وہ نالہ ہی نہیں جو پر افشاں نہیں ہوا
وہ نالہ ہی نہیں جو پر افشاں نہیں ہوا وہ داغ دل ہی کیا جو نمایاں نہیں ہوا کب وحشتوں سے دست و گریباں نہیں ہوا کب دل جنوں کے ہاتھ پریشاں نہیں ہوا بے کیفیوں کے کیف میں ہم ایسے مست تھے احساس لذت غم دوراں نہیں ہوا نوک مژہ پہ قطرۂ اشک آ کے جم گیا افسوس وہ بھی رونق داماں نہیں ہوا میری ...