قومی زبان

یقیں نے مجھ کو اسیر‌ گماں نہ رہنے دیا

یقیں نے مجھ کو اسیر‌ گماں نہ رہنے دیا کہ اس نے ربط کوئی درمیاں نہ رہنے دیا مری نظر ہی سمندر کی آخری حد تھی مری تھکن نے مجھے پرفشاں نہ رہنے دیا کسی نے کشتی اتاری تو تھی سمندر میں مگر ہوا نے کوئی بادباں نہ رہنے دیا کوئی تو برف بکف دشت کی طرف آیا کسی نے بحر میں پانی رواں نہ رہنے ...

مزید پڑھیے

زرد پتوں کو درختوں سے جدا ہونا ہی تھا

زرد پتوں کو درختوں سے جدا ہونا ہی تھا ہم کہ دریا ہیں سمندر کی غذا ہونا ہی تھا اور کب تک بے ثمر رکھتی خزاں پیڑوں کے ہاتھ رت بدل جانا تھی یہ جنگل ہرا ہونا ہی تھا روکنے سے کب ہوا کے نرم جھونکے رک سکے بند دروازوں کو اک دن نیم وا ہونا ہی تھا دھول کب تک جھونکے اک دوسرے کی آنکھ میں ایک ...

مزید پڑھیے

ہر چند جیسا سوچا تھا ویسا نہیں ہوا

ہر چند جیسا سوچا تھا ویسا نہیں ہوا لیکن کہا ہوا کا بھی پورا نہیں ہوا تم ایک گرد باد تھے چکرا کے رہ گئے ہم سے بھی پار ذات کا صحرا نہیں ہوا خوشبو کہیں تو پھول ہوا لے اڑی کہیں یوں منتشر کسی کا قبیلہ نہیں ہوا سو وسوسوں کی گرد برستی رہی مگر دل ایسا آئنہ تھا کہ میلا نہیں ہوا پتھر تھے ...

مزید پڑھیے

دیئے آنکھوں کی صورت بجھ چکے ہیں

وصل کے لمحوں کی گنتی کرنے والے ہاتھ حدت سے تہی ہیں موج میں آئے ہوئے دریا میں کشتی کون ڈالے مانجھیوں کے گیت لہروں کی طرح ساحل کی بھیگی ریت پر بکھرے ہوئے ہیں اب کسی بڑھیا کی گٹھری کوئی اہل دل اٹھا کر بستیوں کا رخ نہیں کرتا کسی ہمسائے سے احوال دل معلوم کرنا کار بے اجرت ہوا ہے نفسی ...

مزید پڑھیے

آسماں سورج ستارے بحر و بر کس کے لیے

آسماں سورج ستارے بحر و بر کس کے لیے یہ سفر کس کے لئے رخت سفر کس کے لئے وہ ہرے دن وہ بھرے موسم تو کب کے جا چکے ہاتھ پھیلائے کھڑے ہیں اب شجر کس کے لئے دن نکلتے ہی نکل آئے تھے کس کی کھوج میں شام ڈھلتے ہی چلے آئے ہیں گھر کس کے لیے تو کسی کا منتظر کب تھا مگر یہ تو بتا عمر بھر دل کا کھلا ...

مزید پڑھیے

کہ خود انسان ڈھلتا جا رہا ہے

کہ خود انسان ڈھلتا جا رہا ہے کھلنڈرا سا کوئی بچہ ہے دریا سمندر تک اچھلتا جا رہا ہے نہ کچھ کہتا نہ کچھ سنتا ہے کوئی فقط پہلو بدلتا جا رہا ہے ادھر ملتی نہیں سانسوں سے سانسیں زمانہ ہے کہ چلتا جا رہا ہے نہیں اس کو کھلونوں کی ضرورت وہ اب خود ہی بہلتا جا رہا ہے مکانوں میں نئے روزن ...

مزید پڑھیے

ایک میری جاں میں اور اک لہر صحراؤں میں تھی

ایک میری جاں میں اور اک لہر صحراؤں میں تھی کچھ نکیلے سنگ تھے کچھ ریت دریاؤں میں تھی کیا ہوا وہ گرم دوپہروں میں یخ ہونا مرا کیا ہوئی وہ دھوپ سی لذت کہ جو چھاؤں میں تھی کیا خبر کیا جسم تھے کیوں موج صحرا ہو گئے کیا بتائیں کس بلا کی گونج دریاؤں میں تھی شہر والے کب کے محروم بصارت ہو ...

مزید پڑھیے

پیرہن اڑ جائے گا رنگ قبا رہ جائے گا

پیرہن اڑ جائے گا رنگ قبا رہ جائے گا پھول کے تن پر فقط عکس ہوا رہ جائے گا ہم تو سمجھے تھے کہ چاروں در مقفل ہو چکے کیا خبر تھی ایک دروازہ کھلا رہ جائے گا کرچیاں ہو جائیں گی آنکھیں بھی خوابوں کی طرح آئینوں میں نقش سا تصویر کا رہ جائے گا بات لب پر آ گئی تو کون روکے گا اسے اور تیرا ...

مزید پڑھیے

آسمانوں سے زمینوں پہ جواب آئے گا

آسمانوں سے زمینوں پہ جواب آئے گا ایک دن رات ڈھلے یوم حساب آئے گا مطمئن ایسے کہ ہر گام یہی سوچتے ہیں اس سفر میں کوئی صحرا نہ سراب آئے گا یہ جوانی تو بڑھاپے کی طرح گزرے گی عمر جب کاٹ چکوں گا تو شباب آئے گا کب مری آنکھوں میں خوں رنگ کرن اترے گی رات کی شاخ پہ کب عکس گلاب آئے گا زرد ...

مزید پڑھیے

موت سے زیست کی تکمیل نہیں ہو سکتی

موت سے زیست کی تکمیل نہیں ہو سکتی روشنی خاک میں تحلیل نہیں ہو سکتی موم ہو جاؤں کہ پتھر سے خدا ہو جاؤں کسی صورت مری تکمیل نہیں ہو سکتی کس لیے سانس کی زنجیر سے باندھا ہے مجھے اور کچھ صورت تذلیل نہیں ہو سکتی کس لیے زندہ ہوں میں کس کے لیے زندہ ہوں جرم ایسا ہے کہ تاویل نہیں ہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2400 سے 6203