قومی زبان

مجھے کل ملا جو سر چمن وہ تمام نخل شباب سا

مجھے کل ملا جو سر چمن وہ تمام نخل شباب سا کوئی بات اس کی شراب سی کوئی حرف اس کا گلاب سا جسے زندگی نہ بھلا سکے جسے موت بھی نہ مٹا سکے وہی میں ہوں غالبؔ خستہ جاں وہی میرؔ خانہ خراب سا وہ تمام گرد فنا ہوئی مرے جسم و جاں پہ جو بار تھی تری اک نظر میں سمٹ گیا مرے سر پہ تھا جو عذاب سا وہی ...

مزید پڑھیے

ہر شے وہی نہیں ہے جو پرچھائیوں میں ہے

ہر شے وہی نہیں ہے جو پرچھائیوں میں ہے اس کے سوا کچھ اور بھی گہرائیوں میں ہے آئینہ جس سے ٹوٹ کے بے آب ہو گیا وہ عکس بے نوا بھی تماشائیوں میں ہے فرصت ملے تو میں بھی کوئی مرثیہ لکھوں اک دشت کربلا مری تنہائیوں میں ہے کس شہر میں تلاش کریں رشتۂ وفا سنتے تو ہیں پرانی شناسائیوں میں ...

مزید پڑھیے

نظر ملی تھی کسی بے خبر سے پہلے بھی

نظر ملی تھی کسی بے خبر سے پہلے بھی صدائے تشنہ اٹھی تھی جگر سے پہلے بھی یہ سحر کم ہے کہ شاداب ہو گیا صحرا بہے تھے اشک بہت چشم تر سے پہلے بھی نیا نہیں ہے تقاضائے شیشہ و تیشہ گزر چکا ہوں میں اس درد سر سے پہلے بھی میں خاک چھاننے والا سواد صحرا کا پڑے تھے پاؤں میں چھالے سفر سے پہلے ...

مزید پڑھیے

سبب تو کچھ بھی نہیں اور اداس رہتا ہے

سبب تو کچھ بھی نہیں اور اداس رہتا ہے یہ کیسا درد ہے جو دل کے پاس رہتا ہے مجھے پتا نہیں اس کا مگر یہ سنتا ہوں وہ ان دنوں مرے گھر کے ہی پاس رہتا ہے مری کتاب کے اوراق سب تمہارے ہیں جہاں سے دیکھو ترا اقتباس رہتا ہے میں کاٹتا ہوں ہر ایک لمحہ کربلا کی طرح لبوں پہ پیاس تو دل میں ہراس ...

مزید پڑھیے

رنگ وحشت کم نہیں زخم تماشا کم نہیں

رنگ وحشت کم نہیں زخم تماشا کم نہیں زندہ رہنے کے لیے آشوب دنیا کم نہیں دیکھنا چاہیں تو ساحل پر لیے منظر بہت ڈوبنا چاہیں تو کوئی موج دریا کم نہیں لوٹ کر واپس نہیں آئے پرندے آج بھی حرص کے صید زبوں کو بال عنقا کم نہیں وقت کی رفتار کو ناپے ہے عقل نارسا ذرۂ نا چیز بھی ہنگامہ آرا کم ...

مزید پڑھیے

گھر چھوڑا بے سمت ہوئے حیرانی میں

گھر چھوڑا بے سمت ہوئے حیرانی میں کیسے کیسے دکھ جھیلے نادانی میں تازہ ہوا میں اس کے نفس کی خوشبو تھی قطرہ قطرہ ڈوب گیا میں پانی میں کس نے جوڑا کیوں جوڑا مذکور نہیں اس کا قصہ میری رام کہانی میں چاند کو آگے بڑھنا اوج پہ جانا تھا تارے ٹوٹے پل پل عین جوانی میں کیسا تھا وہ پیکر خوبی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2352 سے 6203