قومی زبان

چھو کے گزرا مجھے زمانہ سا

چھو کے گزرا مجھے زمانہ سا پیرہن ہو گیا پرانا سا اک پرانا سا ربط ہے اس سے اک تعلق ہے غائبانہ سا ایک قطرہ صدف میں کیا اترا کھل گیا ایک کارخانہ سا دل کی ٹوٹی فصیل میں اب بھی ایک در وا ہے عارفانہ سا اب بھی اس کی گلی میں مڑتا ہے دل سے اک راستہ پرانا سا تھی نظر اس پہ دشمنوں جیسی عشق ...

مزید پڑھیے

شاعر

جو باتیں یہ لوگ کرتے ہیں کوئی اور انہیں بیان نہیں کر سکتا ان کے اندر ایک دنیا آباد ہے جہاں ہونے والی ہر بات ہر واقعہ مکمل جزئیات کے ساتھ وہ ہمیں تحریری طور پر پیش کر دیتے ہیں شاعر اپنے اندر کی ریاست کے غدار ہوتے ہیں وہ ایک مخبر سے زیادہ کوئی وقعت نہیں رکھتے

مزید پڑھیے

خوابوں کا چھکڑا

رات ہوتے ہی خوابوں کا چھکڑا چل پڑتا ہے چھکڑے میں بہت سارے خواب ہوتے ہیں خوابوں کا چھکڑا ترتیب کے ساتھ خواب بانٹنے لگتا ہے ہر شخص تک اس کا خواب پہنچ جاتا ہے ساری رات لوگ خواب کے خمار میں رہتے ہیں صبح کاذب ہوتے ہی چھکڑا خوابوں کو وصول کرتا ہے مجھے خواب میں بھی بہت سارے خواب ملتے ...

مزید پڑھیے

اسے دیکھا تو ہر بے چہرگی کاسہ اٹھا لائی

اسے دیکھا تو ہر بے چہرگی کاسہ اٹھا لائی تمنا اپنے خالی ہاتھ میں دنیا اٹھا لائی مجھے تو اپنی ساری کھیتیاں سیراب کرنی تھیں مگر وہ موج اپنے ساتھ اک صحرا اٹھا لائی رفاقت کو مری تنہائی بھولی بسری یادوں سے کوئی سایہ اٹھا لائی کوئی چہرہ اٹھا لائی انہیں خوشبو کی چاہت میں بہت نرمی سے ...

مزید پڑھیے

اچھا مجھے کرتا ہے میں اچھا نہیں ہوتا

اچھا مجھے کرتا ہے میں اچھا نہیں ہوتا پھر ایسا مسیحا تو مسیحا نہیں ہوتا قسمت کا دھنی تھا میں تبھی جیت لی بازی ایسا نہیں ہوتا جو میں ایسا نہیں ہوتا وہ چاک گریباں مرا لوگوں کو دکھاتے سیتا ہے مگر سوئی میں دھاگہ نہیں ہوتا چہرے پہ ہر اک دن کے لکھی جاتی ہے تقدیر سورج کا نکلنا ہی ...

مزید پڑھیے

دل اک دنیا بسا لیتا ہے گر کوئی نہیں آتا

دل اک دنیا بسا لیتا ہے گر کوئی نہیں آتا فقط محسوس کرتا ہے نظر کوئی نہیں آتا خبر اچھی بری تازہ پرانی ہو نہ ہو پھر بھی ہماری محفلوں میں بے خبر کوئی نہیں آتا جو پیچھے چھوڑ آئے ہیں اسی پہ لوٹ جائیں گے کھلے گا جب کہ ان رستوں پہ گھر کوئی نہیں آتا کبھی شاطر سے شاید اس لیے بھی جیت سکتا ...

مزید پڑھیے

جب اس نے آنے کا اک دن ادھر ارادہ کیا

جب اس نے آنے کا اک دن ادھر ارادہ کیا تو میں نے دل کا مکاں اور بھی کشادہ کیا مرے مزاج سے ملتا نہیں تھا میرا لباس تو تار تار یہی سوچ کر لبادہ کیا نہ تھا جو جیت کا امکاں تو صلح کر لی ہے یوں پچھلی ہار سے اس بار استفادہ کیا وہ ایک شخص جو مجھ سے گریز پا ہے بہت گماں ہے پیار بھی مجھ سے اسی ...

مزید پڑھیے

اک انقلاب کہ یکسر تھا اس کے جاتے ہی

اک انقلاب کہ یکسر تھا اس کے جاتے ہی کہ دل لہو نہیں پتھر تھا اس کے جاتے ہی وہ عمر بھر مجھے جس سے رہائی دے نہ سکا میں اس حصار کے باہر تھا اس کے جاتے ہی اسی کے دم سے تھا قائم نظام مے خانہ کہیں سبو کہیں ساغر تھا اس کے جاتے ہی مجھے تو پہلے ہی اشکوں نے راستہ نہ دیا غبار راہ بھی سر پر تھا ...

مزید پڑھیے

کچھ تو ایسے ہیں کہ جن سے پھر ملا جاتا نہیں

کچھ تو ایسے ہیں کہ جن سے پھر ملا جاتا نہیں ایک وہ بھی ہے بنا جس کے رہا جاتا نہیں ہوتے ہوتے میں پہنچ جاتا ہوں اپنے آپ تک اس سے آگے اور کوئی راستہ جاتا نہیں کتنی دھیمی ہو گئی ہے آنچ اپنے پیار کی ہم دھوئیں میں گھر گئے ہیں اور جلا جاتا نہیں

مزید پڑھیے

اسے مجھ سے محبت تھی

ایک دل جو میرا مسکن تھا مجھے وہاں سے دل بدر کر دیا گیا اسی لڑکی کے حکم پر جس کا وہ دل تھا اسے مجھ سے محبت تھی اسی لیے وہ اپنے ہم راہ مجھے لے جانا نہیں چاہتی تھی دل بدری کے باعث میں اس کے ساتھ دفن نہیں ہو سکا

مزید پڑھیے
صفحہ 2466 سے 6203