قومی زبان

فکر انجام نہ آغاز کا کچھ ہوش رہا

فکر انجام نہ آغاز کا کچھ ہوش رہا چار دن تک تو جوانی کا عجب جوش رہا میں قفس میں بھی کسی روز نہ خاموش رہا کشمکش میں بھی طبیعت کا وہی جوش رہا نشۂ الفت ساقی کا عجب جوش رہا ہول صحرائے قیامت بھی فراموش رہا غیر ہوں جرعہ کش بزم تمنا افسوس خون کے گھونٹ میں پیتا رہا خاموش رہا ہیچ آفت ...

مزید پڑھیے

دل بے تاب کو کب وصل کا یارا ہوتا

دل بے تاب کو کب وصل کا یارا ہوتا شادیٔ دولت دیدار نے مارا ہوتا شب غم زہر ہی کھانے کا مزہ تھا ورنہ انتظار سحر وصل نے مارا ہوتا شب ہجراں کی بلا ٹالے نہیں ٹلتی ہے بھور کر دیتے اگر زور ہمارا ہوتا آئی جس شان سے مدفن میں سواری میری دیکھتے غیر تو مرنا ہی گوارا ہوتا کیوں نہ سینے سے لگی ...

مزید پڑھیے

مزہ گناہ کا جب تھا کہ با وضو کرتے

مزہ گناہ کا جب تھا کہ با وضو کرتے بتوں کو سجدہ بھی کرتے تو قبلہ رو کرتے کبھی نہ پرورش نخل آرزو کرتے نمو سے پہلے جو اندیشۂ نمو کرتے سنیں نہ دل سے تو پھر کیا پڑی تھی خاروں کو کہ گل کو محرم انجام رنگ و بو کرتے گناہ تھا بھی تو کیسا گناہ بے لذت قفس میں بیٹھ کے کیا یاد رنگ و بو ...

مزید پڑھیے

محروم شہادت کی ہے کچھ تجھ کو خبر بھی

محروم شہادت کی ہے کچھ تجھ کو خبر بھی او دشمن جاں دیکھ ذرا پھر کے ادھر بھی ہے جان کے ساتھ اور اک ایمان کا ڈر بھی وہ شوخ کہیں دیکھ نہ لے مڑ کے ادھر بھی وہ ہم سے نہیں ملتے ہم ان سے نہیں ملتے اک ناز دل آویز ادھر بھی ہے ادھر بھی ٹھنڈا ہو کلیجا مرا اس آہ سحر سے جب دل کی طرح جلنے لگے غیر ...

مزید پڑھیے

کارگاہ دنیا کی نیستی بھی ہستی ہے

کارگاہ دنیا کی نیستی بھی ہستی ہے اک طرف اجڑتی ہے ایک سمت بستی ہے بے دلوں کی ہستی کیا جیتے ہیں نہ مرتے ہیں خواب ہے نہ بیداری ہوش ہے نہ مستی ہے کیا بتاؤں کیا ہوں میں قدرت خدا ہوں میں میری خود پرستی بھی عین حق پرستی ہے کیمیائے دل کیا ہے خاک ہے مگر کیسی لیجئے تو مہنگی ہے بیچئے تو ...

مزید پڑھیے

قصہ کتاب عمر کا کیا مختصر ہوا

قصہ کتاب عمر کا کیا مختصر ہوا رخ داستان غم کا ادھر سے ادھر ہوا ماتم سرائے دہر میں کس کس کو روئیے اے وائے درد دل نہ ہوا درد سر ہوا تسکین دل کو راز خودی پوچھتا ہے کیا کہنے کو کہہ دوں اور اگر الٹا اثر ہوا آزاد ہو سکا نہ گرفتار شش جہت دل مفت بندۂ ہوس بال و پر ہوا دنیا کے ساتھ دین کی ...

مزید پڑھیے

غضب کی دھوم شبستان روزگار میں ہے

غضب کی دھوم شبستان روزگار میں ہے کشش بلا کی تماشائے ناگوار میں ہے دکھائی آج ہی آنکھوں نے صورت فردا خزاں کی سیر بھی ہنگامۂ بہار میں ہے غبار بن کے لپٹتی ہے دامن دل سے مٹے پہ بھی وہی دل بستگی بہار میں ہے دعائے شوق کجا ایک ہاتھ ہے دل پر اور ایک ہاتھ گریبان تار تار میں ہے ہنوز گوش ...

مزید پڑھیے

خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا

خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا خدا بنے تھے یگانہؔ مگر بنا نہ گیا پیام زیر لب ایسا کہ کچھ سنا نہ گیا اشارہ پاتے ہی انگڑائی لی رہا نہ گیا ہنسی میں وعدۂ فردا کو ٹالنے والو لو دیکھ لو وہی کل آج بن کے آ نہ گیا گناہ زندہ دلی کہیے یا دل آزاری کسی پہ ہنس لیے اتنا کہ پھر ہنسا نہ ...

مزید پڑھیے

قفس کو جانتے ہیں یاسؔ آشیاں اپنا

قفس کو جانتے ہیں یاسؔ آشیاں اپنا مکان اپنا زمین اپنی آسماں اپنا ہوائے تند میں ٹھہرا نہ آشیاں اپنا چراغ جل نہ سکا زیر آسماں اپنا سنا ہے رنگ زمانہ کا اعتبار نہیں بدل نہ جائے یقیں سے کہیں گماں اپنا بس ایک سایۂ دیوار یار کیا کم ہے اٹھا لے سر سے مرے سایہ آسماں اپنا مزے کے ساتھ ہوں ...

مزید پڑھیے

رہے دنیا میں محکوم دل بے مدعا ہو کر

رہے دنیا میں محکوم دل بے مدعا ہو کر خوشا انجام اٹھے بھی تو محروم دعا ہو کر وطن کو چھوڑ کر جس سر زمیں کو میں نے عزت دی وہی اب خون کی پیاسی ہوئی ہے کربلا ہو کر بتاؤ ایسے بندے پر ہنسی آئے کہ غیظ آئے دعا مانگے مصیبت میں جو قصداً مبتلا ہو کر کھلا آخر فریب مے چلا جب درد کا ساغر بندھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 348 سے 6203