قومی زبان

وہ نالہ ہی نہیں جو پر افشاں نہیں ہوا

وہ نالہ ہی نہیں جو پر افشاں نہیں ہوا وہ داغ دل ہی کیا جو نمایاں نہیں ہوا کب وحشتوں سے دست و گریباں نہیں ہوا کب دل جنوں کے ہاتھ پریشاں نہیں ہوا بے کیفیوں کے کیف میں ہم ایسے مست تھے احساس لذت غم دوراں نہیں ہوا نوک مژہ پہ قطرۂ اشک آ کے جم گیا افسوس وہ بھی رونق داماں نہیں ہوا میری ...

مزید پڑھیے

گلا نہیں کہ کناروں نے ساتھ چھوڑ دیا

گلا نہیں کہ کناروں نے ساتھ چھوڑ دیا مرے سفینے کا دھاروں نے ساتھ چھوڑ دیا رہ حیات میں منزل کا آسرا کیسا قدم قدم پہ غباروں نے ساتھ چھوڑ دیا ہر ایک رخ سے سجا ہوتا زندگی کو مگر میں کیا کروں کہ بہاروں نے ساتھ چھوڑ دیا اداس دل نے اگر گیت گنگنایا بھی شکستہ ساز کے تاروں نے ساتھ چھوڑ ...

مزید پڑھیے

شب غم ضبط کوشی سے ہم اتنا کام لیتے ہیں

شب غم ضبط کوشی سے ہم اتنا کام لیتے ہیں جو دل میں ہوک اٹھتی ہے کلیجہ تھام لیتے ہیں نہ جانے کیوں نگاہوں سے گرے جاتے ہیں دنیا کی گنہ کرتے ہیں کوئی یا تمہارا نام لیتے ہیں اسی کو احترام حسن کہتے ہیں حقیقت میں ہم اپنے ذکر سے پہلے تمہارا نام لیتے ہیں نشاط آشیاں کا راز عرفان عقیدت ...

مزید پڑھیے

اس ادا سے عشق کا آغاز ہونا چاہئے

اس ادا سے عشق کا آغاز ہونا چاہئے سوز بھی دل میں بقدر ساز ہونا چاہئے جب محبت کو سراپا راز ہونا چاہئے کیوں شکست دل کی پھر آواز ہونا چاہئے آپ کھل جائے گا یہ باب قفس اے ہم نشیں دل میں پیدا جرأت پرواز ہونا چاہئے ہر نوائے آرزو کو اضطراب شوق میں دل کے ہر پردے سے ہم آواز ہونا چاہئے اذن ...

مزید پڑھیے

عشق میں عشق کا عنواں نہیں دیکھا جاتا

عشق میں عشق کا عنواں نہیں دیکھا جاتا درد میں درد کا درماں نہیں دیکھا جاتا عالم خواب پریشاں نہیں دیکھا جاتا دل کو احساس بہ داماں نہیں دیکھا جاتا ان سے کہہ دے کوئی وہ موند لیں آنکھیں اپنی جن سے نیرنگ گلستاں نہیں دیکھا جاتا بے خودی میری وہاں لائی جہاں پھر دل سے عالم ہوش کو گریاں ...

مزید پڑھیے

مرد میداں ہو تو کیوں کترا رہے ہو جنگ سے

مرد میداں ہو تو کیوں کترا رہے ہو جنگ سے کب تلک خر مستیاں یوں ہی رباب و چنگ سے بے حسی اوڑھے ہوئے کب تک یوں ہی ذلت سہیں کوئی تو آواز اٹھائے اک نئے آہنگ سے ہو بسیرا خاک پر دائم ترا مثل ملنگ جوڑ مت رشتہ تو اپنی ذات کا اورنگ سے ہو ترا اخلاق بر بنیاد عجز و انکسار آدمیت رکھ بچا کر ...

مزید پڑھیے

بلند حوصلے عالی جناب رکھتے ہیں

بلند حوصلے عالی جناب رکھتے ہیں ہم اپنی پلکوں پہ روشن سے خواب رکھتے ہیں ہزیمتوں کا کہیں بھی تو اندراج نہیں ہر اک ورق نئی فتحوں کے باب رکھتے ہیں ہم اپنی پیاس پہ رکھتے ہیں لوگو ضبط عظیم پتہ ہے خواب کے صحرا سراب رکھتے ہیں کبھی دراز نہ ہم نے کیا ہے دست طلب کہ فضل رب پہ یقیں بے حساب ...

مزید پڑھیے

دل میں بلائے عشق کا آزار بھی تو ہو

دل میں بلائے عشق کا آزار بھی تو ہو دست وفا پہ بیعت دل دار بھی تو ہو دیکھے ہیں ہم نے غازیٔ گفتار ہی فقط اے کاش کوئی صاحب کردار بھی تو ہو کہنے کو لاکھ لشکر جرار ہے مگر منظومات کو جید اک سالار بھی تو ہو جس پر سجائیں خلعت و آلات عسکری انبوہ بزدلاں میں وہ جی دار بھی تو ہو میناؔ ملے ...

مزید پڑھیے

نفرت کے سلسلے یہ عداوت کے سلسلے

نفرت کے سلسلے یہ عداوت کے سلسلے جانے کہاں گئے وہ اخوت کے سلسلے میری سبھی دعاؤں کا الٹا اثر ہوا ٹوٹے چلے گئے تیری چاہت کے سلسلے قوس قزح گلاب رتیں چاہتیں تری اب خواب ہو گئے وہ رفاقت کے سلسلے تم سے بچھڑ کے زیست میں تنہا ہی رہ گئے کب رکھ سکے کسی سے محبت کے سلسلے چنگاری کس نے ...

مزید پڑھیے

دروغ گو یہاں پیکر سبھی رعونت کے

دروغ گو یہاں پیکر سبھی رعونت کے جہاں میں عنقا ہوئے آئنے صداقت کے پڑا ہے کال ترے شہر میں تو کوچ کریں تلاش کرتے ہیں گوہر کہیں محبت کے خرد کی بات کہاں مانتا دل ناداں بکھر رہے ہوں دھنک رنگ جبکہ الفت کے بڑے ہی پیار سے چھوتے ہیں دل کے زخموں کو وہ نوک خار ہی ہیں گل نہیں ہیں چاہت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 237 سے 6203