قومی زبان

تعمیر زندگی کو نمایاں کیا گیا

تعمیر زندگی کو نمایاں کیا گیا تخریب کائنات کا ساماں کیا گیا گلشن کی شاخ شاخ کو ویراں کیا گیا یوں بھی علاج تنگیٔ داماں کیا گیا کھوئے ہوؤں پہ تیری نظر کی نوازشیں آئینہ دے کے اور بھی حیراں کیا گیا آوارگیٔ زلف سے آسودگی ملی آسودگی ملی کہ پریشاں کیا گیا وہ خوش نصیب ہوں کہ غم ...

مزید پڑھیے

خبر

بیل نے گائے کا منہ چوما خبر بن نہ سکی دیکھنے والوں کو عرفان نظر ہو نہ سکا گھوڑے نے گھوڑی کا منہ چوما خبر بن نہ سکی ہنہنایا پہ کوئی اہل خبر ہو نہ سکا یہ خبر ہے کہ سر راہ کسی لڑکی کو چومتا پکڑا گیا ایک شرابی لڑکا وہیں قانون کی زنجیر گراں طوق بنی وہیں اخبار کی سرخی نے انہیں جا ...

مزید پڑھیے

ہم گرچہ دل و جان سے بیزار ہوئے ہیں

ہم گرچہ دل و جان سے بیزار ہوئے ہیں خوش ہیں کہ ترے غم کے سزا وار ہوئے ہیں اٹھے ہیں ترے در سے اگر صورت دیوار رخصت بھی تو جوں سایۂ دیوار ہوئے ہیں کیا کہئے نظر آتی ہے کیوں خواب یہ دنیا کیا جانیے کس خواب سے بیدار ہوئے ہیں آنکھوں میں ترے جلوے لیے پھرتے ہیں ہم لوگ ہم لوگ کہ رسوا سر ...

مزید پڑھیے

شہر لگتا ہے بیابان مجھے

شہر لگتا ہے بیابان مجھے کہیں ملتا نہیں انسان مجھے میں ترا نقش قدم ہوں اے دوست اپنے انداز سے پہچان مجھے میں تجھے جان سمجھ بیٹھا ہوں اپنے سائے کی طرح جان مجھے تو کہاں ہے کہ ترے پردے میں لیے پھرتا ہے ترا دھیان مجھے تیری خوشبو کو صبا لائی تھی کر گئی اور پریشان مجھے سر و سامان دو ...

مزید پڑھیے

اب جو مل جاؤ تو کمی نہ کروں

اب جو مل جاؤ تو کمی نہ کروں شکوہ کیسا کہ بات بھی نہ کروں کیا خبر کیسے نقش ابھر آئیں ابھی سینہ میں روشنی نہ کروں ہے وفا شرط ان کی بات رہے اپنے دل کی کہی سنی نہ کروں ذکر ان کا بھی چھڑ نہ جائے کہیں چپ رہوں اپنا ذکر بھی نہ کروں زندگی ہے تو ہے خیال ان کا خیر چاہوں تو یاد بھی نہ ...

مزید پڑھیے

ہے گلو گیر بہت رات کی پہنائی بھی

ہے گلو گیر بہت رات کی پہنائی بھی تیرا غم بھی ہے مجھے اور غم تنہائی بھی دشت وحشت میں بہ جز ریگ رواں کوئی نہیں آج کل شہر میں ہے لالۂ صحرائی بھی میں زمانے میں ترا غم ہوں بہ عنوان وفا زندگی میری سہی ہے تری رسوائی بھی آج تو نے بھی مرے حال سے منہ پھیر لیا آج نم ناک ہوئی چشم تماشائی ...

مزید پڑھیے

میں لپٹتا رہا ہوں خاروں سے

میں لپٹتا رہا ہوں خاروں سے تم نے پوچھا نہیں بہاروں سے چاندنی سے سحاب پاروں سے جی بہلتا ہے یاد گاروں سے آ مرے چاند رات سونی ہے بات بنتی نہیں ستاروں سے منزل زندگی ہے کتنی دور پوچھ لیتا ہوں رہ گزاروں سے بات جب بھی چھڑی محبت کی خامشی بول اٹھی مزاروں سے ایک بھی آفتاب بن نہ ...

مزید پڑھیے

جس کا بدن ہے خوشبو جیسا جس کی چال صبا سی ہے

جس کا بدن ہے خوشبو جیسا جس کی چال صبا سی ہے اس کو دھیان میں لاؤں کیسے وہ سپنوں کا باسی ہے پھولوں کے گجرے توڑ گئی آکاش پہ شام سلونی شام وہ راجا خود کیسے ہوں گے جن کی یہ چنچل داسی ہے کالی بدریا سیپ سیپ تو بوند بوند سے بھر جائے گا دیکھ یہ بھوری مٹی تو بس میرے خون کی پیاسی ہے جنگل ...

مزید پڑھیے

پکارتا ہوں کہ تم حاصل تمنا ہو

پکارتا ہوں کہ تم حاصل تمنا ہو اگرچہ میری صدا بھی صدا بہ صحرا ہو جہاں تمہارا ہے ہوگا وہی جو تم چاہو مجھے بھی چاہنے دو کچھ اگر تو پھر کیا ہو جہان و اہل جہاں کو کسی سے کام نہیں مرے قریب تو آؤ کہ تم بھی تنہا ہو زمانہ مدفن ایام ہے خموش رہو نہ جانے کون ہماری صدا کو سنتا ہو بھرم کھلا ...

مزید پڑھیے

بے طلب ایک قدم گھر سے نہ باہر جاؤں

بے طلب ایک قدم گھر سے نہ باہر جاؤں ورنہ میں پھاند کے ہی سات سمندر جاؤں داستانیں ہیں مکانوں کی زبانوں پہ رقم پڑھ سکوں میں تو مکانوں سے بیاں کر جاؤں میں منظم سے بھلا کیسے کروں سمجھوتا ڈوبنے والے ستاروں سے میں کیوں ڈر جاؤں روح کیا آئے نظر جسم کی دیواروں میں ان کو ڈھاؤں تو اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 353 سے 6203