قومی زبان

کلیجے کرب سہتے سہتے چھلنی ہو چکے ہیں

کلیجے کرب سہتے سہتے چھلنی ہو چکے ہیں مگر اب کیا کریں ہم اس کے عادی ہو چکے ہیں ہمارے سامنے سے عشق و الفت کو اٹھا لے یہ قصے ہم تک آتے آتے ردی ہو چکے ہیں ستم اے گردش دوراں کسے دکھڑے سنائیں دلاسہ دینے والے ہاتھ مٹی ہو چکے ہیں تو کیا پیاسوں کو پانی بھی پلانے سے گئے ہم تو کیا یہ مان ...

مزید پڑھیے

مست ہوں متقی نہیں ہوں میں

مست ہوں متقی نہیں ہوں میں کام کا آدمی نہیں ہوں میں مجھ کو دنیا کی فکر لاحق ہے یعنی کوئی ولی نہیں ہوں میں تیرے معیار کا تو دور کی بات تیرے مطلب کا بھی نہیں ہوں میں مذہب عشق کا پیمبر ہوں ہاں مگر آخری نہیں ہوں میں ڈر نہیں پاس آ مرے پیارے نور ہوں روشنی نہیں ہوں میں مقتدیٰ ہوں میں ...

مزید پڑھیے

حرمت عشق تجھے داغ لگانے کا نہیں

حرمت عشق تجھے داغ لگانے کا نہیں بات بنتی نہ بنے بات سے جانے کا نہیں یا خدا خیر کہ ہم دونوں انا والے ہیں وہ بلانے کا نہیں اور میں جانے کا نہیں وحشتی ہوں سو گریبان کو آ سکتا ہوں مجھ سے ڈرنے کا مگر مجھ کو ڈرانے کا نہیں بوڑھے اعصاب کہاں سہتے ہیں اولاد کا دکھ میری تکلیف مری ماں کو ...

مزید پڑھیے

ہر وقت مرے سامنے اک جلوہ گری ہے

ہر وقت مرے سامنے اک جلوہ گری ہے میں دیکھ نہ پاؤں تو مری کم نظری ہے میں آنکھ جھپکتا ہوں تو منظر نہیں رہتا اے حسن دل آویز عجب مختصری ہے سوچوں تو یہاں کچھ بھی نہیں دیکھنے قابل دیکھوں تو تری دنیا بڑی رنگ بھری ہے دکھ درد یہاں آئیں تو واپس نہیں جاتے یہ دل کوئی آسیب زدہ بارہ دری ...

مزید پڑھیے

مفرور کبھی خود پر شرمندہ نظر آئے

مفرور کبھی خود پر شرمندہ نظر آئے ممکن ہے چھپا چہرہ آئندہ نظر آئے واللہ شرافت کیا اسلاف نے پائی تھی گردش میں رہے لیکن تابندہ نظر آئے قرباں جو ہوئے حق پر کب موت انہیں آئی صدیوں کے تسلسل میں وہ زندہ نظر آئے خورشید مقدر کے بجھنے سے بجھے کب ہم ظلمت میں ستاروں سے رخشندہ نظر ...

مزید پڑھیے

ہم سفر تو نے پروں کو جو مرے کاٹا ہے

ہم سفر تو نے پروں کو جو مرے کاٹا ہے تیرے کردار کا یہ سب سے بڑا گھاٹا ہے آئیے آپ کو دستار فضیلت دی جائے آپ نے اپنے ہی لوگوں کا گلا کاٹا ہے کوئی دستک کوئی آہٹ نہ صدا ہے کوئی دور تک روح میں پھیلا ہوا سناٹا ہے لطف یہ ہے کہ اسی شخص کے ممنون ہیں ہم جس کی تلوار نے قسطوں میں ہمیں کاٹا ...

مزید پڑھیے

اے بھنور تیری طرح بے باک ہو جائیں گے ہم

اے بھنور تیری طرح بے باک ہو جائیں گے ہم ساتھ میں رہ کر ترے تیراک ہو جائیں گے ہم دیکھ موجوں کے حوالے اس طرح مت کر ہمیں ورنہ اے ساحل ترے سفاک ہو جائیں گے ہم شاخ سے کٹ کر الگ ہونے کا ہم کو غم نہیں پھول ہیں خوشبو لٹا کر خاک ہو جائیں گے ہم ہم کبوتر کی طرح شفاف ہیں معصوم ہیں تو مٹائے گا ...

مزید پڑھیے

جو شخص مرا دست ہنر کاٹ رہا ہے

جو شخص مرا دست ہنر کاٹ رہا ہے نادان ہے شاداب شجر کاٹ رہا ہے کیا یاد نہیں ظلم کا انجام زمانے کیا سوچ کے سچائی کا سر کاٹ رہا ہے فطرت کو کئی چہروں کی پرتوں میں چھپا کر جانے یہ سزا کیسی بشر کاٹ رہا ہے تعریف غم ہجر کی کیا مجھ سے بیاں ہو اک زہر ہے جو قلب و جگر کاٹ رہا ہے دل آج ترے عہد ...

مزید پڑھیے

غم کی ترتیب سلیقے سے لگا سکتا تھا

غم کی ترتیب سلیقے سے لگا سکتا تھا یعنی میں روز ترا ہجر منا سکتا تھا صبر نے چیخ گلے سے نہیں آگے بھیجی ورنہ دیوانہ بہت شور مچا سکتا تھا غیرت عشق نے پتھر کا بنایا مجھ کو ورنہ میں خاک وہاں اڑ کے بھی جا سکتا تھا تنگیٔ دامن صد چاک ترا کیا رونا میں نمائش میں فقط زخم دکھا سکتا تھا تیری ...

مزید پڑھیے

ہجر کہتے ہیں کسے یہ کیا کسی سے پوچھنا

ہجر کہتے ہیں کسے یہ کیا کسی سے پوچھنا پوچھنا پڑ جائے بھی تو بانسری سے پوچھنا بانسری جو رو رہی ہے اصل سے کٹنے کا دکھ اصل کیا ہے یہ کسی درویش ہی سے پوچھنا ایرے غیرے سے کبھی بھی یار کی بابت نہ پوچھ اس کا جب ہو پوچھنا اس کے ولی سے پوچھنا یہ بھی کوئی بے وفائی ہے جو اپنے ساتھ ہے بے وفا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 366 سے 6203