کلیجے کرب سہتے سہتے چھلنی ہو چکے ہیں
کلیجے کرب سہتے سہتے چھلنی ہو چکے ہیں مگر اب کیا کریں ہم اس کے عادی ہو چکے ہیں ہمارے سامنے سے عشق و الفت کو اٹھا لے یہ قصے ہم تک آتے آتے ردی ہو چکے ہیں ستم اے گردش دوراں کسے دکھڑے سنائیں دلاسہ دینے والے ہاتھ مٹی ہو چکے ہیں تو کیا پیاسوں کو پانی بھی پلانے سے گئے ہم تو کیا یہ مان ...