قومی زبان

کھلونا

میرے ہونٹوں کے مہکتے ہوئے نغموں پہ نہ جا میرے سینے میں کئی طرح کے غم پلتے ہیں میرے چہرے پہ دکھاوے کا تبسم ہے مگر میری آنکھوں میں اداسی کے دیے جلتے ہیں جھانک کر دیکھ مری روح کی پہنائی میں کتنے غم کتنے فسانے ہیں برافگندہ نقاب کتنی ناپاک نگاہوں نے لٹیروں کی طرح میرے احساس سے چھینا ...

مزید پڑھیے

مصلحت

چاندنی رات کے ہنستے ہوئے خوابوں کی طرح نقرئی جسم کا شاداب گلستاں لے کر شوخ آنکھوں کے چھلکتے ہوئے پیمانوں میں مجھ تہی دست کے آلام کا درماں لے کر آج تو جن کو بجھانے کے لئے آئی ہے انہیں شعلوں سے مرے دل نے جلا پائی ہے انہیں شعلوں کی تب و تاب ہے جس نے اب تک میرے ادراک کو بے سوز نہیں ...

مزید پڑھیے

ایک کلرک لڑکی

جسم ہے تیرا رنگ کی دنیا روپ ہے تیرا نور کی وادی تو بھی مجبور ہے کلرکی پر اے کلرکوں کے دل کی شہزادی تیری آنکھیں سرور کا مندر تیری زلفیں بہار کا مسکن اور ٹائپ کی گت پہ ناچتا ہے تیرا دوشیزہ نغمئ جوبن تیرے ان عارضوں کے پھولوں پر گلستاں کا گمان ہوتا ہے اور تیرا غرور زیبائی فائلوں سے ...

مزید پڑھیے

ترا تذکرہ سو بہ سو کیوں کریں ہم

ترا تذکرہ سو بہ سو کیوں کریں ہم محبت کو بے آبرو کیوں کریں ہم لکھی ہے مقدر میں نا کامیابی کریں تو غم آرزو کیوں کریں ہم اگر رنگ و بو اس چمن کا ہے فانی نظر مائل رنگ و بو کیوں کریں ہم حسینوں کا پاس وفا غیر ممکن حسینوں سے یہ آرزو کیوں کریں ہم عداوت ہی جب حاصل دوستی ہے محبت کی پھر ...

مزید پڑھیے

بجلیوں کی ہنسی اڑانے کو

بجلیوں کی ہنسی اڑانے کو خود جلاتا ہوں آشیانے کو رو رہا ہے اگرچہ دل پھر بھی مسکراتا ہوں مسکرانے کو مطلقاً دل کشی نہ تھی اس میں کون سنتا مرے فسانے کو چھین لی اس نے طاقت پرواز آگ لگ جائے آشیانے کو شادؔ اتنا ہی ہم سمجھتے ہیں ہم سمجھتے نہیں زمانے کو

مزید پڑھیے

ناروا ہے کسی کی ہم راہی

ناروا ہے کسی کی ہم راہی راہ میں جا رہا ہوں تنہا ہی پھر بھی کیسا نفیس دھوکا ہے رنگ و بو ہے اگرچہ دھوکا ہی دل تری یاد میں تڑپتا ہے جیسے بے آب ہو کوئی ماہی فیض ساقی کا عام تھا ہر چند ہم کو رہنا مگر تھا پیاسا ہی آدمی تو فقیر ہی سا ہے ٹھاٹ ہیں شادؔ کے مگر شاہی

مزید پڑھیے

شام وعدہ کا ڈھل گیا سایہ (ردیف .. ا)

شام وعدہ کا ڈھل گیا سایہ آنے والا ابھی نہیں آیا زندگی کے غموں کو اپنا کر ہم نے دراصل تم کو اپنایا جستجو ہی دلوں کی منزل تھی ہم نے کھو کر تجھے، تجھے پایا زندگی نام ہے جدائی کا آپ آئے تو مجھ کو یاد آیا ہم نے تیری جفا کے پردے میں خود بھی دل پر بہت ستم ڈھایا زندگی سے تو خیر شکوہ ...

مزید پڑھیے

حیات ہے کہ مسلسل سفر کا عالم ہے

حیات ہے کہ مسلسل سفر کا عالم ہے ہر ایک سانس میں وحشی غزال کا رم ہے جہاں ازل سے گھٹا ٹوپ ظلمتیں ہیں محیط وہاں بھی آج فروزاں نگاہ آدم ہے انہیں کے خون سے دمکے گا کل رخ گیتی حیات جن کے لئے آج ساغر سم ہے اسی کی آنچ سے پگھلے گا زندگی کا جمود جو سوز آج بظاہر دلوں میں کم کم ہے جہان سوز ...

مزید پڑھیے

ڈوب کر پار اتر گئے ہیں ہم

ڈوب کر پار اتر گئے ہیں ہم لوگ سمجھے کہ مر گئے ہیں ہم اے غم دہر تیرا کیا ہوگا یہ اگر سچ ہے مر گئے ہیں ہم خیر مقدم کیا حوادث نے زندگی میں جدھر گئے ہیں ہم یا بگڑ کر اجڑ گئے ہیں لوگ یا بگڑ کر سنور گئے ہیں ہم موت کو منہ دکھائیں کیا یا رب زندگی ہی میں مر گئے ہیں ہم ہائے کیا شے ہے نشۂ مے ...

مزید پڑھیے

پھر اس دنیا سے امید وفا ہے

پھر اس دنیا سے امید وفا ہے تجھے اے زندگی کیا ہو گیا ہے بڑی ظالم نہایت بے وفا ہے یہ دنیا پھر بھی کتنی خوشنما ہے کوئی دیکھے تو بزم زندگی میں اجالوں نے اندھیرا کر دیا ہے خدا سے لوگ بھی خائف کبھی تھے مگر لوگوں سے اب خائف خدا ہے مزے پوچھو کچھ اس سے زندگی کے حوادث میں جسے جینا پڑا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2361 سے 6203