قومی زبان

محبت میں سحر اے دل برائے نام آتی ہے

محبت میں سحر اے دل برائے نام آتی ہے یہ وہ منزل ہے جس منزل میں اکثر شام آتی ہے سفینہ جس جگہ ڈوبا تھا میرا بحر الفت میں وہاں ہر موج اب تک لرزہ بر اندام آتی ہے نہ جانے کیوں دل غم آشنا کو دیکھ لیتا ہوں جہاں کانوں میں آواز شکست جام آتی ہے دل ناداں یہی رنگیں ادائیں لوٹ لیتی ہیں شفق کی ...

مزید پڑھیے

تری برق پاش نگاہ سے ترے حشر خیز خرام سے

تری برق پاش نگاہ سے ترے حشر خیز خرام سے بہ سکون قلب گزر گیا میں ہر ایک ایسے مقام سے مری زندگی کے یہ مرحلے ہمہ اتقا ہمہ بندگی مجھے کیف ان کی نظر سے ہے کوئی واسطہ نہیں جام سے وہ لجا گئے وہ جھجھک گئے وہ ٹھہر گئے کسی سوچ میں سر رہ کسی نے جو دفعتاً انہیں دی صدا مرے نام سے میں ہوں شمع ...

مزید پڑھیے

کس قدر پیاس ملی آپ کے میخانے سے

کس قدر پیاس ملی آپ کے میخانے سے عمر بھر آنکھوں میں چھلکا کئے پیمانے سے کیسا جادو تھا ان آنکھوں میں جنہیں دیکھ کے ہم مدتوں اپنوں میں پھرتے رہے بیگانے سے میری تخئیل نے دنیا کو دئے پیراہن کیا حقیقت ہے یہ پوچھو مرے افسانے سے ٹوٹ جانے پہ بھی رشتوں کا بھرم باقی ہے ان کا گھر دور نہیں ...

مزید پڑھیے

یہ کیا وسوسے ہم سفر ہو گئے ہیں

یہ کیا وسوسے ہم سفر ہو گئے ہیں سبھی راستے پر خطر ہو گئے ہیں پکارا نہیں تم کو غیرت نے ورنہ کئی بار آکر ادھر ہو گئے ہیں نہ سمجھو ہمیں کچھ شکایت نہیں ہے کہ خاموش کچھ سوچ کر ہو گئے ہیں کسے ہو خبر درد پنہاں کی اے دل جنہیں تھی خبر بے خبر ہو گئے ہیں ہم اپنی تباہی پہ بس مسکرائے مگر دامن ...

مزید پڑھیے

غموں نے اس طرح گھیرا کبھی نہیں ہوگا

غموں نے اس طرح گھیرا کبھی نہیں ہوگا یہ لگ رہا تھا سویرا کبھی نہیں ہوگا انہیں کا ذکر ہے دن رات ان کی باتیں ہیں تمہارا دل ہے یہ میرا کبھی نہیں ہوگا تمام دولت کون و مکاں ملے تو کیا تو جس کا ہو گیا، تیرا کبھی نہیں ہوگا ہماری سن لو ہمیں دیکھ لو کہ پھر شاید ادھر فقیر کا پھیرا کبھی ...

مزید پڑھیے

زباں پہ خود بخود عرض محبت آئی جاتی ہے

زباں پہ خود بخود عرض محبت آئی جاتی ہے کھلے پڑتے ہیں ارماں زندگی شرمائی جاتی ہے بلاوے آ رہے ہیں منزلوں کے شام سے لیکن تمناؤں کو ان کی گود میں نیند آئی جاتی ہے وہ آئے ہیں تسلی کے لئے لیکن یہ عالم ہے نگاہیں نم ہیں لو آواز کی تھرائی جاتی ہے دماغ و دل کی ساری کشمکش بے کار و لا ...

مزید پڑھیے

بہت پہنچے تو ان کے کاکل و رخسار تک پہنچے

بہت پہنچے تو ان کے کاکل و رخسار تک پہنچے مگر عاشق نہ اب تک عشق کے معیار تک پہنچے دبائیں دھڑکنیں آنکھوں کو جھٹلایا گیا برسوں بڑی مشکل سے وہ انکار سے اقرار تک پہنچے ابھی تو روشنی الجھی ہے تاریکی کے طوفاں سے نہ جانے کب تلک اپنے در و دیوار تک پہنچے چھڑاؤ گر چھڑا سکتے ہو دامان وفا ...

مزید پڑھیے

حوصلہ دل کا حوادث میں بڑھا رکھا ہے

حوصلہ دل کا حوادث میں بڑھا رکھا ہے شمع کو میں نے ہواؤں میں جلا رکھا ہے دیکھ اے حسن خود آرا مرے دل کی وسعت تیرے غم کو غم دوراں سے جدا رکھا ہے میں تلاطم میں بھی ساحل کی خبر رکھتا ہوں میں نے ہر موج کو ساحل سے ملا رکھا ہے اک ترے نام سے رشتہ ہو بس اتنی سی ہے بات ورنہ اس سبحہ و زنار میں ...

مزید پڑھیے

سوز و گداز عشق کا چرچا نہ کر سکے

سوز و گداز عشق کا چرچا نہ کر سکے حسن ستم ظریف کو رسوا نہ کر سکے وہ زخم چاہتا ہوں میں اے حسن دل فریب جس کو تری نگاہ بھی اچھا نہ کر سکے جب یاد آ گیا ہمیں افسانۂ ازل غم ہائے روزگار کا شکوا نہ کر سکے اٹھی نگاہ شوق تو پتھرا کے رہ گئی اس جلوۂ حسیں کا نظارا نہ کر سکے ساقی تری نگاہ کا ...

مزید پڑھیے

میری نظر نظر میں ہیں منظر جلے ہوئے

میری نظر نظر میں ہیں منظر جلے ہوئے ابھریں گے حرف حرف سے پیکر جلے ہوئے شعلوں کا رقص آب رواں تک پہنچ گیا دریا پہ بہہ کے آئے ہیں چھپر جلے ہوئے ہر ذرہ اس زمین کا لو دے رہا ہے آج کل آپ کو ملیں گے سمندر جلے ہوئے مظلوم و بے قصور جنہیں کہہ رہے ہیں آپ نکلے ہیں ان کے گھر سے بھی خنجر جلے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2458 سے 6203