قومی زبان

یاد رکھنا ایک دن تیری زباں تک آؤں گا

یاد رکھنا ایک دن تیری زباں تک آؤں گا خامشی کی قید سے حرف بیاں تک آؤں گا تو یقیں کے آئنہ میں دیکھنا چاہے گا اور میں فقط خوش فہمیٔ حد گماں تک آؤں گا چھو کے تیرے ذہن کے خاموش تاروں کو کبھی لے کے اک طوفاں ترے دل کے مکاں تک آؤں گا پھر ترے احساس کے شعلوں میں ڈھل جائے گی رات میں ابھر کر ...

مزید پڑھیے

پڑھ کے لکھ کے حالت کیا ہم نے یہ بنا لی ہے

پڑھ کے لکھ کے حالت کیا ہم نے یہ بنا لی ہے ڈگریاں ہیں ہاتھوں میں اور جیب خالی ہے طرز بھی یہ کیا تم نے خوب ہی نکالی ہے روبرو قصیدے ہیں پیٹھ پیچھے گالی ہے جس کو سن کے دشمن بھی مجھ پہ رشک کرتے ہیں دوستوں سے میں نے وہ بات ہی چھپا لی ہے سچ بھی میں نہیں کہتا جھوٹ سے بھی بچتا ہوں راہ اک ...

مزید پڑھیے

ہر گھڑی ایک ہی جیسا کبھی سوچا نہ کرو

ہر گھڑی ایک ہی جیسا کبھی سوچا نہ کرو وقت ہرجائی ہے تم اس پہ بھروسا نہ کرو وہ تو بادل ہے کہیں جا کے برس جائے گا اس قدر ٹوٹ کے اس شخص کو چاہا نہ کرو یہ بھی ممکن ہے کہ تم ہاتھ جلا لو اپنا میری ماضی کی کبھی راکھ کریدا نہ کرو لاکھ اپنے ہوں کسی پل بھی بدل جائیں گے ریت کے محل پہ اتنا بھی ...

مزید پڑھیے

وہیں پہ سچ کا مجھے ترجمان ہونا تھا

وہیں پہ سچ کا مجھے ترجمان ہونا تھا قدم قدم پہ جہاں امتحان ہونا تھا تمہاری یاد کو کب تک سجا کے رکھتا میں کبھی تو خالی یہ دل کا مکان ہونا تھا عجیب شوق تھا اس کو بھی حق نوائی کا گنوا کے جان بھی جگ میں مہان ہونا تھا میں اور حرص کیا کرتا لپک کے چھونے کی مجھے زمین اسے آسمان ہونا ...

مزید پڑھیے

نہ جانے کون سا رشتہ ہے مجھ سے ناتا ہے

نہ جانے کون سا رشتہ ہے مجھ سے ناتا ہے مری غزل کو وہ تنہائیوں میں گاتا ہے دریچے میں نے مقفل تو کر لئے لیکن وہ خوشبوؤں کی طرح گھر میں آتا جاتا ہے میں اس کے واسطے مشکل سا اک سبق ٹھہرا وہ مجھ کو یاد تو کرتا ہے بھول جاتا ہے وہ ایک لمس کہ اب تک نہ بھول پایا میں نہ جانے کیسے کسی کو کوئی ...

مزید پڑھیے

کرب آنکھوں سے عیاں دل میں کسک باقی ہے

کرب آنکھوں سے عیاں دل میں کسک باقی ہے تیرے جانے کی خلش آج تلک باقی ہے اس کی خواہش کا شجر خشک نہیں ہو سکتا جس کی ہر شاخ تمنا میں لچک باقی ہے پھر کسی شام کے رخسار پہ رکھ دے گا وہ دن کے چہرے پہ جو تھوڑا سا نمک باقی ہے سینکڑوں بار نسیمؔ اس کو تو دیکھا ہے مگر پھر بھی لگتا ہے ابھی ایک ...

مزید پڑھیے

کہنے کو پر سکون مگر مخمصے میں ہوں

کہنے کو پر سکون مگر مخمصے میں ہوں برسوں سے میں خدایا عجب مرحلے میں ہوں منزل ہے میرے آگے میں منزل کے روبرو پھر بھی میں چل رہا ہوں ابھی راستے میں ہوں جھوٹی گواہیوں کی بدولت وہ بچ گیا سچ بولتا ہوا میں ابھی کٹگھرے میں ہوں سچ بات کہنا جب سے شروع میں نے کر دیا تب سے کھڑا میں جیسے کسی ...

مزید پڑھیے

مری اوقات وہ اس طرح بتا دیتا ہے

مری اوقات وہ اس طرح بتا دیتا ہے خاک لے کر کے ہواؤں میں اڑا دیتا ہے میں بہت دور چلا جاتا ہوں جب بھی خود سے میرے اندر سے کوئی مجھ کو صدا دیتا ہے لاکھ کرتا رہا میں اس کو بھلانے کی سعی یاد رہ رہ کے کوئی اس کی دلا دیتا ہے جب بھی چاہا کہ اسے بڑھ کے میں فوراً چھو لوں کچی نیندوں سے کوئی ...

مزید پڑھیے

لمحہ لمحہ بیت چکا ہے اب جو تم پچھتاؤ تو کیا

لمحہ لمحہ بیت چکا ہے اب جو تم پچھتاؤ تو کیا بھولی بسری یادیں سب کے آگے بھی دہراؤ تو کیا کون پرایا درد سمیٹے کون کسی کا یار بنے اپنا زخم ہے اپنا پیارے لوگوں کو دکھلاؤ تو کیا پہلے تو تم آگ لگا کر سب کچھ جلتا چھوڑ گئے دیواریں تاریک ہوئی ہیں اب اس گھر میں آؤ تو کیا اس کا چہرہ اس کی ...

مزید پڑھیے

موج گل برگ حنا آب رواں کچھ بھی نہیں

موج گل برگ حنا آب رواں کچھ بھی نہیں اس جہان رنگ و بو میں جاوداں کچھ بھی نہیں پھر وہی ذوق تعلق پھر وہی کار جنوں سر میں سودا ہے تو آشوب جہاں کچھ بھی نہیں اک سمندر کتنا گہرا میرے پس منظر میں ہے سامنے لیکن زمین و آسماں کچھ بھی نہیں دھوپ کی چادر بھی مل جائے تو کافی ہے بہت کچے پکے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2351 سے 6203