سو الجھنوں کے بیچ گزارا گیا مجھے
سو الجھنوں کے بیچ گزارا گیا مجھے جب بھی تری طلب میں سنوارا گیا مجھے کم ہو سکا نہ پھر بھی مرا مرتبہ اگر پستی میں آسماں سے اتارا گیا مجھے سلجھی نہ ایک بار کہیں زلف زندگی گرچہ ہزار بار سنوارا گیا مجھے اپنے مفاد کے لیے میدان جنگ میں جیتا گیا کبھی کبھی ہارا گیا مجھے دھویا گیا بدن ...