جہاں میں کون کہہ سکتا ہے تم کو بے وفا تم ہو
جہاں میں کون کہہ سکتا ہے تم کو بے وفا تم ہو یہ تھوڑی وضع داری ہے کہ دشمن آشنا تم ہو تباہی سامنے موجود ہے گر آشنا تم ہو خدا حافظ ہے اس کشتی کا جس کے ناخدا تم ہو جفا جو بے مروت بے وفا ناآشنا تم ہو مگر اتنی برائی پر بھی کتنے خوش نما تم ہو بھروسا غیر کو ہوگا تمہاری آشنائی کا تم اپنی ...