قومی زبان

ایک جنبش میں کٹ بھی سکتے ہیں

ایک جنبش میں کٹ بھی سکتے ہیں دھار پر رکھے سب کے چہرے ہیں ریت کا ہم لباس پہنے ہیں اور ہوا کے سفر پہ نکلے ہیں میں نے اپنی زباں تو رکھ دی ہے دیکھوں پتھر یہ نم بھی ہوتے ہیں ایسے لوگوں سے ملنا جلنا ہے سانپ جو آستیں میں پالے ہیں کوئی پرساں نہیں غموں کا ظفرؔ دیکھنے میں ہزار رشتے ہیں

مزید پڑھیے

لبوں پر پیاس سب کے بے کراں ہے

لبوں پر پیاس سب کے بے کراں ہے ہر اک جانب مگر اندھا کنواں ہے ہے کوئی عکس رنگیں آئنہ پر جب ہی تو آئنہ میں کہکشاں ہے جدائی کا نہ قصہ وصل کا ہے ادھوری کس قدر یہ داستاں ہے کسی سے کوئی بھی ملتا نہیں اب ہر اک انساں یہاں تو بد گماں ہے نہیں کچھ بولتے ہیں جبر سہہ کر لگے ترشی ہوئی سب کی ...

مزید پڑھیے

تو اگر غیر ہے نزدیک رگ جاں کیوں ہے

تو اگر غیر ہے نزدیک رگ جاں کیوں ہے نا شناسا ہے تو پھر محرم پنہاں کیوں ہے ہجر کے دور میں ہر دور کو شامل کر لیں اس میں شامل یہی اک عمر گریزاں کیوں ہے آج کی شب تو بجھا رکھے ہیں یادوں کے چراغ آج کی شب مری پلکوں پہ چراغاں کیوں ہے اور بھی لوگ ہیں موجود بیابانوں میں دست وحشت میں فقط ...

مزید پڑھیے

وہ نہیں اس کی مگر جادوگری موجود ہے

وہ نہیں اس کی مگر جادوگری موجود ہے اک سحر آلود مجھ میں بے خودی موجود ہے صف بہ صف دشمن ہی دشمن ہیں مرے چاروں طرف حوصلہ دیکھو کہ پھر بھی زندگی موجود ہے بجھ گئی ہے بستیوں کی آگ اک مدت ہوئی ذہن میں لیکن ابھی تک شعلگی موجود ہے باد صرصر چل رہی ہے اور اس کے باوجود پھر بھی شمعوں میں ...

مزید پڑھیے

دل و نگاہ کو ویران کر دیا میں نے

دل و نگاہ کو ویران کر دیا میں نے شکست خواب کا اعلان کر دیا میں نے جو تیر آئے تھے اس کی طرف سے سینے پر سجا کے زخموں کا گلدان کر دیا میں نے غموں کا تاج مرے سر پہ جب سے رکھا ہے خود اپنے آپ کو سلطان کر دیا میں نے نہ کوئی پھول ہی رکھا نہ آرزو نہ چراغ تمام گھر کو بیابان کر دیا میں نے وہ ...

مزید پڑھیے

جو بے گھر ہیں انہیں گھر کی دعا دیتی ہیں دیواریں

جو بے گھر ہیں انہیں گھر کی دعا دیتی ہیں دیواریں پھر اپنے سائے میں ان کو سلا دیتی ہیں دیواریں اسیری ہی مقدر ہے تو کوئی کیا کرے آخر مقید کر کے اپنے میں سزا دیتی ہیں دیواریں ہماری زیست میں ایسے بھی لمحے آتے ہیں اکثر دراروں کے توسط سے ہوا دیتی ہیں دیواریں مری چیخیں فصیلوں سے کبھی ...

مزید پڑھیے

ایک اک پل ترا نایاب بھی ہو سکتا ہے

ایک اک پل ترا نایاب بھی ہو سکتا ہے حوصلہ ہو تو ظفر یاب بھی ہو سکتا ہے بپھری موجوں سے الجھنے کا سلیقہ ہے اگر یہ سمندر کبھی پایاب بھی ہو سکتا ہے عمر تپتے ہوئے صحرا میں بسر کی جس نے تو سرابوں سے وہ سیراب بھی ہو سکتا ہے آپ دریا کی روانی سے نہ الجھیں ہرگز تہہ میں اس کے کوئی گرداب بھی ...

مزید پڑھیے

زندگی کو کر گیا جنگل کوئی

زندگی کو کر گیا جنگل کوئی لے گیا خوشیوں کا میری پل کوئی دھنس رہا ہے ہر قدم میرا یہاں راہ میں درپیش ہے دلدل کوئی کوئی کنکر پھینکنے والا نہیں کیسے پھر ہو جھیل میں ہلچل کوئی زندگی تھی ایک صحرا کی طرح زندگی کو کر گیا جل تھل کوئی ہوش بھی اپنا نہیں رہتا مجھے کر رہا کتنا ظفرؔ پاگل ...

مزید پڑھیے

پائی ہمیشہ ریت بھنور کاٹنے کے بعد

پائی ہمیشہ ریت بھنور کاٹنے کے بعد تشنہ لبی کا لمبا سفر کاٹنے کے بعد کچھ ایسے کم نظر بھی مسافر ہمیں ملے جو سایہ ڈھونڈتے ہیں شجر کاٹنے کے بعد فن کی ہمارے آج بھی شہرت ہے ہر طرف وہ مطمئن تھا دست ہنر کاٹنے کے بعد اتری ہوئی ہے دھوپ بدن کے حصار میں قربت کے فاصلوں کا سفر کاٹنے کے ...

مزید پڑھیے

سر بریدہ ہوا مقابل ہے

سر بریدہ ہوا مقابل ہے سب کی آنکھوں میں خوف شامل ہے تھا محافظ کبھی یہی انساں آج انسانیت کا قاتل ہے بستیاں پھونکنا جلانا گھر کیا یہی آدمی کا حامل ہے وقت کب اس کا ساتھ دیتا ہے روز فردا سے جو کہ غافل ہے جس نے بخشا تھا زندگی کو فروغ اب وہ دہشت گروں میں شامل ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 299 سے 6203