قومی زبان

کیا ڈھونڈنے آئے ہو نظر میں

کیا ڈھونڈنے آئے ہو نظر میں دیکھا ہے تمہیں کو عمر بھر میں معیار جمال و رنگ و بو تھے وہ جب تک رہے میری چشم تر میں اب خواب و خیال بن گئے ہو اب دل میں رہو، رہو نظر میں وہ رنگ تمہارے کام آیا اڑتا ہے جو غم کی دوپہر میں ہائے یہ طویل و سرد راتیں اور ایک حیات مختصر میں اب صورت حال بن گیا ...

مزید پڑھیے

سچائی کی نمود

زندہ لہو کے عظم کی تعظیم کر نہ کر ابھرے گا اس لہو کے تموج سے انقلاب سچائی کی نمود کو تسلیم کر نہ کر کچے گھروں کی کوکھ سے پھوٹے گا انقلاب تو شب کے خد و خال میں ترمیم کر نہ کر

مزید پڑھیے

وہ میری جان ہے دل سے کبھی جدا نہ ہوا

وہ میری جان ہے دل سے کبھی جدا نہ ہوا کہ اس کا غم ہی مری زیست کا بہا نہ ہوا نظر نے جھک کے کہا مجھ سے کیا دم رخصت میں سوچتا ہوں کہ کس دل سے وہ روانہ ہوا نم صبا مئے مہتاب عطر زلف شمیم وہ کیا گیا کہ کوئی کارواں روانہ ہوا وہ یاد یاد میں جھلکا ہے آئنے کی طرح اس آئنہ میں کبھی اپنا سامنا ...

مزید پڑھیے

جو حروف لکھ گیا تھا مری آرزو کا بچپن

جو حروف لکھ گیا تھا مری آرزو کا بچپن انہیں دھو سکے نہ دل سے مری زندگی کے ساون وہ جو دن بکھر چکے ہیں وہ جو خواب مر چکے ہیں میں انہی کا ہوں مجاور مرا دل انہی کا مدفن یہی ایک آرزو تھی کہ مجھے کوئی پکارے سو پکارتی ہے اب تک مجھے اپنے دل کی دھڑکن کوئی ٹوٹتا ستارہ مجھے کاش پھر صدا دے کہ ...

مزید پڑھیے

پانی کو آگ کہہ کے مکر جانا چاہئے

پانی کو آگ کہہ کے مکر جانا چاہئے پلکوں پہ اشک بن کے ٹھہر جانا چاہئے صوت و سخن کے دائرے تحلیل ہو گئے قوس نظر سے دل میں اتر جانا چاہئے احساس کی زباں کو لغت سے نکال کر معنی کی سرحدوں سے گزر جانا چاہئے دنیا کی وسعتیں ہیں بہ اندازۂ نظر یہ دیکھنے کا کام ہے کر جانا چاہئے تنہا نظر پہ ...

مزید پڑھیے

اے بے خبری جی کا یہ کیا حال ہے کل سے

اے بے خبری جی کا یہ کیا حال ہے کل سے رونے میں مزا ہے نہ بہلتا ہے غزل سے اس شہر کی دیواروں میں ہے قید مرا غم یہ دشت کی پہنائی میں ہیں یادوں کے جلسے باتوں سے سوا ہوتی ہے کچھ وحشت دل اور احباب پریشاں ہیں مرے طرز عمل سے تنہائی کی یہ شام اداسی میں ڈھلی ہے اٹھتا ہے دھواں پھر مرے خوابوں ...

مزید پڑھیے

صبح نو مغرب میں ہے بیدار بیداروں کے ساتھ

صبح نو مغرب میں ہے بیدار بیداروں کے ساتھ اور ہم گردش میں ہیں بے نور سیاروں کے ساتھ چیختی کرنیں فضا کی دل کشی کو لے اڑیں دھوپ سایوں سے لگی ہے سائے دیواروں کے ساتھ دوش پر قابیل کے ہے لاش پھر ہابیل کی لمحے قبریں کھودتے ہیں اپنی منقاروں کے ساتھ نار نمرود اور گلزار براہیم ایک ...

مزید پڑھیے

اسی حریف کی غارت گری کا ڈر بھی تھا

اسی حریف کی غارت گری کا ڈر بھی تھا یہ دل کا درد مگر زاد رہ گزر بھی تھا یہ جسم و جان تری ہی عطا سہی لیکن ترے جہان میں جینا مرا ہنر بھی تھا اسی پہ شہر کی ساری ہوائیں برہم تھیں کہ اک دیا مرے گھر کی منڈیر پر بھی تھا مجھے کہیں کا نہ رکھا سفید پوشی نے میں گرد گرد اٹھا تھا تو معتبر بھی ...

مزید پڑھیے

اک بے انت سمندر تیری منزل اے دریا

اک بے انت سمندر تیری منزل اے دریا پھر بھی خاک اڑائیں تیرے ساحل اے دریا کتنی عمروں سے میں تیرے ساتھ سفر میں ہوں کھول اپنے اسرار کبھی تو اے دل اے دریا سینوں اور زمینوں کو نہ اگر سیراب کریں تیرا میرا ہونا ہے لا حاصل اے دریا ہم بھی پربت کاٹتے ہیں اور مٹی چاٹتے ہیں ہم بھی تیرے کنبے ...

مزید پڑھیے

کتنے پیچ و تاب میں زنجیر ہونا ہے مجھے

کتنے پیچ و تاب میں زنجیر ہونا ہے مجھے گرد میں گم خواب کی تعبیر ہونا ہے مجھے جس کی تابندہ تڑپ صدیوں میں بھی سینوں میں بھی ایک ایسے لمحے کی تفسیر ہونا ہے مجھے خستہ دم ہوتے ہوئے دیوار و در سے کیا کہوں کیسے خشت و خاک سے تعمیر ہونا ہے مجھے شہر کے معیار سے میں جو بھی ہوں جیسا بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 354 سے 6203