قومی زبان

حقیقت سے زباں آگاہ کر لے

حقیقت سے زباں آگاہ کر لے یہ اسم اللہ بسم اللہ کر لے دھن سے دور کر قفل دوئی کو زباں مفتاح الا اللہ کر لے کدورت دل سے کھو لہو و لعب کی سعادت سے صفا ہے راہ کر لے مبارک باد عیش و جاہ و دولت حظوظ عمر خاطر خواہ کر لے کہاں فرصت زمان کشمکش میں مناسب ہے ابھی کچھ راہ کر لے جسے دیکھا نہ ...

مزید پڑھیے

بگڑے وہ لاکھ طرح مگر گل نہ ہو سکا

بگڑے وہ لاکھ طرح مگر گل نہ ہو سکا میں اپنے صدقے یاں بھی تامل نہ ہو سکا گو ہچکیاں رہیں مجھے مینا کی یاد میں لیکن ادا ترانۂ قلقل نہ ہو سکا ممکن نہیں مرا دل پژمردہ شاد ہو کمھلا گیا جو غنچہ وہ پھر گل نہ ہو سکا اللہ رے جوش آپ کی بخشش کے بعد بھی اشکوں سے میرے ترک تسلسل نہ ہو سکا بگڑا ...

مزید پڑھیے

نئے ڈھب کا کچھ جوش سودا ہوا ہے

نئے ڈھب کا کچھ جوش سودا ہوا ہے خدا جانے اب کے مجھے کیا ہوا ہے تعلق ان آنکھوں سے پیدا ہوا ہے بہت دن کا یہ خواب دیکھا ہوا ہے نہ عالم میں تجھ سا نہ مجھ سا جہاں میں نہ ایسا ہوا ہے نہ ویسا ہوا ہے نہ لے قیس آگے مرے نام وحشت ابھی کل کی ہے بات پیدا ہوا ہے پھر اٹھتا ہے دود محبت جگر سے وہی ...

مزید پڑھیے

کب اس زمیں پہ مجھے آرمیدہ ہونا تھا

کب اس زمیں پہ مجھے آرمیدہ ہونا تھا ہوا سے خاک کو برسوں پریدہ ہونا تھا اگر تھی دامن جاناں کی آرزو اے دل تو چند دم کے لیے آب دیدہ ہونا تھا کسی کے چہرہ پہ ہوتا کسی کے دامن میں مجھے بھی آنکھ کا اشک چکیدہ ہونا تھا کبھی نہ خدمت دامن سے سرفراز ہوا وہ ہاتھ ہوں کہ جسے نا رسیدہ ہونا ...

مزید پڑھیے

کبھی ہوتا ہوں ظاہر جلوۂ حسن نکو ہو کر

کبھی ہوتا ہوں ظاہر جلوۂ حسن نکو ہو کر کبھی خاطر میں چھپ جاتا ہوں تیری آرزو ہو کر کبھی کم ہو کے شرماتا ہوں مثل قطرہ ساغر میں کبھی کثرت سے رک جاتا ہوں شیشے کا گلو ہو کر بڑھا لیتا ہوں اکثر ربط یار پاک دامن سے لپٹ جاتا ہوں دست و پا سے میں آب وضو ہو کر سکونت سے بہت بڑھ کے ہے میری خانہ ...

مزید پڑھیے

ناصح مشفق یہ مشق تازہ فرمانے لگے

ناصح مشفق یہ مشق تازہ فرمانے لگے دن تو تھا اب رات کو بھی آ کے سمجھانے لگے حضرت‌ واعظ کہیں دولت سرا کو جائیے آتے ہی سامان محشر آپ دکھلانے لگے آ گئے جب یاد کچھ اس ربط باہم کے مزے دل بھر آیا دیدۂ تر اشک برسانے لگے پھر سبو انڈلے بھرے شیشے ہوئے لبریز جام لغزش پا اپنی اپنی مست ...

مزید پڑھیے

نکل آیا وہ گھبرا کر دل اس کا اس قدر دھڑکا

نکل آیا وہ گھبرا کر دل اس کا اس قدر دھڑکا صدا بجلی کی دی نالے نے جب منہ سے مرے کڑکا ٹھہر کچھ دن میں دست اندازیوں کا وقت آئے گا نہال نو دمیدہ ہوں بھروسہ کیا مری جڑ کا ہمیشہ خاک و خوں میں مجھ کو بیتابی بٹھایا کی بہ شکل مرغ بسمل کون سے پہلو نہیں پھڑکا خیال عارض روشن میں صبح و شام ...

مزید پڑھیے

پیتے ہیں مے گناہ بہ قصد ثواب ہے

پیتے ہیں مے گناہ بہ قصد ثواب ہے مستی کے ولولے ہیں زمان شباب ہے اے چارہ گر ندامت بے جا نہ لیجیو دل چاک ہو چکا ہے جگر آب آب ہے زاہد معاف ضبط طبیعت نہیں ہمیں ساغر چھلک رہے ہیں ہواے شباب ہے بیداریاں ہیں دیدۂ زنجیر کی طرح وہ آنکھ ہے ازل سے جو محروم خواب ہے اے شور حشر ٹھہر کہ فرصت ...

مزید پڑھیے

الفاظ و معانی کی کروٹ جو بدلتے ہیں

الفاظ و معانی کی کروٹ جو بدلتے ہیں پہلو مرے مطلب کے پہلو سے نکلتے ہیں شکل اور بدلتی ہے جب شکل بدلتے ہیں ہم صورت اشک اکثر بے پاؤں بھی چلتے ہیں کچھ زور نہیں چلتا جب زور نہیں چلتا وہ دل کی طرح میرے قابو سے نکلتے ہیں فصل آئی ہے یہ کیسی کس جوش پہ ہے مستی بو دیتے ہیں گل مے کی ہم عطر جو ...

مزید پڑھیے

پھر اس کے پھندے میں جا رہے ہیں کہ جس کے پھندے میں جا چکے تھے

پھر اس کے پھندے میں جا رہے ہیں کہ جس کے پھندے میں جا چکے تھے وہی مصیبت اٹھا رہے ہیں کہ جو مصیبت اٹھا چکے تھے کہو جو بے جا بجا ہے مجھ کو سزا ہے جو ناسزا ہے مجھ کو کہ ان کا رونا پڑا ہے مجھ کو جو مدتوں تک رلا چکے تھے جو ان کی خو تھی سو ان کی خو ہے جو گفتگو تھی سو گفتگو ہے پھر ان پہ مٹنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2343 سے 6203