قومی زبان

کیا بھلا مجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا

کیا بھلا مجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا زخم دل آپ کی نظروں سے بھی گہرا نکلا تشنگی جم گئی پتھر کی طرح ہونٹوں پر ڈوب کر بھی ترے دریا سے میں پیاسا نکلا جب کبھی تجھ کو پکارا مری تنہائی نے بو اڑی پھول سے تصویر سے سایا نکلا کوئی ملتا ہے تو اب اپنا پتہ پوچھتا ہوں میں تری کھوج میں تجھ سے ...

مزید پڑھیے

زندگی جس پر ہنسے ایسی کوئی خواہش نہ کی

زندگی جس پر ہنسے ایسی کوئی خواہش نہ کی گھاؤ سینے میں سجائے گھر کی آرائش نہ کی نکتہ چینی پر مری تم اتنے برگشتہ نہ ہو کہہ دیا جو کچھ بھی دل میں تھا مگر سازش نہ کی ایک سے حالات آئے ہیں نظر ہر دور میں رک گئے میرے قدم یا وقت نے گردش نہ کی جھک گیا قدموں پہ تیرے پھر بھی سر اونچا رہا آنکھ ...

مزید پڑھیے

پھر چاہے جتنی قامت لے کر آ جانا

پھر چاہے جتنی قامت لے کر آ جانا پہلے اپنی ذات سے تم باہر آ جانا تنہا طے کر لوں گا سارے مشکل رستے شرط یہ ہے کہ تم دروازے پر آ جانا میں دیوار پہ رکھ آؤں گا دیپ جلا کر سایا بن کر تم دروازے پر آ جانا تم نے ہم کو ٹھکرایا یہ ظرف تمہارا جب تم کو ٹھکرا دیں لوگ ادھر آ جانا باتوں کا بھی زخم ...

مزید پڑھیے

نقش دل پر کیسی کیسی صورتوں کا رہ گیا

نقش دل پر کیسی کیسی صورتوں کا رہ گیا کتنی لہریں ہم سفر تھیں پھر بھی پیاسا رہ گیا کیسی کیسی خواہشیں مجھ سے جدا ہوتی گئیں کس قدر آباد تھا اور کتنا تنہا رہ گیا ڈھونڈنے نکلا تھا آوازوں کی بستی میں اسے سوچ کر ویراں گزر گاہوں پہ بیٹھا رہ گیا اس سے ملنا یاد ہے مل کر بچھڑنا یاد ہے کیا ...

مزید پڑھیے

آدمی چونک چکا ہے مگر اٹھا تو نہیں

آدمی چونک چکا ہے مگر اٹھا تو نہیں میں جسے ڈھونڈ رہا ہوں یہ وہ دنیا تو نہیں روح کو درد ملا درد کو آنکھیں نہ ملیں تجھ کو محسوس کیا ہے تجھے دیکھا تو نہیں رنگ سی شکل ملی ہے تجھے خوشبو سا مزاج لالہ و گل کہیں تیرا ہی سراپا تو نہیں چہرہ دیکھوں تو خد و خال بدل جاتے ہی چھپ کے آئینے کے ...

مزید پڑھیے

میں ہرے موسموں میں جلتا رہا

میں ہرے موسموں میں جلتا رہا خوشبوؤں سے دھواں نکلتا رہا آگ پر ہونٹ رکھ دیے تھے کبھی آخری سانس تک پگھلتا رہا میں اکیلا بھی کارواں کی طرح راستوں کے بغیر چلتا رہا حادثے مجھ کو پیش آتے رہے اور زمانے کا جی بہلتا رہا میری آواز منحرف نہ ہوئی وقت کا فیصلہ بدلتا رہا زندگی مجھ کو قتل ...

مزید پڑھیے

گہرائیوں میں ذہن کی گرداب سا رہا

گہرائیوں میں ذہن کی گرداب سا رہا ساحل پہ بھی کھڑا ہوا غرقاب سا رہا بے نام سی اک آگ جلاتی رہی مجھے خوں کے بجائے جسم میں تیزاب سا رہا خالی وجود ہی لیے پھرتا رہا مگر کاندھوں پہ عمر بھر مرے اسباب سا رہا نغمے بکھیرتا رہا احساس تلخ بھی خامہ بھی میرے ہاتھ میں مضراب سا رہا اشکوں میں ...

مزید پڑھیے

کچھ ایسا اترا میں اس سنگ دل کے شیشے میں

کچھ ایسا اترا میں اس سنگ دل کے شیشے میں کہ چند سانس بھی آئے نہ اپنے حصے میں وہ ایک ایسے سمندر کے روپ میں آیا کہ عمر کٹ گئی جس کو عبور کرنے میں مجھے خود اپنی طلب کا نہیں ہے اندازہ یہ کائنات بھی تھوڑی ہے میرے کاسے میں ملی تو ہے مری تنہائیوں کو آزادی جڑی ہوئی ہیں کچھ آنکھیں مگر ...

مزید پڑھیے

نکھر سکا نہ بدن چاندنی میں سونے سے

نکھر سکا نہ بدن چاندنی میں سونے سے سحر ہوئی تو خراشیں چنیں بچھونے سے صدف لیے ہوئے ابھری ہے لاش بھی میری بچا رہے تھے مجھے لوگ غرق ہونے سے ہنر ہے تجھ میں تو قائل بھی کر زمانے کو چمک اٹھے گی نہ شکل آئنے کو دھونے سے لپٹ رہی ہیں مرے راستوں سے روشنیاں نظر میں لوگ ہیں کچھ سانولے سلونے ...

مزید پڑھیے

مانا کہ مشت خاک سے بڑھ کر نہیں ہوں میں

مانا کہ مشت خاک سے بڑھ کر نہیں ہوں میں لیکن ہوا کے رحم و کرم پر نہیں ہوں میں انسان ہوں دھڑکتے ہوئے دل پہ ہاتھ رکھ یوں ڈوب کر نہ دیکھ سمندر نہیں ہوں میں چہرے پہ مل رہا ہوں سیاہی نصیب کی آئینہ ہاتھ میں ہے سکندر نہیں ہوں میں وہ لہر ہوں جو پیاس بجھائے زمین کی چمکے جو آسماں پہ وہ پتھر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2418 سے 6203