ہاتھ خالی سر بازار لیے پھرتی ہے
ہاتھ خالی سر بازار لیے پھرتی ہے روح میں سینکڑوں آزار لیے پھرتی ہے بے خبر ہے کہ نہیں ہاتھ میں پھوٹی کوڑی ماں جسے گود میں بیمار لیے پھرتی ہے ایک دوشیزہ نمائش کا سہارا لے کر کتنے بے شکل خریدار لیے پھرتی ہے نوچ کر اپنی حیا اوڑھ کے چہرے پہ فریب ایک گمراہ سا کردار لیے پھرتی ہے حسرت ...