مجھے کل ملا جو سر چمن وہ تمام نخل شباب سا
مجھے کل ملا جو سر چمن وہ تمام نخل شباب سا کوئی بات اس کی شراب سی کوئی حرف اس کا گلاب سا جسے زندگی نہ بھلا سکے جسے موت بھی نہ مٹا سکے وہی میں ہوں غالبؔ خستہ جاں وہی میرؔ خانہ خراب سا وہ تمام گرد فنا ہوئی مرے جسم و جاں پہ جو بار تھی تری اک نظر میں سمٹ گیا مرے سر پہ تھا جو عذاب سا وہی ...