ہے نشترؔ کو گناہوں کی جزہ مل کے رہے گی اس کو تری رحمت پہ بھروسہ ...

مزید پڑھیے

مسافروں کے یہ وہم و گماں میں تھا ہی نہیں

مسافروں کے یہ وہم و گماں میں تھا ہی نہیں کہ راہبر تو کوئی کارواں میں تھا ہی نہیں سوال یہ ہے کہ پھر آگ لگ گئی کیسے کوئی دیا تو اندھیرے مکاں میں تھا ہی نہیں اٹھا لیے گئے ہتھیار پھر تحفظ کو کہ شہر امن میں کوئی اماں میں تھا ہی نہیں تو لازمہ اسے آنا تھا اس زمیں پر ہی کہ آدمی کا گزر ...

مزید پڑھیے

دل کی دیوانہ طبیعت کو مصیبت نہ بنا

دل کی دیوانہ طبیعت کو مصیبت نہ بنا تجھ سے یارانہ ہے یارانہ محبت نہ بنا میں تجھے دل کی سناتا ہوں مجھے تو دل کی اس سہولت کو مری جان اذیت نہ بنا ہم کو لے دے کے تعلق ہی بچا ہے تیرا اس کو مشکوک نہ کر باعث تہمت نہ بنا ایک دیوار نے رشتوں کا تقدس توڑا بھائی روکا تھا تجھے گھر میں یہ لعنت ...

مزید پڑھیے

دل کی آواز پہ بیعت بھی تو ہو سکتی ہے

دل کی آواز پہ بیعت بھی تو ہو سکتی ہے تم اگر چاہو محبت بھی تو ہو سکتی ہے میں جسے سمجھا ہوں آوارہ ہوا کی دستک تیرے آنے کی بشارت بھی تو ہو سکتی ہے زندگی تیرے تصور سے ہی مشروط نہیں تیری یادوں سے ہلاکت بھی تو ہو سکتی ہے آخری بار تجھے دیکھنا حسرت ہی نہیں مرنے والے کی ضرورت بھی تو ہو ...

مزید پڑھیے

عین مستی میں ہوں دل دنیا سے بیگانہ ہے

عین مستی میں ہوں دل دنیا سے بیگانہ ہے کیونکہ اب پیش نظر جلوۂ جانانہ ہے حشر کے روز ملاقات کا پروانہ ہے حوض کوثر مرے محبوب کا مے خانہ ہے چار عنصر کے تراشے کو تو اینویں نہ سمجھ ذرہ ذرہ مری توقیر میں دیوانہ ہے اول اول مجھے تخلیق کیا تھا اس نے عرش کے نیچے کا سارا مرا کاشانہ ...

مزید پڑھیے

دنیائے خرابات سے پہلے بھی کہیں تھا

دنیائے خرابات سے پہلے بھی کہیں تھا میں اپنی ملاقات سے پہلے بھی کہیں تھا عالم تو ابھی کل کے ہیں تخلیق مرے دوست میں ارض و سماوات سے پہلے بھی کہیں تھا میں آج بھی ہوں کل بھی کہیں ہوں گا یقیناً اور عرصۂ اوقات سے پہلے بھی کہیں تھا کہتے تھے ملائک کہ یہ انسان ہے فتنہ یعنی کہ میں خدشات ...

مزید پڑھیے

پھر تیری یاد دلاتے ہیں مجھے

پھر تیری یاد دلاتے ہیں مجھے لوگ دانستہ ستاتے ہیں مجھے زلف بردوش نشیلی آنکھیں اے وہ لوٹے لیے جاتے ہیں مجھے میں نے یہ خواب نہ دیکھا ہو کہیں وہ محبت سے بلاتے ہیں مجھے ان کے اشکوں میں بھی اب تو نشترؔ دل کے ٹکڑے نظر آتے ہیں مجھے

مزید پڑھیے

اداس دل کو محبت کا آسرا دے گی

اداس دل کو محبت کا آسرا دے گی وہ مجھ کو چھو کے مرا حوصلہ بڑھا دے گی ذرا سی بات سہی اس کا دیکھنا لیکن ذرا سی بات مری نیند ہی اڑا دے گی وہ دم درود کی عادی ہے اور مجھے شک ہے وہ اپنا پیار مجھے گھول کر پلا دے گی تم اس کی روشنی تکنے میں گم نہ ہو جانا وہ ایک لو ہے تمہیں آگ بھی لگا دے ...

مزید پڑھیے

شور سے پاک شب و روز گزارے گھر میں

شور سے پاک شب و روز گزارے گھر میں ہم کہ ترسے ہی رہے کوئی پکارے گھر میں ہم یتیموں کو کہاں آتے تھے نخرے کرنے یعنی جھگڑا نہیں ہوتا تھا ہمارے گھر میں ہم تو بس ایک ہی کونے میں پڑے رہتے تھے اور محرومی رہا کرتی تھی سارے گھر میں آیتیں کان میں پڑتی تھیں سحر ہونے پر ہم تو رہتے تھے جہاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 365 سے 6203