غزل کہنے کا کس کو ڈھب رہا ہے
غزل کہنے کا کس کو ڈھب رہا ہے وہ رتبہ عشق کا اب کب رہا ہے بشاشت برگ گل میں ہے جو اتنی کسی کے لب پر اس کا لب رہا ہے مشوش شکل سے اس گل کی ظاہر یہ ہوتا ہے کہیں وہ شب رہا ہے پرستش ہی میں شب آخر ہوئی ہے ہمارے پاس وہ بت جب رہا ہے تمہارے عہد میں اے کافرو ہائے کہاں وہ ملت و مذہب رہا ہے مرا ...