قومی زبان

جو پوچھا منہ دکھانے آپ کب چلمن سے نکلیں گے

جو پوچھا منہ دکھانے آپ کب چلمن سے نکلیں گے تو بولے آپ جس دن حشر میں مدفن سے نکلیں گے جلے گا دل تمہیں بزم عدو میں دیکھ کر میرا دھواں بن بن کے ارماں محفل دشمن سے نکلیں گے اکٹھے کر کے تیری دوسری تصویر کھینچوں گا وہ سب جلوے جو چھن چھن کر تری چلمن سے نکلیں گے سیہ پوشاک دوش ناز پر ...

مزید پڑھیے

عیش کے رنگ ملالوں سے دبے جاتے ہیں

عیش کے رنگ ملالوں سے دبے جاتے ہیں اب تو ہم اپنے ہی حالوں سے دبے جاتے ہیں پاؤں رکھنا مجھے صحرا میں بھی دشوار ہے اب سارے کانٹے مرے چھالوں سے دبے جاتے ہیں توبہ توبہ وہ مرے خواب میں کیا آئیں گے جاگتے میں جو خیالوں سے دبے جاتے ہیں اللہ اللہ ری نزاکت ترے رخساروں کی اتنے نازک ہیں کہ ...

مزید پڑھیے

جدائی مجھ کو مارے ڈالتی ہے

جدائی مجھ کو مارے ڈالتی ہے دہائی مجھ کو مارے ڈالتی ہے تمہارے عشق میں دنیا ہے دشمن خدائی مجھ کو مارے ڈالتی ہے حسینوں کی گلی ہے اور میں ہوں گدائی مجھ کو مارے ڈالتی ہے تری جلاد آنکھوں کی ستم گر صفائی مجھ کو مارے ڈالتی ہے اسیری میں مزا تھا فصل گل کا رہائی مجھ کو مارے ڈالتی ہے خفا ...

مزید پڑھیے

نہ بلوایا نہ آئے روز وعدہ کر کے دن کاٹے

نہ بلوایا نہ آئے روز وعدہ کر کے دن کاٹے بڑے وہ ہو کہ تم نے اچھا اچھا کر کے دن کاٹے اکیلے کیا تمہیں نے سختیاں جھیلیں جدائی کی نہیں ہم نے بھی پتھر کا کلیجا کر کے دن کاٹے بتا مجھ کو طریقہ اے شب غم سال کٹنے کا کوئی بارہ مہینے تیس دن کیا کر کے دن کاٹے جسے اپنا سمجھتے تھے وہی دل ہو گیا ...

مزید پڑھیے

ہم عمر کے ساتھ ہیں سفر میں

ہم عمر کے ساتھ ہیں سفر میں بیٹھے ہوئے جا رہے ہیں گھر میں ہم لٹ گئے تیری رہ گزر میں یہ ایک ہوئی ہے عمر بھر میں اب کون رہا کہ جس کو دیکھوں اک تو تھا سو آ گیا نظر میں حسرت کو ملا ہے خانۂ دل تقدیر کھلی غریب گھر میں آنکھیں نہ چراؤ دل میں رہ کر چوری نہ کرو خدا کے گھر میں اب وصل کی رات ...

مزید پڑھیے

انہوں نے کیا نہ کیا اور کیا نہیں کرتے

انہوں نے کیا نہ کیا اور کیا نہیں کرتے ہزار کچھ ہو مگر اک وفا نہیں کرتے برا ہوں میں جو کسی کی برائیوں میں نہیں بھلے ہو تم جو کسی کا بھلا نہیں کرتے وہ آئیں گے مری تقریب مرگ میں توبہ کبھی جو رسم عیادت ادا نہیں کرتے جہاں گئے یہی دیکھا کہ لوگ مرتے ہیں یہی سنا کہ وہ وعدہ وفا نہیں ...

مزید پڑھیے

جب کہا میں نے کہ مر مر کے بچے ہجر میں ہم (ردیف .. ے)

جب کہا میں نے کہ مر مر کے بچے ہجر میں ہم ہنس کے بولے تمہیں جینا تھا تو مر کیوں نہ گئے ہم تو اللہ کے گھر جا کے بہت پچھتائے جان دینی تھی تو کافر ترے گھر کیوں نہ گئے سوئے دوزخ بت کافر کو جو جاتے دیکھا ہم نے جنت سے کہا ہائے ادھر کیوں نہ گئے پہلے اس سوچ میں مرتے تھے کہ جیتے کیوں ہیں اب ...

مزید پڑھیے

سب شریک صدمہ و آزار کچھ یوں ہی سے ہیں

سب شریک صدمہ و آزار کچھ یوں ہی سے ہیں یار کچھ یوں ہی سے ہیں غم خوار کچھ یوں ہی سے ہیں ان کے سب افعال سب اطوار کچھ یوں ہی سے ہیں قول کچھ یوں ہی سے ہیں اقرار کچھ یوں ہی سے ہیں اپنے دیوانے سے مل لیجے اسی میں خیر ہے آپ ابھی رسوا سر بازار کچھ یوں ہی سے ہیں جس جگہ دیکھو نصیحت کے لیے ...

مزید پڑھیے

بیٹھے ہوئے ہیں ہم خود آنکھوں میں دھول ڈالے

بیٹھے ہوئے ہیں ہم خود آنکھوں میں دھول ڈالے اے روئے یار تو نے پردے فضول ڈالے جھگڑا ہی تم چکا دو جب تیغ کھینچ لی ہے آفت میں پھر نہ مجھ کو جان ملول ڈالے صورت تو ایک ہی تھی دو گھر ہوئے تو کیا ہے دیر و حرم کی بابت جھگڑے فضول ڈالے تربت سے کوئی پوچھے نیرنگئ زمانہ بعضوں نے خاک ڈالی ...

مزید پڑھیے

ہم نے پائی لذت دیدار لیکن دور سے

ہم نے پائی لذت دیدار لیکن دور سے ان کی صورت دیکھ لی سو بار لیکن دور سے وہ دکھاتے ہیں ہمیں رخسار لیکن دور سے اس کا مطلب ہے کہ کر لو پیار لیکن دور سے اس نے جانچا میرا درد دل مگر آیا نہ پاس اس نے دیکھا میرا حال زار لیکن دور سے روزن دیوار سے حسرت بھری آنکھیں لڑیں ہو گئیں ان سے نگاہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2421 سے 6203