قومی زبان

دل ہو حساس تو جینے میں بہت گھاٹا ہے

دل ہو حساس تو جینے میں بہت گھاٹا ہے میں نے خود اپنے ہی زخموں کا لہو چاٹا ہے مجھ پہ احساں ہے مری تیشہ بکف سانسوں کا زندگی تجھ کو پہاڑوں کی طرح کاٹا ہے ڈوب کر دیکھ سمندر ہوں میں آوازوں کا طالب حسن سماعت مرا سناٹا ہے میں چٹانوں کی طرح جن کی کمیں گاہ بنا رفتہ رفتہ انہیں لہروں نے ...

مزید پڑھیے

وہ روکتا ہے مجھے شہر میں نکلنے سے

وہ روکتا ہے مجھے شہر میں نکلنے سے بھڑک اٹھوں نہ کہیں آندھیوں میں جلنے سے یہ طرز تلخ نوائی کچھ اتنی سہل نہیں زباں پہ آبلے پڑ جائیں سچ اگلنے سے خلا ہوائی سہاروں سے پر نہیں ہوتا بلند ہوتا ہے انساں کہیں اچھلنے سے خود اپنے آپ سے پوشیدہ رہنا نا ممکن نظر بدلتی نہیں آئنہ بدلنے ...

مزید پڑھیے

پتھر مجھے شرمندۂ گفتار نہ کر دے

پتھر مجھے شرمندۂ گفتار نہ کر دے اونچا مری آواز کو دیوار نہ کر دے مجبور سخن کرتا ہے کیوں مجھ کو زمانہ لہجہ مرے جذبات کا اظہار نہ کر دے زنجیر سمجھ کر مجھے توڑا تو ہے تو نے اب تجھ کو پریشاں مری جھنکار نہ کر دے چلتا ہوں تو پڑتے ہیں قدم میرے ہوا پر ڈرتا ہوں ہوا چلنے سے انکار نہ کر ...

مزید پڑھیے

زخم دل اور ہرا خون تمنا سے ہوا

زخم دل اور ہرا خون تمنا سے ہوا تشنگی کا مری آغاز ہی دریا سے ہوا چبھ گئی حلق میں کانٹوں کی طرح پیاس مری دشت سیراب مرے آبلۂ پا سے ہوا دل زندہ کو چنا درد کی دیواروں میں روک لیتی مجھے اتنا بھی نہ دنیا سے ہوا سر میں سودا تھا مگر پاؤں میں زنجیر نہ تھی خاک اڑاتا رہا منسوب نہ صحرا سے ...

مزید پڑھیے

اب کے برسات کی رت اور بھی بھڑکیلی ہے

اب کے برسات کی رت اور بھی بھڑکیلی ہے جسم سے آگ نکلتی ہے قبا گیلی ہے سوچتا ہوں کہ اب انجام سفر کیا ہوگا لوگ بھی کانچ کے ہیں راہ بھی پتھریلی ہے شدت کرب میں ہنسنا تو ہنر ہے میرا ہاتھ ہی سخت ہیں زنجیر کہاں ڈھیلی ہے گرد آنکھوں میں سہی داغ تو چہرے پہ نہیں لفظ دھندلے ہیں مگر فکر تو ...

مزید پڑھیے

سخن وری ہمیں کب تجربے سے آئی ہے

سخن وری ہمیں کب تجربے سے آئی ہے زباں میں چاشنی دل ٹوٹنے سے آئی ہے جدھر سے میرا بدن دھوپ چاٹ کر گزرا ہوائے سرد اسی راستے سے آئی ہے تڑپتا میں ہوں پسینہ ہے اس کے ماتھے پر شکست دل کی صدا آئنے سے آئی ہے کھلا ثبوت ہے یہ دشمنوں کے شب خوں کا کہ دھول ٹھہرے ہوئے قافلے سے آئی ہے سفر میں ...

مزید پڑھیے

ہم کیوں یہ کہیں کوئی ہمارا نہیں ہوتا

ہم کیوں یہ کہیں کوئی ہمارا نہیں ہوتا موجوں کے لئے کوئی کنارا نہیں ہوتا دل ٹوٹ بھی جائے تو محبت نہیں مٹتی اس راہ میں لٹ کر بھی خسارا نہیں ہوتا سرمایۂ شب ہوتے ہیں یوں تو سبھی تارے ہر تارہ مگر صبح کا تارا نہیں ہوتا اشکوں سے کہیں مٹتا ہے احساس تلون پانی میں جو گھل جائے وہ پارا نہیں ...

مزید پڑھیے

سایا کوئی میں اپنے ہی پیکر سے نکالوں

سایا کوئی میں اپنے ہی پیکر سے نکالوں تنہائی بتا کیسے تجھے گھر سے نکالوں اک موج بھی مل جائے اگر مجھ کو صلے میں گرتے ہوئے دریا کو سمندر سے نکالوں تیشے سے بجاتا پھروں میں بربط کہسار نغمے جو مرے دل میں ہیں پتھر سے نکالوں لو تیز نہیں کچھ مری آنکھوں ہی کی شاید مطلب یہی بے نوریٔ منظر ...

مزید پڑھیے

عمر کاٹی بتوں کی آڑوں میں

عمر کاٹی بتوں کی آڑوں میں بن کے پتھر رہا پہاڑوں میں وہ لڑائی میں بول اٹھے مجھ سے بات اچھی بنی بگاڑوں میں درد سر کے علاج کو وحشت کھینچ کر لے چلی پہاڑوں میں مستیاں اور بہار کا موسم مے کی لذت گلابی جاڑوں میں دختر رز کی شرم تو دیکھو چھپ گئی جا کے خم کی آڑوں میں تو نے پی ہی نہیں ہے ...

مزید پڑھیے

جنوں کے جوش میں انسان رسوا ہو ہی جاتا ہے

جنوں کے جوش میں انسان رسوا ہو ہی جاتا ہے گریباں پھاڑنے سے فاش پردا ہو ہی جاتا ہے محبت خوف رسوائی کا باعث بن ہی جاتی ہے طریق عشق میں اپنوں سے پردا ہو ہی جاتا ہے جوانی وصل کی لذت پہ راغب کر ہی دیتی ہے تمہیں اس بات کا غم کیوں ہے ایسا ہو ہی جاتا ہے بگڑتے کیوں ہو آپس میں شکایت کر ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2419 سے 6203