قومی زبان

غزل کہنے کا کس کو ڈھب رہا ہے

غزل کہنے کا کس کو ڈھب رہا ہے وہ رتبہ عشق کا اب کب رہا ہے بشاشت برگ گل میں ہے جو اتنی کسی کے لب پر اس کا لب رہا ہے مشوش شکل سے اس گل کی ظاہر یہ ہوتا ہے کہیں وہ شب رہا ہے پرستش ہی میں شب آخر ہوئی ہے ہمارے پاس وہ بت جب رہا ہے تمہارے عہد میں اے کافرو ہائے کہاں وہ ملت و مذہب رہا ہے مرا ...

مزید پڑھیے

وعدوں ہی پہ ہر روز مری جان نہ ٹالو

وعدوں ہی پہ ہر روز مری جان نہ ٹالو ہے عید کا دن اب تو گلے ہم کو لگا لو ہر وقت میاں خوب نہیں گالیاں دینی کیا بکتے ہو تم یاوہ زباں اپنی سنبھالو پہنچے کو چھڑاؤ گے بڑے مرد ہو ایسے تم پہلے مرے ہاتھ سے دامن تو چھڑا لو دیوانے کا ہے تیرے یہ عالم کہ پری بھی دیکھ اس کو یہ کہتی ہے کوئی اس کو ...

مزید پڑھیے

رات پردے سے ذرا منہ جو کسو کا نکلا

رات پردے سے ذرا منہ جو کسو کا نکلا شعلہ سمجھا تھا اسے میں پہ بھبھوکا نکلا مہر و مہ اس کی پھبن دیکھ کے حیران رہے جب ورق یار کی تصویر دورو کا نکلا یہ ادا دیکھ کے کتنوں کا ہوا کام تمام نیمچہ کل جو ٹک اس عربدہ جو کا نکلا مر گئی سرو پہ جب ہو کے تصدق قمری اس سے اس دم بھی نہ طوق اپنے گلو ...

مزید پڑھیے

خواب تھا یا خیال تھا کیا تھا

خواب تھا یا خیال تھا کیا تھا ہجر تھا یا وصال تھا کیا تھا میرے پہلو میں رات جا کر وہ ماہ تھا یا ہلال تھا کیا تھا چمکی بجلی سی پر نہ سمجھے ہم حسن تھا یا جمال تھا کیا تھا شب جو دل دو دو ہاتھ اچھلتا تھا وجد تھا یا وہ حال تھا کیا تھا جس کو ہم روز ہجر سمجھے تھے ماہ تھا یا وہ سال تھا کیا ...

مزید پڑھیے

جب تک یہ محبت میں بد نام نہیں ہوتا

جب تک یہ محبت میں بد نام نہیں ہوتا اس دل کے تئیں ہرگز آرام نہیں ہوتا عالم سے ہمارا کچھ مذہب ہی نرالا ہے یعنی ہیں جہاں ہم واں اسلام نہیں ہوتا کب وعدہ نہیں کرتیں ملنے کا تری آنکھیں کس روز نگاہوں میں پیغام نہیں ہوتا بال اپنے بڑھاتے ہیں کس واسطے دیوانے کیا شہر محبت میں حجام نہیں ...

مزید پڑھیے

آج پلکوں کو جاتے ہیں آنسو

آج پلکوں کو جاتے ہیں آنسو الٹی گنگا بہاتے ہیں آنسو آتش دل تو خاک بجھتی ہے اور جی کو جلاتے ہیں آنسو خون دل کم ہوا مگر جو مرے آج تھم تھم کے آتے ہیں آنسو جب تلک دیدہ گریہ ساماں ہو دل میں کیا جوش کھاتے ہیں آنسو گوکھرو پر تمہاری انگیا کے کس کے یہ لہر کھاتے ہیں آنسو تیری پازیب کے جو ...

مزید پڑھیے

معشوقۂ گل نقاب میں ہے

معشوقۂ گل نقاب میں ہے محجوبہ ابھی حجاب میں ہے مہندی نہ لگا کہ جان میری ہاتھوں سے ترے عذاب میں ہے تو ہے وہ بلا کہ ماہ و خورشید زلفوں کی ترے رکاب میں ہے ہر اک تجھے آپ سا کہے ہے قضیہ مہ و آفتاب میں ہے اللہ رے ترے پسینے کی بو کب ایسی بھبھک گلاب میں ہے اس زلف کا اینٹھنا تو دیکھو بن ...

مزید پڑھیے

آنا ہے یوں محال تو اک شب بہ خواب آ

آنا ہے یوں محال تو اک شب بہ خواب آ مجھ تک خدا کے واسطے ظالم شتاب آ دیتا ہوں نامہ میں تجھے اس شرط پر ابھی قاصد تو اس کے پاس سے لے کر جواب آ ایسا ہی عزم ہے تجھے گر کوئے یار کا چلتا ہوں میں بھی اے دل پر اضطراب آ یہ خستہ چشم وا ہے ترے انتظار میں اے صبح منہ دکھا کہیں اے آفتاب آ تا یہ شب ...

مزید پڑھیے

ہمیں انسان ہونے پر ندامت ہے

اے میرے رب کریم تو اشرف مخلوق کی دستار میرے مغرور سر سے نوچ دے اور ڈال دے ہم کو درندوں کی جماعت میں درندوں سے کبھی دنیا محبت اور شفقت کی توقع ہی نہیں رکھتی درندے اپنے قول و فعل پہ نادم نہیں ہوتے میں اپنے ہم نسب افراد کے قول و عمل سے ایک مدت سے پشیمانی میں رہتا ہوں مجھے اب اشرف ...

مزید پڑھیے

مجھ سے کیوں چھین لی ہے خاموشی

مجھ سے کیوں چھین لی ہے خاموشی میری تو زندگی ہے خاموشی شور سے ریزہ ریزہ ہو کر بھی خامشی میں پڑی ہے خاموشی چاند تب کروٹیں بدلتا ہے بال جب کھولتی ہے خاموشی میں کئی دن سے کھو گیا ہوں کہیں اس لیے رو رہی ہے خاموشی حال دل جب بھی میں سناتا ہوں زور سے چیختی ہے خاموشی جس طرح ہو کوئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2503 سے 6203