برگشتہ اور وہ بت بے پیر ہو نہ جائے
برگشتہ اور وہ بت بے پیر ہو نہ جائے الٹی کہیں دعاؤں کی تاثیر ہو نہ جائے دل جل کے خاک ہو تو پھر اکسیر ہو نہ جائے جاں سوز ہوں جو نالے تو تاثیر ہو نہ جائے کس سادگی سے مجرموں نے سر جھکا لیا محجوب کیوں وہ مالک تقدیر ہو نہ جائے دست دعا تک اٹھ نہ سکے فرط شرم سے یا رب کسی سے ایسی بھی تقصیر ...