قومی زبان

دل کو ہر گام پہ دھڑکے سے لگے رہتے ہیں

دل کو ہر گام پہ دھڑکے سے لگے رہتے ہیں تجھ کو کھو دینے کے خدشے سے لگے رہتے ہیں سر تو کٹ جاتے ہیں جسموں سے مگر صدیوں تک خاک پر خون کے دھبے سے لگے رہتے ہیں جھاڑ پونچھ ایک مرے کام نہیں آ پائی در و دیوار پہ جالے سے لگے رہتے ہیں پیاس اڑتی ہے لب ہجر پہ مانند غبار وصل کی جھیل پہ پہرے سے ...

مزید پڑھیے

کرن تو گھر کے اندر آ گئی تھی

کرن تو گھر کے اندر آ گئی تھی سنہری دھوپ کیوں کجلا گئی تھی کچھ ایسی بے حسی سے پیش آیا کہ میری بے کسی شرما گئی تھی چھناکا تو مرے اندر ہوا تھا تری آواز کیوں بھرا گئی تھی وہی رشتے وہی ناطے وہی غم بدن سے روح تک اکتا گئی تھی جنم پا کر جنم پایا نہ میں نے مجھے لفظوں کی ناگن کھا گئی ...

مزید پڑھیے

سر نیاز وہ سودا نظر نہیں آتا

سر نیاز وہ سودا نظر نہیں آتا وہ جیسا پہلے تھا ویسا نظر نہیں آتا وہ رات تھی تو بسر ہو گئی بہر صورت اگر یہ دن ہے تو کٹتا نظر نہیں آتا یہ کس کی اوٹ میں جلتے رہے رتوں کے چراغ کسی گلی میں اجالا نظر نہیں آتا رکوں تو حجلۂ منزل پکارتا ہے مجھے قدم اٹھاؤں تو رستہ نظر نہیں آتا ہوا میں روئی ...

مزید پڑھیے

کیا کہیں کیسے بسر ہجر کی راتیں کی ہیں

کیا کہیں کیسے بسر ہجر کی راتیں کی ہیں عمر بھر چاند سے اک شخص کی باتیں کی ہیں کب اذانوں سے نہ معمور تھا کعبہ دل کا کب فقیروں نے قضا عشق صلوٰتیں کی ہیں تیری خوشبو سے کوئی خط نہ ہوا پر لکھا خشک کس دھوپ نے پھولوں کی دواتیں کی ہیں ہار تو کھیل کا حصہ تھی مگر فرق یہ ہے مات سے پہلے ہی تہہ ...

مزید پڑھیے

تھکن سے چور بدن دھول میں اٹا سر تھا

تھکن سے چور بدن دھول میں اٹا سر تھا میں جب گرا تو مرے سامنے مرا گھر تھا تہی ثمر شجر خواب کچھ نڈھال سے تھے زمیں پہ سوکھی ہوئی پتیوں کا بستر تھا اسی کی آب تھی اس شب میں روشنی کی لکیر وہ ایک شخص کہ جو کانچ سے بھی کم تر تھا نہیں کہ گرد ہیں سات آسماں ہی گردش میں زمیں کی طرح مرے پاؤں ...

مزید پڑھیے

اندھے بدن میں یہ سحر آثار کون ہے

اندھے بدن میں یہ سحر آثار کون ہے تو بھی نہیں تو مجھ میں شرربار کون ہے وہ کون ہے جو جاگتا ہے میری نیند میں اسرار میں ہوں صاحب اسرار کون ہے کس نے وفا کے نام پہ دھوکا دیا مجھے کس سے کہوں کہ میرا گنہ گار کون ہے سب نے گلے لگا کے گلے سے جدا کیا پہچان ہی نہیں کہ ریاکار کون ہے پھر یوں ...

مزید پڑھیے

عشق آباد فقیروں کی ادا رکھتے ہیں

عشق آباد فقیروں کی ادا رکھتے ہیں اور کیا اس کے سوا اہل انا رکھتے ہیں ہم تہی دست کچھ ایسے بھی تہی دست نہیں کچھ نہیں رکھتے مگر پاس وفا رکھتے ہیں زندگی بھر کی کمائی یہ تعلق ہی تو ہے کچھ بچے یا نہ بچے اس کو بچا رکھتے ہیں شعر میں پھوٹتے ہیں اپنی زباں کے چھالے نطق رکھتے ہیں مگر سب سے ...

مزید پڑھیے

اک رنج عمر دے کے چلا ہے کدھر مجھے

اک رنج عمر دے کے چلا ہے کدھر مجھے گلیوں میں رول دیں نہ مرے بال و پر مجھے دل پربتوں کے پار نہ چل دے ہوا کے ساتھ بادل بنا نہ دے مری خوئے سفر مجھے میں نے جنہیں چھوا انہیں شہکار کر دیا اے کاش چھو سکے مرا دست ہنر مجھے تم سے بچھڑ کے عمر بھر اک سوچ ہی رہی کیا ہو تم ایک روز بھلا دو اگر ...

مزید پڑھیے

اے مہ ہجر کیا کہیں کسی تھکن سفر میں تھی

اے مہ ہجر کیا کہیں کیسی تھکن سفر میں تھی روپ جو رہ گزر میں تھے دھوپ جو رہ گزر میں تھی لفظ کی شکل پر نہ جا لفظ کے رنگ بھی سمجھ ایک خبر پس خبر آج کی ہر خبر میں تھی رات فصیل شہر میں ایک شگاف کیا ملا خون کی اک لکیر سی صبح نظر نظر میں تھی میری نگاہ میں بھی خواب تیری نگاہ میں خواب ایک ہی ...

مزید پڑھیے

ترا رنگ بصیرت ہو بہو مجھ سا نکل آیا

ترا رنگ بصیرت ہو بہو مجھ سا نکل آیا تجھے میں کیا سمجھتا تھا مگر تو کیا نکل آیا ذرا سا کام پڑتے ہی مزاج اک خاک زادے کا قد و قامت میں گردوں سے بھی کچھ اونچا نکل آیا زر خوشبو کھنکتا رہ گیا دست گل تر میں دل سادہ خریدار دل سادہ نکل آیا عجب اک معجزہ اس دور میں دیکھا کہ پہلو سے ید بیضا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2401 سے 6203