قومی زبان

فراز دار کو ذوق جنوں تلاش کرے

فراز دار کو ذوق جنوں تلاش کرے یہ دل کہ تیری نظر کا فسوں تلاش کرے سکون کے لیے پہلے نظر نظر سے ملے نظر ملا کے یہ دل پھر سکوں تلاش کرے کسی نے زہد کیا اور تو کوئی مست ہوا جسے تو یوں نہیں ملتا وہ یوں تلاش کرے لو آج رمز نہاں کو عیاں کروں کہ بشر بروں پہ ثبت ہے تختی دروں تلاش کرے تمام ...

مزید پڑھیے

روح حاضر ہے مرے یار کوئی مستی ہو

روح حاضر ہے مرے یار کوئی مستی ہو حلقۂ رقص ہے تیار کوئی مستی ہو مجھ کو مٹی کے پیالے میں پلا تازہ شراب جسم ہونے لگا بے کار کوئی مستی ہو چار سمتوں نے ترے ہجر کے گھنگھرو باندھے اور ہم لوگ بھی ہیں چار کوئی مستی ہو میں من و تو کے صحیفوں کی تلاوت کروں گا بے وضو ہوں مری سرکار کوئی مستی ...

مزید پڑھیے

رات گئے یوں دل کو جانے سرد ہوائیں آتی ہیں

رات گئے یوں دل کو جانے سرد ہوائیں آتی ہیں اک درویش کی قبر پہ جیسے رقاصائیں آتی ہیں سادہ لوحی کی نبٹے گی اس رنگین زمانے سے دو آنکھوں کا پیچھا کرنے لاکھ ادائیں آتی ہیں ڈھونڈھ رہی ہے میرے تن میں شاید میری روح مجھے اپنے سناٹوں سے کچھ مانوس صدائیں آتی ہیں میرا اک اک لمحہ کرب لیے ...

مزید پڑھیے

چاپ آئے کہ ملاقات ہو آوازے سے

چاپ آئے کہ ملاقات ہو آوازے سے کب سے تنہائی لگی بیٹھی ہے دروازے سے مجھ سے تصویر طلب کرتی ہیں میری آنکھیں میں نے کچھ رنگ چنے تھے ترے شیرازے سے صاف گوئی سے اب آئینہ بھی کتراتا ہے اب تو پہچانتا ہوں خود کو بھی اندازے سے میں تو مٹی کا بدن اوڑھ کے خود نکلا ہوں کیا ڈراتی ہیں ہوائیں ...

مزید پڑھیے

دیدۂ سنگ میں بینائی کہاں سے آئے

دیدۂ سنگ میں بینائی کہاں سے آئے ظرف مردہ ہو تو سچائی کہاں سے آئے پیار تعمیر ہو جب بغض کی بنیادوں پر ملتی نظروں میں شناسائی کہاں سے آئے گم ہیں رنگوں میں خد و خال بھی تصویروں کے پس پردہ کا تماشائی کہاں سے آئے میری ہر سوچ کے رستے میں کھڑا ہے کوئی آئینہ خانے میں تنہائی کہاں سے ...

مزید پڑھیے

آگ سے سیراب دشت زندگانی ہو گیا

آگ سے سیراب دشت زندگانی ہو گیا شعلۂ دل آنکھ میں آیا تو پانی ہو گیا درد سینے میں اٹھا ماتھے پہ شکنیں پڑ گئیں رنگ چہرے کا صدائے بے زبانی ہو گیا تیری آنکھیں آئنہ ہاتھوں میں لے کر آ گئیں روبرو ہو کر ترے میں اپنا ثانی ہو گیا جب بھڑک اٹھا تھا تیرے قرب سے میرا بدن نام ان حساس لمحوں ...

مزید پڑھیے

زندگی خواب کی طرح دیکھی

زندگی خواب کی طرح دیکھی ناؤ گرداب کی طرح دیکھی میری عریانیوں کو ڈھانپ لیا گرد کمخواب کی طرح دیکھی عمر بھر چھیڑتی رہی ہم کو سانس مضراب کی طرح دیکھی راستے کی تھکن بھی کاندھے پر مال و اسباب کی طرح دیکھی عشق نے اس کو راکھ کر ڈالا برف تیزاب کی طرح دیکھی غرق ہو ہو گئے پسینے ...

مزید پڑھیے

سفر بھی دور کا ہے راہ آشنا بھی ہیں

سفر بھی دور کا ہے راہ آشنا بھی ہیں چلا ادھر کو ہوں جس سمت کی ہوا بھی نہیں گزر رہا ہوں قدم رکھ کے اپنی آنکھوں پر گئے دنوں کی طرف مڑ کے دیکھتا بھی نہیں مرا وجود مری زندگی کی حد نہ سہی کبھی جو طے ہی نہ ہو میں وہ فاصلہ بھی نہیں فضا میں پھیل چلی میری بات کی خوشبو ابھی تو میں نے ہواؤں ...

مزید پڑھیے

بازار

ایک مجبور کا تن بکتا ہے من بکتا ہے ان دکانوں میں شرافت کا چلن بکتا ہے سودا ہوتا ہے اندھیروں میں گناہوں کا یہاں زندگی نام ہے ہنستی ہوئی آہوں کا یہاں زندہ لاشوں کے لیے سرخ کفن بکتا ہے جھوٹی الفت کے اشاروں پہ وفا رقص کرے چند سکوں کے چھناکے پہ حیا رقص کرے حسن معصوم کا بے ساختہ پن بکتا ...

مزید پڑھیے

کربلا

لبوں پہ الفاظ ہیں کہ پیاسوں کا قافلہ ہے نمی ہے یہ یا فرات آنکھوں سے بہہ رہی ہے حیات آنکھوں سے بہہ رہی ہے سپاہ فسق و فجور یلغار کر رہی ہے دلوں کو مسمار کر رہی ہے لہو لہو ہیں ہماری سوچیں برہنہ سر ہے حیا تمنائیں بال نوچیں وفا کے بازو کٹے ہوئے ہیں ہلاکتوں کے غبار سے زندگی کے میداں پٹے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2416 سے 6203