قومی زبان

چمکا جو تیرگی میں اجالا بکھر گیا

چمکا جو تیرگی میں اجالا بکھر گیا ننھا سا ایک جگنو بڑا کام کر گیا وہ نیند کے سفر میں تو مخمور تھا بہت آنکھیں کھلیں تو خواب کے منظر سے ڈر گیا آنسو تھے اس قدر مری چشم ملال میں ہر گوشہ گوشہ شہر کا اشکوں سے بھر گیا پھیلی ہوئی ہے چاندنی احساس میں مرے یہ کون میری ذات کے اندر اتر ...

مزید پڑھیے

رابطہ کیوں رکھوں میں دریا سے

رابطہ کیوں رکھوں میں دریا سے پیاس بجھتی ہے میری صحرا سے ہے مسائل سے اب وہی الجھا رشتہ جوڑا ہے جس نے دنیا سے خوشیاں امروز کی وہ پاتا ہے جو کہ غافل نہیں ہے فردا سے جس کو حاصل تھیں نعمتیں ساری اب ہے محروم آب و دانہ سے ہے خدا کی نظر میں عالی وہی خوش دلی سے جو ملتا ادنیٰ سے تھی جسے ...

مزید پڑھیے

زندگی کو شعبدہ سمجھا تھا میں

زندگی کو شعبدہ سمجھا تھا میں پتھروں کو آئنہ سمجھا تھا میں دھوپ کی یورش تھی ہر اک سمت سے سایۂ دیوار سے لپٹا تھا میں آئینے ہی آئینے تھے ہر طرف پھر بھی اپنے آپ میں تنہا تھا میں حادثوں سے کھیلنے کے باوجود آج بھی ویسا ہوں کل جیسا تھا میں روز زخمی ہوتا تھا میرا بدن پتھروں کے شہر میں ...

مزید پڑھیے

صحرا کا سفر تھا تو شجر کیوں نہیں آیا

صحرا کا سفر تھا تو شجر کیوں نہیں آیا مانگی تھیں دعائیں تو اثر کیوں نہیں آیا دیکھا تھا جسے ہم نے کبھی شوق طلب میں مہتاب سا وہ چہرہ نظر کیوں نہیں آیا ہم لوگ تو مرتے رہے قسطوں میں ہمیشہ پھر بھی ہمیں جینے کا ہنر کیوں نہیں آیا لگتا ہے مقدر میں مرے سایہ نہیں ہے مدت سے سفر میں ہوں تو ...

مزید پڑھیے

آئنہ دیکھیں نہ ہم عکس ہی اپنا دیکھیں

آئنہ دیکھیں نہ ہم عکس ہی اپنا دیکھیں جب بھی دیکھیں تو ہم اپنے کو اکیلا دیکھیں موم کے لوگ کڑی دھوپ میں آ بیٹھے ہیں آؤ اب ان کے پگھلنے کا تماشا دیکھیں تب یہ احساس ہمیں ہوگا کہ یہ خواب ہے سب بند آنکھوں کو کریں خواب کی دنیا دیکھیں بات کرتے ہیں تو نشتر سا اتر جاتا ہے اب وہ لہجے کی ...

مزید پڑھیے

جس روز سے اپنا مجھے ادراک ہوا ہے

جس روز سے اپنا مجھے ادراک ہوا ہے ہر لمحہ مری زیست کا سفاک ہوا ہے گھر سے تو نکل آئے ہو سوچا نہیں کچھ بھی اب سوچ رہے ہو جو بدن چاک ہوا ہے تہذیب ہی باقی ہے نہ اب شرم و حیا کچھ کس درجہ اب انسان یہ بے باک ہوا ہے گزرا ہے کوئی سانحہ بستی میں ہماری ہر شخص کا چہرہ یہاں غم ناک ہوا ہے افتاد ...

مزید پڑھیے

سفر کا سلسلہ آخر کہاں تمام کروں

سفر کا سلسلہ آخر کہاں تمام کروں کہاں چراغ چلاؤں کہاں قیام کروں سبھی کے سر پہ ہے رکھی کلاہ نخوت کی قدوں کی بھیڑ میں کس کس کا احترام کروں ہیں جتنے مہرے یہاں سارے پٹنے والے ہیں کسے میں شہہ کروں اپنا کسے غلام کروں عجیب شہر ہے کوئی سخن شناس نہیں متاع فکر میں منسوب کس کے نام ...

مزید پڑھیے

لبوں پر پیاس سب کے بے کراں ہے

لبوں پر پیاس سب کے بے کراں ہے ہر اک جانب مگر اندھا کنواں ہے ہے کوئی عکس رنگیں آئنے پر جبھی تو آئنے میں کہکشاں ہے کسی سے کوئی بھی ملتا نہیں اب ہر اک انساں یہاں تو بد گماں ہے فراق و وصل کا قصہ نہیں ہے ادھوری کس قدر یہ داستاں ہے نہیں کچھ بولتے ہیں جبر سہہ کر لگے ترشی ہوئی سب کی ...

مزید پڑھیے

شب کے تاریک سمندر سے گزر آیا ہوں

شب کے تاریک سمندر سے گزر آیا ہوں ٹوٹا تارہ ہوں خلاؤں سے اتر آیا ہوں تجھ سے جو ہو نہ سکا کام وہ کر آیا ہوں آسماں چھوڑ کے دھرتی پہ اتر آیا ہوں دشت تنہائی میں بکھرا ہوں ہواؤں کی طرح اک صدا بن کے دل سنگ میں در آیا ہوں جانے کس خوف سے پھرتا ہوں میں گھبرایا ہوا کیا بلا بن کے میں خود اپنے ...

مزید پڑھیے

سات رنگوں سے بنی ہے یاد تازہ

سات رنگوں سے بنی ہے یاد تازہ دھوپ لکھ لائی مبارک باد تازہ بن گئی جنت تو ہجرت کر گئے ہیں نو بہ نو ہے دشت جاں آباد تازہ لفظ و معنی کا زیاں ہے خود عذابی لوح دل پر ہے قلم کی داد تازہ آب تازہ خنجر خاموش کو دے ہے بریدہ لب پہ پھر فریاد تازہ پھر بہانے جائے گا لاوا لہو کا خشت دل پر گھر کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 300 سے 6203