یوسف کو اس انجمن میں کیا ڈھونڈھتا ہے
یوسف کو اس انجمن میں کیا ڈھونڈھتا ہے ہنگامۂ ما و من میں کیا ڈھونڈھتا ہے نیرنگ تماشا ہے حجاب معنی تصویر کے پیرہن میں کیا ڈھونڈھتا ہے
یوسف کو اس انجمن میں کیا ڈھونڈھتا ہے ہنگامۂ ما و من میں کیا ڈھونڈھتا ہے نیرنگ تماشا ہے حجاب معنی تصویر کے پیرہن میں کیا ڈھونڈھتا ہے
دیکھے ہیں بہت چمن اجڑتے بستے کیا کیا گل پیرہن لٹے ہیں سستے اے زندہ دلان باغ اتنا نہ ہنسو آنسو بھی نکل آتے ہیں ہنستے ہنستے
صبح ازل و شام ابد کچھ بھی نہیں اک وسعت موہوم ہے حد کچھ بھی نہیں کیا جانئے کیا ہے عالم کون و فساد دعوے تو بہت کچھ ہیں سند کچھ بھی نہیں
رونا ہے بدا جنہیں وہ جم جم روئیں جب عیش مہیا ہو تو ہم کیوں کھوئیں فردا معلوم و راز فردا معلوم رات اپنی ہے پھر کیوں نہ مزے سے سوئیں
درد اپنا کچھ اور ہے دوا ہے کچھ اور ٹوٹے ہوئے دل کا آسرا ہے کچھ اور ایسے ویسے خدا تو بہتیرے ہیں میں بندہ ہوں جس کا وہ خدا ہے کچھ اور
آہ بیمار کارگر نہ ہوئی چرخ کانپا مگر سحر نہ ہوئی صبح محشر ہوئی شب تاریک صورت یار جلوہ گر نہ ہوئی شب امید کٹ گئی لیکن زندگی اپنی مختصر نہ ہوئی دور سے آج ان کو دیکھ لیا دل کو تسکیں ہوئی مگر نہ ہوئی آنکھوں آنکھوں میں لے لیا وعدہ کانوں کان ایک کو خبر نہ ہوئی اف ری چشم عتاب اف رے ...
یکساں کبھی کسی کی نہ گزری زمانے میں یادش بخیر بیٹھے تھے کل آشیانے میں صدمے دیے تو صبر کی دولت بھی دے گا وہ کس چیز کی کمی ہے سخی کے خزانے میں غربت کی موت بھی سبب ذکر خیر ہے گر ہم نہیں تو نام رہے گا زمانے میں دم بھر میں اب مریض کا قصہ تمام ہے کیونکر کہوں یہ رات کٹے گی فسانے ...
پچھلے کو اٹھ کھڑا نہ ہو درد جگر کہیں پہنچے نہ اڑتے اڑتے کہیں سے خبر کہیں کیفیت حیات سے خالی ہوا ہے دل او ساقیٔ ازل مرا پیمانہ بھر کہیں مر جائیں گے تڑپ کے اسیران بدنصیب سن پائیں گے جو مژدۂ وحشت اثر کہیں پھڑکا کیے مرقع عالم کے حسن پر ٹھہری کبھی نہ اہل ہوس کی نظر کہیں آخر حجاب و ...
زمانے پر نہ سہی دل پہ اختیار رہے دکھا وہ زور کہ دنیا میں یادگار رہے کہاں تلک دل غم ناک پردہ دار رہے زبان حال پہ جب کچھ نہ اختیار رہے نظام دہر نے کیا کیا نہ کروٹیں بدلیں مگر ہم ایک ہی پہلو سے بے قرار رہے ہنسی میں لغزش مستانہ اڑ گئی واللہ تو بے گناہوں سے اچھے گناہ گار رہے ابھارتی ...
آپ سے آپ عیاں شاہد معنی ہوگا ایک دن گردش افلاک سے یہ بھی ہوگا آنکھیں بنوایئے پہلے ذرا اے حضرت قیس کیا انہیں آنکھوں سے نظارۂ لیلی ہوگا شوق میں دامن یوسف کے اڑیں گے ٹکڑے دست گستاخ سے کیا دور ہے یہ بھی ہوگا لاکھوں اس حسن پہ مر جائیں گے دیکھادیکھی کوئی غش ہوگا کوئی محو تجلی ...