قومی زبان

دعا سے کچھ نہ ہوا التجا سے کچھ نہ ہوا

دعا سے کچھ نہ ہوا التجا سے کچھ نہ ہوا بتوں کے عشق میں یاد خدا سے کچھ نہ ہوا میں ایک کیا ہوں سبھی با وفا ہیں شاکئ جور تم ایک کیا ہو کسی بے وفا سے کچھ نہ ہوا بھری تو تھی مگر اپنے اثر کو لا نہ سکی گئی تو تھی مگر آہ رسا سے کچھ نہ ہوا وہ آرزو ہوں کہ جس آرزو کی کچھ نہ چلی وہ مدعا ہوں کہ جس ...

مزید پڑھیے

میری جدائیوں سے وہ مل کر نہیں گیا

میری جدائیوں سے وہ مل کر نہیں گیا اس کے بغیر میں بھی کوئی مر نہیں گیا دنیا میں گھوم پھر کے بھی ایسے لگا مجھے جیسے میں اپنی ذات سے باہر نہیں گیا کیا خوب ہیں ہماری ترقی پسندیاں زینے بنا لیے کوئی اوپر نہیں گیا جغرافیے نے کاٹ دیے راستے مرے تاریخ کو گلہ ہے کہ میں گھر نہیں گیا ایسی ...

مزید پڑھیے

میری سوچ مجھے کس رتبے پر لے آئی

میری سوچ مجھے کس رتبے پر لے آئی دائرۂ ہستی اک نقطے پر لے آئی جب دنیا کو میں نے کور نظر ٹھہرایا میری آنکھیں اپنے چہرے پر لے آئی میں تو اک سیدھی پگڈنڈی پر نکلا تھا پگڈنڈی مجھ کو چوراہے پر لے آئی یوں محسوس ہوا اپنی گہرائی میں جا کر جیسے کوئی موج کنارے پر لے آئی صحرا میں بھی ...

مزید پڑھیے

ہاتھ آنکھوں پہ رکھ لینے سے خطرہ نہیں جاتا

ہاتھ آنکھوں پہ رکھ لینے سے خطرہ نہیں جاتا دیوار سے بھونچال کو روکا نہیں جاتا دعووں کی ترازو میں تو عظمت نہیں تلتی فیتے سے تو کردار کو ناپا نہیں جاتا فرمان سے پیڑوں پہ کبھی پھل نہیں لگتے تلوار سے موسم کوئی بدلا نہیں جاتا چور اپنے گھروں میں تو نہیں نقب لگاتے اپنی ہی کمائی کو تو ...

مزید پڑھیے

ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے

ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے اس کے ہونٹوں کی خموشی بھی سند ہوتی ہے سانس لیتے ہوئے انساں بھی ہیں لاشوں کی طرح اب دھڑکتے ہوئے دل کی بھی لحد ہوتی ہے جس کی گردن میں ہے پھندا وہی انسان بڑا سولیوں سے یہاں پیمائش قد ہوتی ہے شعبدہ گر بھی پہنتے ہیں خطیبوں کا لباس بولتا جہل ہے بد ...

مزید پڑھیے

کب نشاں میرا کسی کو شب ہستی میں ملا

کب نشاں میرا کسی کو شب ہستی میں ملا میں تو جگنو کی طرح اپنی ہی مٹھی میں ملا بھاگ نکلا تھا جو طوفاں سے چھڑا کر دامن سر ساحل وہی ڈوبا ہوا کشتی میں ملا آنکھ روشن ہو تو دنیا کے اندھیرے کیا ہیں رستہ مہتاب کو راتوں کی سیاہی میں ملا میں جلاتا رہا تیرے لیے لمحوں کے چراغ تو گزرتا ہوا ...

مزید پڑھیے

اسیر پنجۂ عہد شباب کر کے مجھے

اسیر پنجۂ عہد شباب کر کے مجھے کہاں گیا مرا بچپن خراب کر کے مجھے کسی کے درد محبت نے عمر بھر کے لیے خدا سے مانگ لیا انتخاب کر کے مجھے یہ ان کے حسن کو ہے صورت آفریں سے گلہ غضب میں ڈال دیا لا جواب کر کے مجھے وہ پاس آنے نہ پائے کہ آئی موت کی نیند نصیب سو گئے مصروف خواب کر کے مجھے مرے ...

مزید پڑھیے

ہجر میں ہو گیا وصال کا کیا

ہجر میں ہو گیا وصال کا کیا خواب ہی بن گیا خیال کا کیا خود نمائی پہ خاک ڈالو تم دیکھنا شکل بے مثال کا کیا تیری فرقت کے دن خدا کاٹے ہو رہے گا کبھی وصال کا کیا دل کے دینے میں عذر کس کو ہے جان ہی دے رہے ہیں مال کا کیا حال اس نے ہمارا پوچھا ہے پوچھنا اب ہمارے حال کا کیا وصل کی التجا ...

مزید پڑھیے

اپنے عہد وفا کو بھول گئے

اپنے عہد وفا کو بھول گئے تم تو بالکل خدا کو بھول گئے کچھ نہ پوچھ انتہائے‌ رنج فراق درد پا کر دوا کو بھول گئے ہم نے یاد بتاں میں دم توڑا مرتے مرتے خدا کو بھول گئے ان کی باتوں کو یاد کرتا ہوں جو مری التجا کو بھول گئے درمیانی تعلقات نہ پوچھ ابتدا انتہا کو بھول گئے ان سے دو دن بھی ...

مزید پڑھیے

یہ تم بے وقت کیسے آج آ نکلے سبب کیا ہے

یہ تم بے وقت کیسے آج آ نکلے سبب کیا ہے بلایا جب نہ آئے اب یہ آنا بے طلب کیا ہے محبت کا اثر پھر دیکھنا مرنے تو دو مجھ کو وہ میرے ساتھ زندہ دفن ہو جائیں عجب کیا ہے نگاہ یار مل جاتی تو ہم شاگرد ہو جاتے ذرا یہ سیکھ لیتے دل کے لے لینے کا ڈھب کیا ہے جو غم تم نے دیا اس پر تصدق سیکڑوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2420 سے 6203