قومی زبان

بدگماں مجھ سے نہ اے فصل بہاراں ہونا

بدگماں مجھ سے نہ اے فصل بہاراں ہونا میری عادت ہے خزاں میں بھی گل افشاں ہونا میرے غم کو بھی دل آویز بنا دیتا ہے تیری آنکھوں سے مرے غم کا نمایاں ہونا کیوں نہ پیار آئے اسے اپنی پریشانی پر سیکھ لے جو تری زلفوں سے پریشاں ہونا میرے وجدان نے محسوس کیا ہے اکثر تیری خاموش نگاہوں کا غزل ...

مزید پڑھیے

ایک دھوکا ہے یہ شب رنگ سویرا کیا ہے

ایک دھوکا ہے یہ شب رنگ سویرا کیا ہے یہ اجالا ہے اجالا تو اندھیرا کیا ہے تو مرے غم میں نہ ہنستی ہوئی آنکھوں کو رلا میں تو مر مر کے بھی جی سکتا ہوں میرا کیا ہے ذرے ذرے میں دھڑکتی ہے کوئی شے جیسے تری نظروں نے فضاؤں میں بکھیرا کیا ہے درد دنیا کی تڑپ دل میں مرے رہنے دے تو تو آنکھوں ...

مزید پڑھیے

اٹھانے والے یہ اک بات ہے بتانے کی

اٹھانے والے یہ اک بات ہے بتانے کی جبین شوق سے زینت تھی آستانے کی میں اس ادا کو نہ کیوں صبح دائمی کر لوں ٹھہر کہ کھینچ لوں تصویر مسکرانے کی تمہاری آنکھوں میں یہ سرخ سرخ ڈورے ہیں جھلک رہی ہے کہ سرخی مرے فسانے کی تجھے خبر بھی ہے نخشبؔ سے روٹھنے والے ترے بدلتے ہی بدلی نظر زمانے ...

مزید پڑھیے

خیال و خواب کی دنیا میں لا کے دیکھ لیا

خیال و خواب کی دنیا میں لا کے دیکھ لیا تری قسم تجھے تجھ سے چھپا کے دیکھ لیا جو بن پڑے تو ذرا میرے بن کے بھی دیکھو کہ تم نے مجھ کو تو اپنا بنا کے دیکھ لیا کسی طرح بھی وہ دل سے جدا نہیں ہوتے ہزار طرح سے ان کو بھلا کے دیکھ لیا ابھی نہ آئے تھے اچھی طرح سے ہوش میں ہم کسی نے ناز سے پھر ...

مزید پڑھیے

امتیاز حسن و الفت آشکارا ہو گیا

امتیاز حسن و الفت آشکارا ہو گیا تم نہ میرے ہو سکے اور میں تمہارا ہو گیا جانے کیا دل کو محبت میں سہارا ہو گیا یا خوشی بھی بار تھی یا غم گوارا ہو گیا میں کہاں اور جرأت عرض نیاز دل کہاں ہاں مگر تیرا ہی در پردہ اشارہ ہو گیا کیا محبت در حقیقت ہے محبت کا جواب تم بھی ہو جاؤ گے اس کے جو ...

مزید پڑھیے

کبھی تم نے بھی یہ سوچا کہ ہم فریاد کیا کرتے

کبھی تم نے بھی یہ سوچا کہ ہم فریاد کیا کرتے تمہارا دل دکھا کر اپنے دل کو شاد کیا کرتے مری بربادیوں پر ہنسنے والو یہ تو سمجھا دو جو مل جاتا تمہیں کو یہ دل برباد کیا کرتے نگاہ یاس میں جب نالۂ خاموش پنہاں ہے تو پھر ہونٹھوں کو ہم شرمندۂ فریاد کیا کرتے دم آخر بھی اے دل خود فریبی ...

مزید پڑھیے

نگاہ قہر پرور کو بھی تمہید خوشی سمجھے

نگاہ قہر پرور کو بھی تمہید خوشی سمجھے سمجھنا ہے تو کوئی ہم سے راز زندگی سمجھے وفاؤں کا نتیجہ ہم تو جو کچھ ہے سمجھتے ہیں مگر اے کاش انجام جفا وہ بھی کبھی سمجھے اسے دیر و حرم میں جاذبیت کیا نظر آئے جو تیری دید کو اصل مذاق بندگی سمجھے ہمیں تو خیر جو کچھ آپ نے چاہا وہ سمجھایا مگر یہ ...

مزید پڑھیے

دل مرا خوگر آلام ہوا جاتا ہے

دل مرا خوگر آلام ہوا جاتا ہے اب ستم بھی ترا انعام ہوا جاتا ہے ضبط غم موت کا پیغام ہوا جاتا ہے دل کی باتوں میں مرا کام ہوا جاتا ہے نسبت خاص تو ہے ظلم پہ یوں شاد تھے ہم یہ بھی انداز ترا عام ہوا جاتا ہے تیری مخمور نگاہوں کے تصدق میں کوئی واقف راز مے و جام ہوا جاتا ہے ترک الفت سے ...

مزید پڑھیے

ہو رہی ہے رات دن ہر سمت سے یلغار اب

ہو رہی ہے رات دن ہر سمت سے یلغار اب لڑ رہا ہے بس اکیلا ہی سپہ سالار اب مجھ کو جس کی جستجو تھی میرا دشمن مل گیا میں ہوں اپنے آپ ہی سے برسر پیکار اب ایک مرکز پر سمٹ کر رہ گئی ہے زندگی جذب ہے دیوار ہی میں سایۂ دیوار اب آپ دروازوں پہ دستک دے رہے ہیں کس لیے جائیے اس شہر میں کوئی نہیں ...

مزید پڑھیے

زباں خموش ہے معدوم ہو گئی آواز

زباں خموش ہے معدوم ہو گئی آواز نہ جانے کون سے صحرا میں کھو گئی آواز پرانی یادوں کی دہلیز پر کھڑا ہوں میں تمام دامن دل کو بھگو گئی آواز بھٹک رہا ہوں میں کب سے سراب کے پیچھے قریب آ کے بہت دور ہو گئی آواز تمام شکوے گلے ختم ہو گئے پل میں پھر آج داغ جدائی کے دھو گئی آواز سمجھ سکے گا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2362 سے 6203