کیے سجدے ہوئے کافر نہ کچھ دل میں ذرا سمجھے
کیے سجدے ہوئے کافر نہ کچھ دل میں ذرا سمجھے ہمیں بندہ بنایا اے بتو تم سے خدا سمجھے کلام نا سزا بھی جو ہوا سرزد سزا سمجھے وہ گوتم نے کہا بے جا مگر ہم سب بجا سمجھے نہ دشمن دوست ہوں میں اور نہ بیگانہ یگانہ ہوں جو وہ سمجھے تو کیا سمجھے تو یہ سمجھے تو کیا سمجھے کہا میں نے اٹھا دو ہاتھ ...