قومی زبان

ترے جہاں سے الگ اک جہان چاہتا ہوں

ترے جہاں سے الگ اک جہان چاہتا ہوں نئی زمین نیا آسمان چاہتا ہوں بدن کی قید سے باہر تو جا نہیں سکتا اسی حصار میں رہ کر اڑان چاہتا ہوں خموش رہنے پہ اب دم سا گھٹنے لگتا ہے مرے خدا میں دہن میں زبان چاہتا ہوں کوئی شجر ہی سہی دھوپ سے نجات تو ہو یہ تم سے کس نے کہا سائبان چاہتا ہوں یہ ...

مزید پڑھیے

شاہکار حسن فطرت سازشوں میں بٹ گیا

شاہکار حسن فطرت سازشوں میں بٹ گیا آئینہ ٹوٹا تو چہرہ آئنوں میں بٹ گیا رات مقتل میں خدا جانے وہ کس کا قتل تھا جو تبرک بن کے سارے قاتلوں میں بٹ گیا میں کتاب زندگی کا ایک لفظ مستقل وقت نے تشریح کی تو حاشیوں میں بٹ گیا لاکھ اب دنیا منائے اس کا جشن ارتکاز وہ تو ریزہ ریزہ سارے دوستوں ...

مزید پڑھیے

پرانے گھر میں نیا گھر بسانا چاہتا ہے

پرانے گھر میں نیا گھر بسانا چاہتا ہے وہ سوکھے پھول میں خوشبو جگانا چاہتا ہے نہ جانے کیوں ترے معصوم جھوٹ کو آخر زمانہ سچ کی طرح آزمانا چاہتا ہے ابھی تپاس سے نکلا نہیں ترا سادھو کہ پھر سے اک نئی دھونی رمانا چاہتا ہے یہ آب دیدہ ٹھہر جائے جھیل کی صورت کہ ایک چاند کا ٹکڑا نہانا ...

مزید پڑھیے

دھوپ سی عمر بسر کرنا ہے

دھوپ سی عمر بسر کرنا ہے ایک دیوار کو سر کرنا ہے آنکھ تو صرف شہادت دے گی دل کو تصدیق سحر کرنا ہے اب فصیلوں پہ اگانا ہے گلاب فوج کو شہر بدر کرنا ہے صرف جگنو سا چمکنا ہے شہابؔ کب مجھے کار خضر کرنا ہے

مزید پڑھیے

قدم قدم پر تمہاری یوں تو عنایتیں بھی بہت ہوئی ہیں

قدم قدم پر تمہاری یوں تو عنایتیں بھی بہت ہوئی ہیں مجھے مری بے نیازیوں پر ندامتیں بھی بہت ہوئی ہیں یہ مت سمجھنا کہ آنسوؤں ہی سے بھیگ جاتی ہیں اس کی پلکیں کہ بارہا چشم نم سے اس کی کرامتیں بھی بہت ہوئی ہیں عجب تماشا ہے ظلم سہہ کر بھی سارے مظلوم مطمئن ہیں انہیں کی جانب سے قاتلوں کی ...

مزید پڑھیے

عکس دیکھا تو لگا کوئی کمی ہے مجھ میں

عکس دیکھا تو لگا کوئی کمی ہے مجھ میں آئنہ کہتا تھا موجود سبھی ہے مجھ میں روشنی پھر تجھے درپیش ہے اک اور سفر دور تک جائے گی جو آگ لگی ہے مجھ میں کروٹیں لے کے سحر کرنے کی پرخار تھکن کبھی تجھ میں ہے نمایاں تو کبھی ہے مجھ میں کوئی احساس زیاں جاگ اٹھا ہے جیسے ایک الجھی سی گرہ جب سے ...

مزید پڑھیے

کسی نے بھی اسے دیکھا نہیں ہے

کسی نے بھی اسے دیکھا نہیں ہے وہ اک احساس ہے چہرہ نہیں ہے مری جو سانس آ کر جا رہی ہے تو کیا یہ جان کا جانا نہیں ہے عجب شہر انا میں جی رہا ہوں کسی کے پاس آئینا نہیں ہے مجھے جو لوگ رستہ دے رہے ہیں انہیں خود راستہ ملتا نہیں ہے اکیلا سا جو ہے اک شخص باہر وہ مجھ میں ہے مگر تنہا نہیں ...

مزید پڑھیے

پھول نے مرجھاتے مرجھاتے کہا آہستہ سے

پھول نے مرجھاتے مرجھاتے کہا آہستہ سے ہو رہی ہے مجھ سے خوشبو بھی جدا آہستہ سے قربتیں تھیں پھر بھی لگتا ہے ہمارے درمیاں آ کے حائل ہو گیا اک فاصلہ آہستہ سے اک معمہ ہے چمن سے اس پرندے کا سفر شام کو جو آشیاں سے اڑ گیا آہستہ سے رکھ لیا ضدی انا نے پھر مرے سر کا وقار اونچا نیزے کی انی پر ...

مزید پڑھیے

اک شمع کا سایہ تھا کہ محراب میں ڈوبا

اک شمع کا سایہ تھا کہ محراب میں ڈوبا اک میں کہ ترے ہجر کے گرداب میں ڈوبا میری شب تاریک کا چہرہ ہوا روشن سورج سا کوئی شام کو مہتاب میں ڈوبا ہے دیدۂ بے خواب مرا کتنا فریبی جب دیکھیے لگتا ہے کسی خواب میں ڈوبا دل تھا کہ کوئی کھیل میں پھینکا ہوا پتھر موجوں سے جو لڑتا ہوا تالاب میں ...

مزید پڑھیے

کیسے پتا چلے گا اگر سامنا نہ ہو

کیسے پتا چلے گا اگر سامنا نہ ہو میں جس کو چاہتا ہوں مجھے چاہتا نہ ہو شب کے سفر میں چاند ستارے تو ساتھ ہیں کچھ اور مہربان فلک ہو تو کیا نہ ہو بچھڑا وہ مجھ سے ایسے نہ بچھڑے کبھی کوئی اب یوں ملا ہے جیسے وہ پہلے ملا نہ ہو پیتا ہوں روز اس کی نصیحت کے باوجود میرے گناہ کی کہیں دوہری سزا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2465 سے 6203