قومی زبان

ہاتھ خالی سر بازار لیے پھرتی ہے

ہاتھ خالی سر بازار لیے پھرتی ہے روح میں سینکڑوں آزار لیے پھرتی ہے بے خبر ہے کہ نہیں ہاتھ میں پھوٹی کوڑی ماں جسے گود میں بیمار لیے پھرتی ہے ایک دوشیزہ نمائش کا سہارا لے کر کتنے بے شکل خریدار لیے پھرتی ہے نوچ کر اپنی حیا اوڑھ کے چہرے پہ فریب ایک گمراہ سا کردار لیے پھرتی ہے حسرت ...

مزید پڑھیے

حق جو مانگا تو مرے ہاتھ میں کشکول دیا

حق جو مانگا تو مرے ہاتھ میں کشکول دیا آج اس نے مرے احساس کا در کھول دیا میرے ہونٹوں کو سخاوت کے قصیدے دے کر ہر گلی جا کے بجانے کو مجھے ڈھول دیا چن کے ہر ایک وفا اور مروت میری مجھ کو تحقیر کی میزان میں کیوں تول دیا میرے لقمے پہ نظر ایسے پڑی تھی اس کی زہر سا اک مرے احساس میں بس گھول ...

مزید پڑھیے

دل یہ کہتا ہے کہ رویا جائے

دل یہ کہتا ہے کہ رویا جائے آنکھ کے پیالوں کو دھویا جائے لے اڑا خواب تو آنکھوں سے کوئی اب نہ آرام سے سویا جائے ہار جب ٹوٹ کے بکھرے ہر سو آنسوؤں کو ہی پرویا جائے دھیان کا شہر تو کھونے کا نہیں آؤ اس شہر میں کھویا جائے رات ہنستی ہے تو شبنم بن کر دامن دل کو بھگویا جائے ہے یہ نقاشؔ ...

مزید پڑھیے

ٹوٹا ہے آج ابر جو اس آن بان سے

ٹوٹا ہے آج ابر جو اس آن بان سے برسے گا کل لہو بھی ترے آسمان سے یہ کس کے دل کی آگ سے جلتے ہیں بام و در شعلے سے اٹھ رہے ہیں بدن کے مکان سے سورج کی تیز دھوپ سے شاید اماں ملے رکتی ہے غم کی دھوپ کہیں سائبان سے چہروں پہ گرد آنکھوں میں نیندیں فضا خموش سستا رہے ہیں لوگ سفر کی تکان سے ہے ...

مزید پڑھیے

زخم اپنا سا کام کر نہ جائے

زخم اپنا سا کام کر نہ جائے پھر درد کی لے بکھر نہ جائے جب اس کی نگاہ اس طرف ہے کیوں میری نظر ادھر نہ جائے ہے فصل جنوں کی آمد آمد پیڑوں کا لباس اتر نہ جائے اب مجھ سے نہ مل کہ زہر میرا نس نس میں ترے اتر نہ جائے مدت سے ملا نہیں ہوں اس سے وہ میرے بغیر مر نہ جائے ایسا تو نہیں کہ لوٹ ...

مزید پڑھیے

پھیلا کے سر پہ درد کی چادر چلا گیا

پھیلا کے سر پہ درد کی چادر چلا گیا اک شخص میری روح پہ نشتر چلا گیا مجھ سے خطا ہوئی تھی کہ ایسی مرا خدا ناراض ہو کے شہر سے باہر چلا گیا شیشے لہولہان پڑے ہیں جو فرش پر کھڑکی پہ کوئی مار کے پتھر چلا گیا باہر کا شور اتنا گراں تھا کہ بہر امن ہر شخص اپنی ذات کے اندر چلا گیا ٹھہرا تھا آ ...

مزید پڑھیے

ہر نئی شام یہ احساس ہوا ہو گویا

ہر نئی شام یہ احساس ہوا ہو گویا میرا سایہ مرے پیکر سے بڑا ہو گویا تیرے لہجے میں تو تھی ہی تری تلوار کی کاٹ تیری یادوں میں بھی اب زہر ملا ہو گویا پچھلے موسم میں سبھی گریہ کناں تھے مگر اب چشم خوں رنگ میں سیلاب رکا ہو گویا چاند نکلا تو مری ذات کو اندازہ ہوا اس نے چپکے سے مرا نام لیا ...

مزید پڑھیے

سکوت شب میں اندھیروں کو مسکرانے دے

سکوت شب میں اندھیروں کو مسکرانے دے بجھے چراغ تو پھر جسم و جاں جلانے دے دکھوں کے خواب نما نیم وا دریچوں میں وفور‌ کرب سے تاروں کو جھلملانے دے جلانا چاہے اگر چاہتوں کا سورج بھی بدن کے شہر کو اس دھوپ میں جلانے دے تو اپنے سنگ نما روح کے سفینے کو غم وفا کے سمندر میں ڈوب جانے دے مرے ...

مزید پڑھیے

اب تو روٹھ جانے کا وقت ہی نہیں ملتا

اب تو روٹھ جانے کا وقت ہی نہیں ملتا تجھ کو آزمانے کا وقت ہی نہیں ملتا سو چکے ہیں جو ارماں یاس کے شبستاں میں اب انہیں جگانے کا وقت ہی نہیں ملتا کس طرح بلائیں اب تجھ کو دید کی خاطر راستہ سجانے کا وقت ہی نہیں ملتا آرزو کی جو دنیا کھو گئی ہے راہوں میں اس کو ڈھونڈ لانے کا وقت ہی نہیں ...

مزید پڑھیے

رہنماؤں کی بات کرتے ہو

رہنماؤں کی بات کرتے ہو پارساؤں کی بات کرتے ہو جو اڑا لیں سروں سے آنچل بھی ان ہواؤں کی بات کرتے ہو جل رہی ہے زمیں کی کوکھ مگر تم خلاؤں کی بات کرتے ہو مجھ کو محنت کا بھی صلہ نہ ملا تم دعاؤں کی بات کرتے ہو پہلے انساں کو زہر دیتے ہو پھر دواؤں کی بات کرتے ہو میری بستی میں بھوک پلتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2350 سے 6203