قومی زبان

شب بھلی تھی نہ دن برا تھا کوئی

شب بھلی تھی نہ دن برا تھا کوئی جیسا جی کو ترے لگا تھا کوئی اشک تھے کرچیاں تھیں آنکھیں تھیں آئنہ سے امنڈ پڑا تھا کوئی ٹوٹ کر کس نے کس کو چاہا تھا کس کا ملبہ اٹھا رہا تھا کوئی لاکھ آنچل ہوا کے ہاتھ میں تھے سر برہنہ مگر کھڑا تھا کوئی اپنے ہی سر میں ڈالنے کے لیے خاک اپنی اڑا رہا تھا ...

مزید پڑھیے

اک وہم کی صورت سر دیوار یقیں ہیں

اک وہم کی صورت سر دیوار یقیں ہیں دیکھو تو ہیں موجود نہ دیکھو تو نہیں ہیں ہم سے کشش موجۂ رفتار نہ پوچھو ہم اہل محبت تو گرفتار زمیں ہیں اس راہ سے ہٹ کر گزر اے ناقۂ لیلیٰ اس گوشۂ صحرا میں ہم آرام گزیں ہیں چھوڑیں بھی تو کس طرح ہم اس شہر کو چھوڑیں اس نجد کے پابند ترے خاک نشیں ہیں اس ...

مزید پڑھیے

خیمۂ جاں کی طنابوں کو اکھڑا جانا تھا

خیمۂ جاں کی طنابوں کو اکھڑ جانا تھا ہم سے اک روز ترا غم بھی بچھڑ جانا تھا کون سے کاج سنورتے ہیں ترے ہونے سے کون سا کام نہ ہونے سے بگڑ جانا تھا بیعت عشق نہ کی بیعت شاہی کے لیے قصر بسنا تھے سو مقتل کو اجڑ جانا تھا سنگ ریزوں کی کمی کب تھی سر راہ وصال دل کم ظرف کا دامن ہی سکڑ جانا ...

مزید پڑھیے

مری جستجو کا حاصل مرا شوق والہانہ

مری جستجو کا حاصل مرا شوق والہانہ مری آرزو کی منزل نہ چمن نہ آشیانہ کوئی دل جہاں بنا ہے غم عشق کا نشانہ وہیں راس آ گئی ہے اسے گردش زمانہ کبھی یاد آ گئی ہے تو گھٹائیں چھا گئی ہیں میں کسے بتاؤں کیا ہے تری زلف کافرانہ مری شاعری میں پنہاں مرے دل کی دھڑکنیں ہیں مری ہر غزل ہے گویا غم ...

مزید پڑھیے

غنچے غنچے پہ گلستاں کے نکھار آ جائے

غنچے غنچے پہ گلستاں کے نکھار آ جائے جس طرف سے وہ گزر جائیں بہار آ جائے ہر نفس حشر بہ داماں ہے جنون غم میں کس طرح اہل محبت کو قرار آ جائے وہ کوئی جام پلا دیں تو نہ جانے کیا ہو جن کے دیکھے ہی سے آنکھوں میں خمار آ جائے غیر ہی سے سہی پیہم یہ کدورت کیوں ہو کہیں آئینۂ دل پر نہ غبار آ ...

مزید پڑھیے

عقل گہوارۂ اوہام ہوئی جاتی ہے

عقل گہوارۂ اوہام ہوئی جاتی ہے ہر تمنا مری ناکام ہوئی جاتی ہے باعث شورش کونین ہے انساں کی خودی بے خودی مورد الزام ہوئی جاتی ہے اپنے پروانوں کو اے شمع مسلسل نہ جلا زندگی واقف انجام ہوئی جاتی ہے ہر روش پر چمن دہر میں یوں گل نہ کھلا ہر نظر دل کے لئے دام ہوئی جاتی ہے یوں بھی کوئی ...

مزید پڑھیے

ہم اپنے گھر سے برنگ ہوا نکلتے ہیں

ہم اپنے گھر سے برنگ ہوا نکلتے ہیں کسی کے حق میں کسی کے خلاف چلتے ہیں ابھی تو دن ہے ابھی تخت آسماں پہ چمک طلوع شام کے ساتھ آفتاب ڈھلتے ہیں چلے بھی ہم تو مہ و سال کی مثال چلے فقیر لوگ انہی سلسلوں میں پلتے ہیں اڑے بھی ہم تو اسی سمت رخ رہا اپنا جدھر اڑیں تو فرشتوں کے پر بھی جلتے ...

مزید پڑھیے

شب کے خلاف برسر پیکار کب ہوئے

شب کے خلاف برسر پیکار کب ہوئے ہم لوگ روشنی کے طلب گار کب ہوئے خوشبو کی گھات میں ہیں شکاری ہواؤں کے جھونکے مگر کسی سے گرفتار کب ہوئے تعبیر کی رتوں نے بدن زرد کر دئے پھر بھی یہ لوگ خواب سے بیدار کب ہوئے تالے لگا لئے ہیں خود اپنی زبان پر کیا بات ہے تم اتنے سمجھ دار کب ہوئے یہ عہد ...

مزید پڑھیے

کچھ اس کے سوا خواہش سادہ نہیں رکھتے

کچھ اس کے سوا خواہش سادہ نہیں رکھتے ہم تجھ سے بچھڑنے کا ارادہ نہیں رکھتے کب دل کی طرف لوٹ کے آئیں گے سفینے صحرا کے بگولے غم جادہ نہیں رکھتے کیا خاک سمٹ پائیں گے دنیا کے بکھیڑے ہم لوگ تو دامن بھی کشادہ نہیں رکھتے اڑ جائیں گے ہم بھی ورق خاک سے اک دن رنگوں کے سوا کوئی لبادہ نہیں ...

مزید پڑھیے

وہی رٹے ہوئے جملے اگل رہا ہوں ابھی

وہی رٹے ہوئے جملے اگل رہا ہوں ابھی گرفت حرف سے باہر نکل رہا ہوں ابھی وہ ایک تو کہ ہوا کی طرح گزر بھی چکا وہ ایک میں کہ فقط ہاتھ مل رہا ہوں ابھی مری نمود کسی جسم کی تلاش میں ہے میں روشنی ہوں اندھیروں میں چل رہا ہوں ابھی کشادہ برگ رہیں ہجر کے گھنے سائے ترے وصال کے صحرا میں جل رہا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2402 سے 6203