قومی زبان

فرض برسوں کی عبادت کا ادا ہو جیسے

فرض برسوں کی عبادت کا ادا ہو جیسے بت کو یوں پوج رہے ہیں کہ خدا ہو جیسے ایک پر پیچ غنا ایک حریری نغمہ ہائے وہ حسن کہ جنگل کی صدا ہو جیسے عشق یوں وادئ ہجراں میں ہوا محو خرام خارزاروں میں کوئی آبلہ پا ہو جیسے عارضوں پر وہ ترے تابش پیمان وفا چاندنی رات کے چہرے پہ حیا ہو جیسے اس طرح ...

مزید پڑھیے

کچھ بس نہ چلا جذبۂ خود کام کے آگے

کچھ بس نہ چلا جذبۂ خود کام کے آگے جھکنا ہی پڑا اس بت بدنام کے آگے اک اور بھی حسرت ہے پس حسرت دیدار اک اور بھی آغاز ہے انجام کے آگے آ اور ادھر کوئی تجلی کی کرن پھینک بیٹھے ہیں گدا تیرے در و بام کے آگے یہ عشق ہے بازیچۂ اطفال نہیں ہے کچھ اور بھی ہے کوچۂ اصنام کے آگے یوں ان کی جفاؤں ...

مزید پڑھیے

عارض شمع پہ نیند آ گئی پروانوں کو

عارض شمع پہ نیند آ گئی پروانوں کو خواب سے اب نہ جگائے کوئی دیوانوں کو ان کو معلوم ہے رندوں کی تمنا کیا ہے عکس رخ ڈال کے بھر دیتے ہیں پیمانوں کو اے دل زار ادھر چل یہ تذبذب کیا ہے وہ تو آنکھوں پہ اٹھا لیتے ہیں مہمانوں کو وہ بھی متلاشیٔ یک جلوۂ گم گشتہ ہیں ہم نے نزدیک سے دیکھا ہے ...

مزید پڑھیے

موسم بدلا رت گدرائی اہل جنوں بے باک ہوئے

موسم بدلا رت گدرائی اہل جنوں بے باک ہوئے فصل بہار کے آتے آتے کتنے گریباں چاک ہوئے گل بوٹوں کے رنگ اور نقشے اب تو یوں ہی مٹ جائیں گے ہم کہ فروغ صبح چمن تھے پابند فتراک ہوئے مہر تغیر اس دھج سے آفاق کے ماتھے پر چمکا صدیوں کے افتادہ ذرے ہم دوش افلاک ہوئے دل کے غم نے درد جہاں سے مل کے ...

مزید پڑھیے

طلب آسودگی کی عرصۂ دنیا میں رکھتے ہیں

طلب آسودگی کی عرصۂ دنیا میں رکھتے ہیں امید فصل گل ہے اور قدم صحرا میں رکھتے ہیں ہوئے ہیں اس قدر مانوس ہم پیمان فردا سے کہ اب دل کا سفینہ ہجر کے دریا میں رکھتے ہیں بشر کو دیکھیے با ایں ہمہ ساحل پہ مرتا ہے حباب اپنا اثاثہ سیل بے پروا میں رکھتے ہیں ہمارے پاس کوئی گردش دوراں نہیں ...

مزید پڑھیے

ہم راہ لطف چشم گریزاں بھی آئے گی

ہم راہ لطف چشم گریزاں بھی آئے گی وہ آئیں گے تو گردش دوراں بھی آئے گی نکلے گی بوئے زلف ہماری تلاش میں صحرا میں اب ہوائے گلستاں بھی آئے گی وہ جن کو اپنے ترک تعلق پہ ناز تھا آج ان کو یاد صحبت یاراں بھی آئے گی ہم خود ہی بے لباس رہے اس خیال سے وحشت بڑھی تو سوئے گریباں بھی آئے گی طے ہو ...

مزید پڑھیے

اب مری یاد کو دامن کی ہوائیں دینا

اب مری یاد کو دامن کی ہوائیں دینا میں گیا وقت ہوں مجھ کو نہ صدائیں دینا سخت بے جلوہ و بے نور ہیں لمحات فراق دل بہل جائے گا چہرے کی ضیائیں دینا ہجر کی پیاس سے جلتے ہیں بگولوں کے دہن خشک صحراؤں کو زلفوں کی گھٹائیں دینا یاد آتے ہیں جوانی کے جنوں خیز ایام مضطرب ہو کے بیاباں کو ...

مزید پڑھیے

عارض شمع پہ نیند آ گئی پروانوں کو

عارض شمع پہ نیند آ گئی پروانوں کو خواب سے اب نہ جگائے کوئی دیوانوں کو ان کو معلوم ہے رندوں کی تمنا کیا ہے عکس رخ ڈال کے بھر دیتے ہیں پیمانوں کو اے دل زار ادھر چل یہ تذبذب کیا ہے وہ تو آنکھوں پہ اٹھا لیتے ہیں مہمانوں کو ہو گئے صاف عیاں روح و بدن کے ناسور روشنی مار گئی آج کے ...

مزید پڑھیے

ہر آدمی کہاں اوج کمال تک پہنچا

ہر آدمی کہاں اوج کمال تک پہنچا عروج حد سے بڑھا تو زوال تک پہنچا خود اپنے آپ میں جھنجھلا کے رہ گیا آخر مرا جواب جب اس کے سوال تک پہنچا غبار کذب سے دھندلا رہا ہمیشہ جو وہ آئنہ مرے کب خد و خال تک پہنچا چلو نہ سر کو اٹھا کر غرور سے اپنا گرا ہے جو بھی بلندی سے ڈھال تک پہنچا جسے ...

مزید پڑھیے

دریا گزر گئے ہیں سمندر گزر گئے

دریا گزر گئے ہیں سمندر گزر گئے پیاسا رہا میں کتنے ہی منظر گزر گئے اس جیسا دوسرا نہ سمایا نگاہ میں کتنے حسین آنکھوں سے پیکر گزر گئے کچھ تیر میرے سینے میں پیوست ہو گئے کچھ تیر میرے سینے سے باہر گزر گئے آنسو بیان کرنے سے قاصر رہے جنہیں کیا کیا نہ زخم ذات کے اندر گزر گئے اک چوٹ دل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 298 سے 6203