قومی زبان

راہ میں چھوڑ کر نہیں جاتا

راہ میں چھوڑ کر نہیں جاتا ساتھ ہوتا اگر نہیں جاتا انگلیاں پھیر میرے بالوں میں یہ مرا درد سر نہیں جاتا یوں لگا ہوں ترے گلے سے میں جس طرح کوئی ڈر نہیں جاتا کیوں مرا آس پاس گھومتا ہے کیوں یہ نشہ اتر نہیں جاتا یوں پڑا ہوں تمہاری یادوں میں جس طرح کوئی مر نہیں جاتا کتنا اچھا تھا ہم ...

مزید پڑھیے

ہجر ہوں پورا ہجر ہوں عشق وصال کرے

ہجر ہوں پورا ہجر ہوں عشق وصال کرے دل کی دھڑکن تال ہو جسم دھمال کرے دیکھوں اس کی چاندنی چاند سے بھی شفاف اور سنہری روشنی اپنا جمال کرے گندم جیسے رنگ پر کالی چادر تان گیتوں جیسی زندگی بے سر تال کرے منظر سے جو دور ہیں ان پر کرے نگاہ دھیان سے پہلے دیکھنا وہی کمال کرے اس کا اک پل ...

مزید پڑھیے

دل سے اک یاد بھلا دی گئی ہے

دل سے اک یاد بھلا دی گئی ہے کسی غفلت کی سزا دی گئی ہے میں نے منزل کی دعا مانگی تھی میری رفتار بڑھا دی گئی ہے عیب دیوار کے ہوں گے ظاہر میری تصویر ہٹا دی گئی ہے میں نے اک دل پہ حکومت کیا کی مجھے تلوار تھما دی گئی ہے اب محبت کا سبب ہے وحشت ورنہ حسرت تو مٹا دی گئی ہے اب یہاں سے نہیں ...

مزید پڑھیے

سہولت ہو اذیت ہو تمہارے ساتھ رہنا ہے

سہولت ہو اذیت ہو تمہارے ساتھ رہنا ہے کہ اب کوئی بھی صورت ہو تمہارے ساتھ رہنا ہے ہمارے رابطے ہی اس قدر ہیں، تم ہو اور بس تم تمہیں سب سے محبت ہو تمہارے ساتھ رہنا ہے اور اب گھر بار جب ہم چھوڑ کر آ ہی چکے ہیں تو تمہیں جتنی بھی نفرت ہو تمہارے ساتھ رہنا ہے ہمارے پاؤں میں کیلیں اور ...

مزید پڑھیے

حالت حال میں آداب نہیں بھولتا میں

حالت حال میں آداب نہیں بھولتا میں خود کو بھولوں بھی تو احباب نہیں بھولتا میں میں ابھی عشق نہیں حالت ایمان میں ہوں جنگ کرتے ہوئے اسباب نہیں بھولتا میں جذب کرتی ہوئی خلقت سے محبت ہے مجھے چاند کو چھوڑیئے تالاب نہیں بھولتا میں اے مجھے خواب دکھاتے ہوئے لوگو سن لو میرا دکھ یہ ہے ...

مزید پڑھیے

میں کھجوروں بھرے صحراؤں میں دیکھا گیا ہوں

میں کھجوروں بھرے صحراؤں میں دیکھا گیا ہوں تخت کے بعد ترے پاؤں میں دیکھا گیا ہوں دفن ہوتی ہوئی جھیلوں میں ٹھکانے ہیں مرے خشک ہوتے ہوئے دریاؤں میں دیکھا گیا ہوں مسجدوں اور مزاروں میں مرے چرچے ہیں مندروں اور کلیساؤں میں دیکھا گیا ہوں لمحہ بھر کو مرے سر پر کوئی بادل آیا کہنے ...

مزید پڑھیے

رابطہ مجھ سے مرا جوڑ دیا کرتا تھا

رابطہ مجھ سے مرا جوڑ دیا کرتا تھا وہ جو اک شخص مجھے چھوڑ دیا کرتا تھا مجھے دریا، کبھی صحرا کے حوالے کر کے وہ کہانی کو نیا موڑ دیا کرتا تھا اس سے آگے تو محبت سے گلہ ہے مجھ کو تو تو بس ہات مرا چھوڑ دیا کرتا تھا بات پیڑوں کی نہیں، غم ہے پرندوں کا ندیمؔ گھونسلے جن کے کوئی توڑ دیا ...

مزید پڑھیے

جیسا ہوں جس حال میں ہوں اچھا ہوں میں

جیسا ہوں جس حال میں ہوں اچھا ہوں میں تم نے زندہ سمجھا تو زندہ ہوں میں اک آواز کے آتے ہی مر جاؤں گا اک آواز کے سننے کو زندہ ہوں میں کھلے ہوئے دروازے دستک بھول چکے اندر آ جاؤ پہچان چکا ہوں میں اور کوئی پہچان مری بنتی ہی نہیں جانتے ہیں سب لوگ کہ بس تیرا ہوں میں جانے کس کو راضی کرنا ...

مزید پڑھیے

وقت کی طرح ترے ہاتھ سے نکلے ہوئے ہیں

وقت کی طرح ترے ہاتھ سے نکلے ہوئے ہیں ہم ستارے ہیں مگر رات سے نکلے ہوئے ہیں خامشی ہم پہ گری آخری مٹی کی طرح ایسے چپ ہیں کہ ہر اک بات سے نکلے ہوئے ہیں ہم کسی زعم میں ناراض ہوئے ہیں تجھ سے ہم کسی بات پہ اوقات سے نکلے ہوئے ہیں یہ مرا غم ہے مرے دوست مگر تو یہ سمجھ اشک تو شدت جذبات سے ...

مزید پڑھیے

بس یہی کچھ ہے مرتبہ مرے پاس

بس یہی کچھ ہے مرتبہ مرے پاس ایک تو ہے اور اک دعا مرے پاس تجھے کچھ وقت چاہئے مری جان وقت ہی تو نہیں بچا مرے پاس روشنی حفظ ہو چکی ہے مجھے رکھ گیا تھا کوئی دیا مرے پاس یہ تری گفتگو کا لمحہ ہے اس گھڑی ہے مرا خدا مرے پاس ٹہنیاں جھک رہی تھیں تیرے لیے اور پھل ٹوٹ کے گرا مرے پاس ایک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2414 سے 6203