کیا بھلا مجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا
کیا بھلا مجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا زخم دل آپ کی نظروں سے بھی گہرا نکلا تشنگی جم گئی پتھر کی طرح ہونٹوں پر ڈوب کر بھی ترے دریا سے میں پیاسا نکلا جب کبھی تجھ کو پکارا مری تنہائی نے بو اڑی پھول سے تصویر سے سایا نکلا کوئی ملتا ہے تو اب اپنا پتہ پوچھتا ہوں میں تری کھوج میں تجھ سے ...