قومی زبان

حسینوں میں رتبہ دوبالا ہے تیرا

حسینوں میں رتبہ دوبالا ہے تیرا کہ بیمار الفت مسیحا ہے تیرا تماشا ہے جو ہے تماشائے عالم وہ اس طرح محو تماشا ہے تیرا ستم اس پہ کیجو مری جاں سمجھ کر نہیں دست و داماں ہمارا ہے تیرا مگر کچھ نہ کچھ چال کرتا ہے تجھ پر وہ دم باز یوں دم جو بھرتا ہے تیرا

مزید پڑھیے

عشق اور عشق شعلہ ور کی آگ

عشق اور عشق شعلہ ور کی آگ آگ اور الفت بشر کی آگ جس کو کہتے ہیں برق عالم سوز ہے وہ کافر تری نظر کی آگ ہائے رے تیری گرمئ رفتار خاک تک بھی ہے رہ گزر کی آگ لو شب وصل بھی تمام ہوئی آسماں کو لگی سحر کی آگ عشق کیا شے ہے حسن ہے کیا چیز کچھ ادھر کی ہے کچھ ادھر کی آگ طور سینا بنا دیا دل ...

مزید پڑھیے

رنگ جمنے نہ دیا بات کو چلنے نہ دیا

رنگ جمنے نہ دیا بات کو چلنے نہ دیا کوئی پہلو مرے مطلب کا نکلنے نہ دیا کچھ سہارا بھی ہمیں روز ازل نے نہ دیا دل بدلنے نہ دیا بخت بدلنے نہ دیا کوئی ارماں ترے جلووں نے نکلنے نہ دیا ہوش آنے نہ دیا غش سے سنبھلنے نہ دیا چاہتے تھے کہ پیامی کو پتا دیں تیرا رشک نے نام ترا منہ سے نکلنے نہ ...

مزید پڑھیے

ابھی سے آ گئیں نام خدا ہیں شوخیاں کیا کیا

ابھی سے آ گئیں نام خدا ہیں شوخیاں کیا کیا مری تقدیر بن بن کر بدلتی ہے زباں کیا کیا مجھے گردش میں رکھتی ہے نگاہ دلستاں کیا کیا مری قسمت دکھاتی ہے مجھے نیرنگیاں کیا کیا نگاہوں میں حیا ہے اور حیا میں ہے نہاں کیا کیا طبیعت میں بسی ہیں خیر سے رنگینیاں کیا کیا فقط اک سادگی پر شوخیوں ...

مزید پڑھیے

پھٹا پڑتا ہے جوبن اور جوش نوجوانی ہے (ردیف .. ن)

پھٹا پڑتا ہے جوبن اور جوش نوجوانی ہے وہ اب تو خودبخود جامے سے باہر ہوتے جاتے ہیں نظر ہوتی ہے جتنی ان کو اپنے حسن صورت پر ستم گر بے مروت کینہ پرور ہوتے جاتے ہیں بھلا اس حسن زیبائی کا ان کے کیا ٹھکانا ہے کہ جتنے عیب ہیں دنیا میں زیور ہوتے جاتے ہیں ابھی ہے تازہ تازہ شوق خود بینی ...

مزید پڑھیے

دل گیا دل کا نشاں باقی رہا

دل گیا دل کا نشاں باقی رہا دل کی جا درد نہاں باقی رہا کون زیر آسماں باقی رہا نیک ناموں کا نشاں باقی رہا ہو لیے دنیا کے پورے کاروبار اور اک خواب گراں باقی رہا رفتہ رفتہ چل بسے دل کے مکیں اب فقط خالی مکاں باقی رہا چل دیے سب چھوڑ کر اہل جہاں اور رہنے کو جہاں باقی رہا کارواں منزل ...

مزید پڑھیے

بگڑ کر عدو سے دکھاتے ہیں آپ

بگڑ کر عدو سے دکھاتے ہیں آپ بناوٹ کی باتیں بناتے ہیں آپ بڑھانے کو قصے شب وصل میں فسانے عدو کے سناتے ہیں آپ کسی کو تجلی کسی کو جواب عجب کچھ لگاتے بجھاتے ہیں آپ بگڑنے کے اسباب لازم نہیں نئی بات دل سے بناتے ہیں آپ نہ آنا تھا گر آئے کیوں خواب میں مگر سوتے فتنے جگاتے ہیں آپ بندھے ...

مزید پڑھیے

بتوں سے بچ کے چلنے پر بھی آفت آ ہی جاتی ہے

بتوں سے بچ کے چلنے پر بھی آفت آ ہی جاتی ہے یہ کافر وہ قیامت ہیں طبیعت آ ہی جاتی ہے یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ہم ان کو چھوڑ بیٹھیں ہیں جب آنکھیں چار ہوتی ہیں مروت آ ہی جاتی ہے وہ اپنی شوخیوں سے کوئی اب تک بعض آتے ہیں ہمیشہ کچھ نہ کچھ دل میں شرارت آ ہی جاتی ہے ہمیشہ عہد ہوتے ہیں نہیں ...

مزید پڑھیے

رقیبوں کو ہم راہ لانا نہ چھوڑا

رقیبوں کو ہم راہ لانا نہ چھوڑا نہ چھوڑا مرا جی جلانا نہ چھوڑا بلائیں ہی لے لے کے کاٹی شب وصل ستم گار نے منہ چھپانا نہ چھوڑا وہ کہتے ہیں لے اب تو سونے دے مجھ کو کوئی دل میں ارماں پرانا نہ چھوڑا وہ سینے سے لپٹے رہے گو شب وصل دل زار نے تلملانا نہ چھوڑا محبت کے برتاؤ سب چھوڑ ...

مزید پڑھیے

کچھ شکوے گلے ہوتے کچھ طیش سوا ہوتا

کچھ شکوے گلے ہوتے کچھ طیش سوا ہوتا قسمت میں نہ ملنا تھا ملتے بھی تو کیا ہوتا جاتے تو قلق ہوتا آتے تو خفا ہوتے ہم جاتے تو کیا ہوتا وہ آتے تو کیا ہوتا شکوؤں کا گلا کیا ہے انصاف تو کر ظالم کیا کچھ نہ کیا ہوتا گر تو میری جا ہوتا گر صلح ٹھہر جاتی سو فتنے اٹھے ہوتے اچھا ہے نہ ملنا ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 285 سے 6203