قومی زبان

آہ بیمار کارگر نہ ہوئی

آہ بیمار کارگر نہ ہوئی چرخ کانپا مگر سحر نہ ہوئی صبح محشر ہوئی شب تاریک صورت یار جلوہ گر نہ ہوئی شب امید کٹ گئی لیکن زندگی اپنی مختصر نہ ہوئی دور سے آج ان کو دیکھ لیا دل کو تسکیں ہوئی مگر نہ ہوئی آنکھوں آنکھوں میں لے لیا وعدہ کانوں کان ایک کو خبر نہ ہوئی اف ری چشم عتاب اف رے ...

مزید پڑھیے

یکساں کبھی کسی کی نہ گزری زمانے میں

یکساں کبھی کسی کی نہ گزری زمانے میں یادش بخیر بیٹھے تھے کل آشیانے میں صدمے دیے تو صبر کی دولت بھی دے گا وہ کس چیز کی کمی ہے سخی کے خزانے میں غربت کی موت بھی سبب ذکر خیر ہے گر ہم نہیں تو نام رہے گا زمانے میں دم بھر میں اب مریض کا قصہ تمام ہے کیونکر کہوں یہ رات کٹے گی فسانے ...

مزید پڑھیے

پچھلے کو اٹھ کھڑا نہ ہو درد جگر کہیں

پچھلے کو اٹھ کھڑا نہ ہو درد جگر کہیں پہنچے نہ اڑتے اڑتے کہیں سے خبر کہیں کیفیت حیات سے خالی ہوا ہے دل او ساقیٔ ازل مرا پیمانہ بھر کہیں مر جائیں گے تڑپ کے اسیران بدنصیب سن پائیں گے جو مژدۂ وحشت اثر کہیں پھڑکا کیے مرقع عالم کے حسن پر ٹھہری کبھی نہ اہل ہوس کی نظر کہیں آخر حجاب و ...

مزید پڑھیے

زمانے پر نہ سہی دل پہ اختیار رہے

زمانے پر نہ سہی دل پہ اختیار رہے دکھا وہ زور کہ دنیا میں یادگار رہے کہاں تلک دل غم ناک پردہ دار رہے زبان حال پہ جب کچھ نہ اختیار رہے نظام دہر نے کیا کیا نہ کروٹیں بدلیں مگر ہم ایک ہی پہلو سے بے قرار رہے ہنسی میں لغزش مستانہ اڑ گئی واللہ تو بے گناہوں سے اچھے گناہ گار رہے ابھارتی ...

مزید پڑھیے

آپ سے آپ عیاں شاہد معنی ہوگا

آپ سے آپ عیاں شاہد معنی ہوگا ایک دن گردش افلاک سے یہ بھی ہوگا آنکھیں بنوایئے پہلے ذرا اے حضرت قیس کیا انہیں آنکھوں سے نظارۂ لیلی ہوگا شوق میں دامن یوسف کے اڑیں گے ٹکڑے دست گستاخ سے کیا دور ہے یہ بھی ہوگا لاکھوں اس حسن پہ مر جائیں گے دیکھادیکھی کوئی غش ہوگا کوئی محو تجلی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 347 سے 6203