آتی ہے فغاں لب پہ مرے قلب و جگر سے
آتی ہے فغاں لب پہ مرے قلب و جگر سے کھل جائے نہ یہ بھید کہیں تیری نظر سے رکھا ہے ترے غم کو ہمیشہ تر و تازہ ٹپکا لہو آنکھوں سے کبھی زخم جگر سے لے چھوڑ دیا شہر ترا کہنے پہ تیرے اب ہو گئے ہم دور بہت تیرے نگر سے دنیا پہ ہوا راز محبت کا یوں افشا تڑپایا بہت تو نے اٹھایا ہمیں در سے منسوب ...