قومی زبان

سو الجھنوں کے بیچ گزارا گیا مجھے

سو الجھنوں کے بیچ گزارا گیا مجھے جب بھی تری طلب میں سنوارا گیا مجھے کم ہو سکا نہ پھر بھی مرا مرتبہ اگر پستی میں آسماں سے اتارا گیا مجھے سلجھی نہ ایک بار کہیں زلف زندگی گرچہ ہزار بار سنوارا گیا مجھے اپنے مفاد کے لیے میدان جنگ میں جیتا گیا کبھی کبھی ہارا گیا مجھے دھویا گیا بدن ...

مزید پڑھیے

یہ حادثہ بھی سر رہ گزار ہونا تھا

یہ حادثہ بھی سر رہ گزار ہونا تھا تری تلاش میں مجھ کو غبار ہونا تھا اچک لیا ہے انہیں بھی خزاں کے موسم نے وہ پھول پات کہ جن کو بہار ہونا تھا ہمیں خبر تھی تری طرز بادشاہی سے ہنر وروں کو ہی بے اختیار ہونا تھا انہی کے ہاتھ گریبان میں پڑے ہوئے ہیں جنہیں سدا سے ہی خدمت گزار ہونا ...

مزید پڑھیے

ایسی الجھن ہو کبھی ایسی بھی رسوائی ہو

ایسی الجھن ہو کبھی ایسی بھی رسوائی ہو دل کے ہر زخم میں دریاؤں کی گہرائی ہو عشق میں ایسے کسی کی بھی نہ رسوائی ہو ہر قدم پاؤں میں زنجیر نظر آئی ہو اس طرح یاد تری دل میں چلی آئی ہو جس طرح کوئی کلی شاخ پہ مسکائی ہو یوں گزرتے ہیں ترے ہجر میں دن رات مرے جان پہ جیسے کسی شخص کے بن آئی ...

مزید پڑھیے

یہ کیسا کار دنیا ہو رہا ہے

یہ کیسا کار دنیا ہو رہا ہے لہو انساں کا سستا ہو رہا ہے ذرا حالات کیا بدلے ہمارے جو اپنا تھا پرایا ہو رہا ہے دلوں کا میل بڑھتا جا رہا ہے بشر اندر سے کالا ہو رہا ہے گھٹائیں خشک ہوتی جا رہی ہیں جو دریا تھا وہ صحرا ہو رہا ہے یہی ہوتا رہا ہے ہم سے اکثر ہمارے ساتھ جیسا ہو رہا ہے قدم ...

مزید پڑھیے

تو نہ آئے گا مجھے جب سے یقیں آ گیا ہے

تو نہ آئے گا مجھے جب سے یقیں آ گیا ہے آسماں جیسے مرا زیر زمیں آ گیا ہے جس کے ملنے کو مسافت تھی کئی برسوں کی ایک ہی پل میں وہ ہم زاد یہیں آ گیا ہے نکھرا نکھرا سا ہے ہر شعر غزل کا میری سوچ میں جب سے تصور وہ حسیں آ گیا ہے ہر طرف طنز کے نشتر ہیں ہماری جانب کس کے ہاتھوں میں مرا دین مبیں ...

مزید پڑھیے

دور کچھ اہل جنوں کی بے قراری کیجیے

دور کچھ اہل جنوں کی بے قراری کیجیے ہو سکے تو ان کی تھوڑی غم گساری کیجیے جن کے بستر سے نہیں جاتی کوئی سلوٹ کبھی ان کی آنکھوں میں وفا کے خواب جاری کیجیے عشق کی قسمت یہی ہے عشق کا منصب یہی جاگیے شب بھر یوں ہی اختر شماری کیجیے نوچیے زخم جگر کو آنکھ بھر کر روئیے اور کب تک ہجر میں یوں ...

مزید پڑھیے

جو نقش مٹ چکا ہے بنانا تو ہے نہیں

جو نقش مٹ چکا ہے بنانا تو ہے نہیں اجڑا دیار ہم نے بسانا تو ہے نہیں آنکھوں کے دیپ راہ میں اس کے جلائیں کیا اس نے پلٹ کے پھر کبھی آنا تو ہے نہیں لازم ہے چلنا زیست کی راہوں پہ بھی مگر جو گر پڑے کسی نے اٹھانا تو ہے نہیں بھر جائے گا یہ تھوڑی سی چارہ گری کے بعد تازہ لگا ہے زخم پرانا تو ...

مزید پڑھیے

ہر بدن کو اب یہاں ایسا گہن لگنے لگا

ہر بدن کو اب یہاں ایسا گہن لگنے لگا جس کو دیکھو اب وہی بے پیرہن لگنے لگا جب سے ڈھالا ہے ستاروں میں نگاہ شوق کو چاند سے بڑھ کر تمہارا بانکپن لگنے لگا میری جانب پیار سے دیکھے نہ کوئی اک نظر حلقۂ احباب تیری انجمن لگنے لگا زندہ لاشوں کی طرح لگنے لگی انسانیت پیرہن اب آدمیت کا کفن ...

مزید پڑھیے

وہ ایک شخص بہ انداز محرمانہ ملا

وہ ایک شخص بہ انداز محرمانہ ملا ملا وہ جب بھی ہمیں ذات سے جدا نہ ملا ہمیں بھی اپنی جبیں کو جھکانا آتا تھا مگر تلاش تھی جس کی وہ نقش پا نہ ملا کسی کے حسن کا مضمون ہم رقم کرتے سو حسب حال ہمیں ایسا قافیہ نہ ملا وضاحتیں تو محبت میں ہم بھی کرتے مگر کتاب دل کا ہمیں کوئی حاشیہ نہ ...

مزید پڑھیے

کس طرح بنائیں ہم اپنا یہ مکاں یارو ریت اس نگر کی ہے اینٹ اس نگر کی ہے

کس طرح بنائیں ہم اپنا یہ مکاں یارو ریت اس نگر کی ہے اینٹ اس نگر کی ہے جوڑتے انہیں کیسے اور پھر کہاں یارو ریت اس نگر کی ہے اینٹ اس نگر کی ہے ایک حسرت تعمیر دل میں جو ذرا سی تھی ڈر تھا جاگ اٹھے گی اور جاگ اٹھی ہے کان کھول کر سن لو تم مرا بیاں یارو ریت اس نگر کی ہے اینٹ اس نگر کی ہے یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2395 سے 6203