قومی زبان

کیے سجدے ہوئے کافر نہ کچھ دل میں ذرا سمجھے

کیے سجدے ہوئے کافر نہ کچھ دل میں ذرا سمجھے ہمیں بندہ بنایا اے بتو تم سے خدا سمجھے کلام نا سزا بھی جو ہوا سرزد سزا سمجھے وہ گوتم نے کہا بے جا مگر ہم سب بجا سمجھے نہ دشمن دوست ہوں میں اور نہ بیگانہ یگانہ ہوں جو وہ سمجھے تو کیا سمجھے تو یہ سمجھے تو کیا سمجھے کہا میں نے اٹھا دو ہاتھ ...

مزید پڑھیے

ہاتھوں میں آج کی شب مہندی لگایئے گا

ہاتھوں میں آج کی شب مہندی لگایئے گا سمجھے یہ رنگ ہم بھی کچھ رنگ لائیے گا یہ شوخیاں تمہاری لکھی ہوئی ہیں دل پر آخر کبھی تو میرے قابو میں آئیے گا پھر میں بھی کچھ کہوں گا دیکھو زبان روکو پھر منہ چھپا کے مجھ سے آنسو بہائیے گا ذات شریف ہو تم میں خوب جانتا ہوں طوفان اور کوئی مجھ پر ...

مزید پڑھیے

مرگ اغیار لب پہ لا نہ سکا

مرگ اغیار لب پہ لا نہ سکا وہ قسم ہوں جو یار کھا نہ سکا اس قدر ضعف تھا کہ تیرا ناز تھی تمنا مگر اٹھا نہ سکا مر کے ٹھنڈا کہیں نہ ہو جائے اس لیے وہ مجھے جلا نہ سکا بخل دیکھو تو میری تربت پر ایک آنسو بھی وہ گرا نہ سکا اٹھ نہ جائے رقیب محفل سے مجھ کو پہلو میں وہ بٹھا نہ سکا تھا جو اشک ...

مزید پڑھیے

لو ضعف سے اب یہ حال تن ہے

لو ضعف سے اب یہ حال تن ہے سایہ متجسس بدن ہے یہاں تن ہی نہیں ہے لاغری سے ہم کو کیا حاجت کفن ہے مثل نکہت ہیں جامہ کیسا اپنا تو بدن ہی پیرہن ہے ہوں بلبل بوستان تصویر بے خوف خزاں مرا چمن ہے ہوں کشتہ تیغ شرم جاناں ہر زخم کا بے زباں دھن ہے لا ریب نسیمؔ دہلوی تو استاد نزاکت سخن ہے

مزید پڑھیے

سفر ہے دشوار خواب کب تک بہت پڑی منزل عدم ہے

سفر ہے دشوار خواب کب تک بہت پڑی منزل عدم ہے نسیمؔ جاگو کمر کو باندھو اٹھاؤ بستر کہ رات کم ہے نسیمؔ غفلت کی چل رہی ہے امنڈ رہی ہیں قضا کی نیندیں کچھ ایسا سوئے ہیں سونے والے کہ جاگنا حشر تک قسم ہے جوانی و حسن و جاہ و دولت یہ چند انفاس کے ہیں جھگڑے اجل ہے استادہ دست بستہ نوید رخصت ہر ...

مزید پڑھیے

کھلی ہے آنکھ جوش انتظار یار جانی ہے

کھلی ہے آنکھ جوش انتظار یار جانی ہے بہ مشکل دیدۂ زنجیر خواب پاسبانی ہے لبوں پر آ چکا دم کوئی دم کی زندگانی ہے چل اٹھ او بے وفا پہلو سے اب کیوں مہربانی ہے لگا دوں آگ اف کرنے میں وہ شعلہ زبانی ہے بہ شکل شمع سارے جسم میں سوز نہانی ہے کلام حضرت واعظ نصیب دشمناں باشد انڈیلو مے پیو ...

مزید پڑھیے

آیا ہے خیال بے وفائی

آیا ہے خیال بے وفائی کیوں جی وہی گفتگو پھر آئی او بت نہ سنے گا کوئی میری کیا تیری ہی ہو گئی خدائی روکو روکو زبان روکو دینے نہ لگو کہیں دہائی صحرا میں ہوئی گہر فشانی کام آئی مری برہنہ پائی چاہا لیکن نہ بچ سکے ہم آخر تیغ نگاہ کھائی توڑا کانٹوں نے آبلوں کو برباد ہوئی مری ...

مزید پڑھیے

زرگر و حداد خوش ہوں وہ کریں تدبیر ہم

زرگر و حداد خوش ہوں وہ کریں تدبیر ہم طوق زر تم پہنو پہنیں آہنی زنجیر ہم اور دیوانوں سے رکھتے ہیں ذرا توقیر ہم ڈالتے ہیں آپ اپنے پاؤں میں زنجیر ہم کفر و دیں کے قاعدے دونوں ادا ہو جائیں گے ذبح وہ کافر کرے منہ سے کہیں تکبیر ہم یوں ہی خوش کرتے ہیں دل اپنا امید وصل میں کھینچتے ہیں ...

مزید پڑھیے

یہ وہ نالے ہیں جو لب تک آئیں گے

یہ وہ نالے ہیں جو لب تک آئیں گے تم تو کیا ہو آسماں ہل جائیں گے عشق میں اک پیر دیرینہ ہوں میں مجھ کو ناصح آ کے کیا سمجھائیں گے حضرت دل سوچتے ہیں آج کچھ پھر بلا کوئی مقرر لائیں گے اس توقع پر اٹھاتے ہیں ستم کچھ تو سمجھیں گے کبھی شرمائیں گے پھینک دیں گے دل کو پہلو چیر کر آپ دیکھیں ...

مزید پڑھیے

ہوس یہ رہ گئی دل میں کہ مدعا نہ ملا

ہوس یہ رہ گئی دل میں کہ مدعا نہ ملا بہت جہان میں ڈھونڈھا پر آشنا نہ ملا ہوا ہے کون سا معشوق با وفا اے دل گلا عبث ہے اگر وہ ملا ملا نہ ملا عجیب قسمت بد تھی شب فراق میں ہم کمال ڈھونڈھ پھرے خانۂ قضا نہ ملا نہ دے تو ہاتھ سے ہوں ضعف سے میں رنگ حنا ہواے شوق فنا میں جہاں اڑا نہ ملا جواب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2342 سے 6203