قومی زبان

تمہاری آنکھیں شرارتی ہیں

تمہاری آنکھیں شرارتی ہیں تم اپنے پیچھے چھپے ہوئے ہو بغور دیکھوں تمہیں تو مجھ کو شرارتوں پر ابھارتی ہیں تمہاری آنکھیں شرارتی ہیں لہو کو شعلہ بدست کر دیں یہ پتھروں کو بھی مست کر دیں حیات کی سوکھتی رتوں میں بہار کا بند و بست کر دیں کبھی گلابی کبھی سنہری سمندروں سے زیادہ ...

مزید پڑھیے

ڈبونے والوں کو شرمندہ کر چکا ہوں گا

ڈبونے والوں کو شرمندہ کر چکا ہوں گا میں ڈوب کر ہی سہی پار اتر چکا ہوں گا پہنچ تو جاؤں گا آب حیات تک لیکن زباں بھگونے سے پہلے ہی مر چکا ہوں گا سنائی جائے گی جب تک مجھے سزائے سخن سکوت وقت میں آواز بھر چکا ہوں گا مثال ریگ ہوں میں ساعتوں کی مٹھی میں وہ جب تک آئے گا سارا بکھر چکا ہوں ...

مزید پڑھیے

تیری جھلک نگاہ کے ہر زاویے میں ہے

تیری جھلک نگاہ کے ہر زاویے میں ہے دیکھوں تو شکل اپنی مرے آئنے میں ہے لٹکی ہوئی ہے روح کی سولی پہ زندگی سانسوں کا سلسلہ ہے کہ رسی گلے میں ہے کانٹوں کی پیاس نے مجھے کھینچا برہنہ پا جیسے بھری سبیل ہر اک آبلے میں ہے سانسوں کی اوٹ لے کے چلا ہوں چراغ دل سینے میں جو نہیں وہ گھٹن راستے ...

مزید پڑھیے

زندگی کھنچ گئی مجھ سے ترے ابرو کی طرح

زندگی کھنچ گئی مجھ سے ترے ابرو کی طرح اپنے ہی خون کا پیاسا ہوں لب جو کی طرح وہ ستارا جو مرے نام سے منسوب ہوا دیدۂ شب میں ہے اک آخری آنسو کی طرح شعلۂ سوز دروں سرد ہوا جاتا ہے کوئی سمجھائے صبا کو کہ چلے لو کی طرح کوئی دیوانہ اٹھے خاک اڑانے کے لئے آج بھی دشت ہیں پھیلے ہوئے بازو کی ...

مزید پڑھیے

منتظر رہنا بھی کیا چاہت کا خمیازہ نہیں

منتظر رہنا بھی کیا چاہت کا خمیازہ نہیں کان دستک پر لگے ہیں گھر کا دروازہ نہیں ہاتھ پر تو نے مقدر کی لکیریں کھینچ دیں کیا تجھے بھی میرے مستقبل کا اندازہ نہیں دیکھنا چاہوں تو خوشبو، چھونا چاہوں تو ہوا میرے دامن تک جو آئے تو وہ شیرازہ نہیں دفن ہوں احساس کی صدیوں پرانی قبر ...

مزید پڑھیے

یہ فیصلہ تو بہت غیر منصفانہ لگا

یہ فیصلہ تو بہت غیر منصفانہ لگا ہمارا سچ بھی عدالت کو باغیانہ لگا ہمارے خون سے بھی اس کی خوشبوئیں پھوٹیں ہمیں تو قتل بھی کر کے وہ بے وفا نہ لگا لگائی آگ بھی اس اہتمام سے اس نے ہمارا جلتا ہوا گھر نگار خانہ لگا ہم اتنا روح کی گہرائیوں کے عادی تھے کہ ڈوبتا ہوا دل ڈوبتا ہوا نہ ...

مزید پڑھیے

لیا جو اس کی نگاہوں نے جائزہ میرا

لیا جو اس کی نگاہوں نے جائزہ میرا تو ٹوٹ ٹوٹ گیا خود سے رابطہ میرا سماعتوں میں یہ کیسی مٹھاس گھلتی رہی تمام عمر رہا تلخ ذائقہ میرا چٹخ گیا ہوں میں اپنے ہی ہاتھ سے گر کر مرے ہی عکس نے توڑا ہے آئنہ میرا کیا گیا تھا کبھی مجھ کو سنگسار جہاں وہیں لگایا گیا ہے مجسمہ میرا جبھی تو عمر ...

مزید پڑھیے

خود مری آنکھوں سے اوجھل میری ہستی ہو گئی

خود مری آنکھوں سے اوجھل میری ہستی ہو گئی آئینہ تو صاف ہے تصویر دھندلی ہو گئی سانس لیتا ہوں تو چبھتی ہیں بدن میں ہڈیاں روح بھی شاید مری اب مجھ سے باغی ہو گئی فاش کر دیں میں نے خود اندر کی بے ترتیبیاں زندگی آرائشوں میں اور ننگی ہو گئی پیار کرتی ہیں مرے رستوں سے کیا کیا بندشیں توڑ ...

مزید پڑھیے

روشنی کے روپ میں خوشبو میں یا رنگوں میں آ

روشنی کے روپ میں خوشبو میں یا رنگوں میں آ میں تجھے پہچان لوں گا کتنے ہی چہروں میں آ بند آنکھوں میں بھی کیا ہوگی تری بے پردگی چھین لے مجھ سے یہ نیندیں یا مرے خوابوں میں آ ناچ اٹھے رقاصۂ جاں دھڑکنوں کی تھاپ پر ساز ہاتھوں میں اٹھائے دل کے سناٹوں میں آ تو جو شرماتا ہے میرے سامنے ...

مزید پڑھیے

جی بہلتا ہی نہیں سانس کی جھنکاروں سے

جی بہلتا ہی نہیں سانس کی جھنکاروں سے پھوڑ لوں سر نہ کہیں جسم کی دیواروں سے اپنے رستے ہوئے زخموں پہ چھڑک لیتا ہوں راکھ جھڑتی ہے جو احساس کے انگاروں سے گیت گاؤں تو لپک جاتے ہیں شعلے دل میں ساز چھیڑوں تو نکلتا ہے دھواں تاروں سے کاسۂ سر لیے پھرتی ہیں وفائیں اب بھی اب بھی تیشوں کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2417 سے 6203