کھلونا
میرے ہونٹوں کے مہکتے ہوئے نغموں پہ نہ جا میرے سینے میں کئی طرح کے غم پلتے ہیں میرے چہرے پہ دکھاوے کا تبسم ہے مگر میری آنکھوں میں اداسی کے دیے جلتے ہیں جھانک کر دیکھ مری روح کی پہنائی میں کتنے غم کتنے فسانے ہیں برافگندہ نقاب کتنی ناپاک نگاہوں نے لٹیروں کی طرح میرے احساس سے چھینا ...