کام دیوانوں کو شہروں سے نہ بازاروں سے
کام دیوانوں کو شہروں سے نہ بازاروں سے مست ہیں عالم ایجاد کے نظاروں سے زلفیں بل کھاتی ہیں یا جھومتی ہے کالی گھٹا بارش نور ہے ہر سو ترے رخساروں سے واں نقاب اٹھی یہاں چاندنی نے کھیت کیا کٹ گئی ظلمت شب چاند سے رخساروں سے دیکھتا رہ گیا آئینہ کسی کی صورت زلفیں اٹکھیلیاں کرتی رہیں ...