یاد رکھنا ایک دن تیری زباں تک آؤں گا
یاد رکھنا ایک دن تیری زباں تک آؤں گا خامشی کی قید سے حرف بیاں تک آؤں گا تو یقیں کے آئنہ میں دیکھنا چاہے گا اور میں فقط خوش فہمیٔ حد گماں تک آؤں گا چھو کے تیرے ذہن کے خاموش تاروں کو کبھی لے کے اک طوفاں ترے دل کے مکاں تک آؤں گا پھر ترے احساس کے شعلوں میں ڈھل جائے گی رات میں ابھر کر ...