قومی زبان

کام دیوانوں کو شہروں سے نہ بازاروں سے

کام دیوانوں کو شہروں سے نہ بازاروں سے مست ہیں عالم ایجاد کے نظاروں سے زلفیں بل کھاتی ہیں یا جھومتی ہے کالی گھٹا بارش نور ہے ہر سو ترے رخساروں سے واں نقاب اٹھی یہاں چاندنی نے کھیت کیا کٹ گئی ظلمت شب چاند سے رخساروں سے دیکھتا رہ گیا آئینہ کسی کی صورت زلفیں اٹکھیلیاں کرتی رہیں ...

مزید پڑھیے

دامن قاتل جو اڑ اڑ کر ہوا دینے لگے

دامن قاتل جو اڑ اڑ کر ہوا دینے لگے کیا بتاؤں زخم دل کیا کیا دعا دینے لگے وائے ناکامی کہاں سفاک نے روکا ہے ہاتھ زخم ہائے شوق جب کچھ کچھ مزا دینے لگے چارہ سازو مجھ سے رسوا جاں بلب بیمار کو زہر دینا چاہئے تھا تم دوا دینے لگے یاس و حرماں آہ سوزاں اشک خوں داغ جنوں حضرت عشق اور کیا اس ...

مزید پڑھیے

دیتی ہے وحشت دل پھر مجھے تعبیر بہار

دیتی ہے وحشت دل پھر مجھے تعبیر بہار جلوہ گر خواب میں رہنے لگی تصویر بہار سلسلہ چھڑ گیا پھر دل کی گرفتاری کا پھر نسیم آج ہلانے لگی زنجیر بہار حسن اور عشق کی دنیا میں پڑے گی ہلچل فتنہ انگیز و جنوں خیز ہے تاثیر بہار تنگ آنے لگے دیوانے گریبانوں سے کچھ تو اے دست جنوں چاہیے تدبیر ...

مزید پڑھیے

اگر اپنی چشم نم پر مجھے اختیار ہوتا

اگر اپنی چشم نم پر مجھے اختیار ہوتا تو بھلا یہ راز الفت کبھی آشکار ہوتا ہے تنک مزاج صیاد کچھ اپنا بس نہیں ہے میں قفس کو لے کے اڑتا اگر اختیار ہوتا یہ ذرا سی اک جھلک نے دل و جاں کو یوں جلایا تری برق حسن سے پھر کوئی کیا دو چار ہوتا اجی توبہ اس گریباں کی بھلا بساط کیا تھی یہ کہو کہ ...

مزید پڑھیے

اپنی ہستی خود ہم آغوش فنا ہو جائے گی

اپنی ہستی خود ہم آغوش فنا ہو جائے گی موج دریا آب ساحل آشنا ہو جائے گی تہ کا اندیشہ رہے گا پھر نہ ساحل کی ہوس دل سے جب قطع امید بے وفا ہو جائے گی شب کی شب بزم طرب ہے پردہ دار انقلاب صبح تک آئینۂ عبرت نما ہو جائے گی جان ایماں ہے ابھی وہ آنکھ شرمائی ہوئی کیفیت میں ڈوب کر کیا جانے ...

مزید پڑھیے

سب ترے سوا کافر آخر اس کا مطلب کیا

سب ترے سوا کافر آخر اس کا مطلب کیا سر پھرا دے انساں کا ایسا خبط مذہب کیا اک اشارۂ فردا ایک جنبش لب کیا دیکھ دکھاتا ہے وعدہ‌ تذبذب کیا چلو بھر میں متوالی دو ہی گھونٹ میں خالی یہ بھری جوانی کیا جذبۂ لبالب کیا ہاں دعائیں لیتا جا گالیاں بھی دیتا جا تازگی تو کچھ پہنچے چاہتا رہوں ...

مزید پڑھیے

انسان سے انسان کو نفرت نہیں اچھی

انسان سے انسان کو نفرت نہیں اچھی احسان جتانے کی بھی عادت نہیں اچھی بھائی کی برائی جو کیا کرتا ہے ہر دم ہر ایسے منافق کی محبت نہیں اچھی ذلت کے سوا اور نہ کچھ اس کو ملے گا مکار و گنہ گار کی صحبت نہیں اچھی کرتا ہے امانت میں خیانت جو سراسر ہر ایسے بشر سے کوئی نسبت نہیں اچھی آئے نہ ...

مزید پڑھیے

محبت کرنے والوں کی عنایت بھی ضروری ہے

محبت کرنے والوں کی عنایت بھی ضروری ہے جو ہے سچی محبت تو صداقت بھی ضروری ہے مسلماں ہو کہ ہندو ہو یہودی ہو کہ عیسائی خدا کے ایک اک بندے پہ طاعت بھی ضروری ہے گنہ کوئی اگر ہو جائے تم سے جانے انجانے بہانا اشک تم بے حد ندامت بھی ضروری ہے خدا کا واسطہ ظالم کو دے کر پہلے سمجھاؤ جو نہ ...

مزید پڑھیے

موت آئی آنے دیجیے پروا نہ کیجیے

موت آئی آنے دیجیے پروا نہ کیجیے منزل ہے ختم سجدۂ شکرانہ کیجیے زنہار ترک لذت ایذا نہ کیجیے ہرگز گناہ عشق سے توبہ نہ کیجیے نا آشنائے حسن کو کیا اعتبار عشق اندھوں کے آگے بیٹھ کے رویا نہ کیجیے تاکہ خبر بھی لائیے ساحل کے شوق میں کوشش بقدر ہمت مردانہ کیجیے وہ دن گئے کہ دل کو ہوس ...

مزید پڑھیے

مجھے دل کی خطا پر یاسؔ شرمانا نہیں آتا

مجھے دل کی خطا پر یاسؔ شرمانا نہیں آتا پرایا جرم اپنے نام لکھوانا نہیں آتا مجھے اے ناخدا آخر کسی کو منہ دکھانا ہے بہانہ کر کے تنہا پار اتر جانا نہیں آتا مصیبت کا پہاڑ آخر کسی دن کٹ ہی جائے گا مجھے سر مار کر تیشے سے مر جانا نہیں آتا دل بے حوصلہ ہے اک ذرا سی ٹھیس کا مہماں وہ آنسو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 350 سے 6203