قومی زبان

قیامت ہے شب وعدہ کا اتنا مختصر ہونا

قیامت ہے شب وعدہ کا اتنا مختصر ہونا فلک کا شام سے دست و گریبان سحر ہونا شب تاریک نے پہلو دبایا روز روشن کا زہے قسمت مرے بالیں پہ تیرا جلوہ گر ہونا ہوائے تند سے کب تک لڑے گا شعلۂ سرکش عبث ہے خود نمائی کی ہوس میں جلوہ گر ہونا دیار بے خودی ہے اپنے حق میں گوشۂ راحت غنیمت ہے گھڑی بھر ...

مزید پڑھیے

نہ چارہ گر نہ مسیحا نہ راہبر تھا میں

نہ چارہ گر نہ مسیحا نہ راہبر تھا میں نظر میں پھر بھی زمانے کی معتبر تھا میں انا پہ حرف نہ آ جائے حق پرستوں کی اٹھائے اپنے ہی نیزے پہ اپنا سر تھا میں سوال یہ نہیں کس نے کیا تھا قتل مجھے سوال یہ ہے کہ کیوں خود سے بے خبر تھا میں جو صبح نو کا اسیری میں دے رہا تھا پیام وہ انقلاب زمانہ ...

مزید پڑھیے

وہ راہبر تو نہیں تھا اعادہ کیا کرتا

وہ راہبر تو نہیں تھا اعادہ کیا کرتا بنا کے راہ میں وہ کوئی جادہ کیا کرتا نہا رہا ہو اجالوں کے جو سمندر میں وہ لے کے ظلمت شب کا لبادہ کیا کرتا ہر ایک شخص جہاں مصلحت سے ملتا ہو وہاں کسی سے کوئی استفادہ کیا کرتا نہ جس میں رنگ نہ خاکہ نہ کوئی عکس جمال بنا کے ایسی میں تصویر سادہ کیا ...

مزید پڑھیے

تھا اس کا جیسا عمل وہ ہی یار میں بھی کروں

تھا اس کا جیسا عمل وہ ہی یار میں بھی کروں ردائے وقت کو کیا داغدار میں بھی کروں معاف مجھ کو نہ کرنا کسی بھی صورت سے زمانے تجھ کو اگر اشک بار میں بھی کروں ملے جو مجھ کو بھی فرصت غم زمانہ سے کسی کے سامنے ذکر بہار میں بھی کروں جو ڈالے رہتے ہیں چہروں پہ مصلحت کی نقاب کیا ایسے لوگوں ...

مزید پڑھیے

کرم نہیں تو ستم ہی سہی روا رکھنا

کرم نہیں تو ستم ہی سہی روا رکھنا تعلقات وہ جیسے بھی ہوں سدا رکھنا کچھ اس طرح کی ہدایت ملی ہے اب کے مجھے کہ سر پہ قہر بھی ٹوٹیں تو دل بڑا رکھنا نہ آنسوؤں کی رواں نہر آنکھ سے کرنا اب اس کی یاد بھی آئے تو حوصلہ رکھنا کسے ملا ہے ملے گا کسے مراد کا پھل سو غائبانہ نوازش کی آس کیا ...

مزید پڑھیے

اس نے مجھ سے کہا تھا

ملگجی عرض غم زرد سا آسماں اور افق تا افق اور شفق در شفق سرمئی بادلوں میں اداسی کے رنگ اس کے کمرے کے ماحول میں اک ملال آفریں کیفیت اس کی نرگس سی آنکھوں میں لرزاں حنائی نشاں الاماں اس کا غنچہ دہن ادھ کھلے پھول سا اس کے رخسار پر سرخیوں کی پھبن اور براق ہاتھوں پہ رکھی ہوئی زندگی وہ ...

مزید پڑھیے

یہ جو احباب ہیں میرے سبھی کترانے لگتے ہیں

یہ جو احباب ہیں میرے سبھی کترانے لگتے ہیں نہ جانے اس غریبی سے یہ کیوں گھبرانے لگتے ہیں جو سچ کہتا ہوں میں تو کیوں برا لگتا ہے لوگوں کو ہر اک جانب سے جو پتھر مرے گھر آنے لگتے ہیں جو قاتل ہیں وہ پھرتے ہیں شریفوں کی طرح لیکن ستم کیوں بے گناہوں پر ستمگر ڈھانے لگتے ہیں امیر شہر جب ...

مزید پڑھیے

قدر و قیمت

سنا ہے ریشم کے کیڑوں نے پتوں کی ہریالی چاٹی شبنم کے قطروں کی دمک بھی پھولوں کے رنگوں کو چرایا چاند کی کرنوں کے لچھوں سے ریشم کاتا اور اک تھان کیا تیار جس کو پا لینے کی خاطر شیریں نے فرہاد کو بیچا ہیر نے ہیرے لیلیٰ نے زلفوں کی سیاہی لیکن سودا ہو نہ سکا اب پھولوں میں رنگ نہیں ہے شبنم ...

مزید پڑھیے

شکایت

شفق کی دلہن اپنے غرفے سے کب تک مجھے دیکھ کر مسکراتی رہے گی سنہری لبادے کی زر کار کرنیں کہاں تک یوں ہی گنگناتی رہیں گی کہاں تک زمرد کے پردے پہ یہ سرخ پھولوں کے نغمے مچلتے رہیں گے کہ آخر کوئی چاند کوئی اندھیرا کسی شرق تیرہ کے در سے نکل کر ابھی اس کو پہنائے گا تیرگی کا وہ جامہ کہ اس کی ...

مزید پڑھیے

درد و غم رنج و الم آہ و فغاں

درد و غم رنج و الم آہ و فغاں سرگزشت عشق کی ہیں سرخیاں دل ہے میرا مائل فریاد آج دیکھ کر ان کے تغافل کا سماں اک ذرا رک جائیے سن لیجئے اس دل رنجور کی بھی داستاں آپ نے تو اک نظر دیکھا فقط جل گیا تاب و تواں کا آشیاں اے دل غمگیں نہ رو اس دور میں کون سنتا ہے کسی کی داستاں آتش الفت تو کب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 351 سے 6203