قومی زبان

اب آئے ہو صدا سن کر گجر کی

اب آئے ہو صدا سن کر گجر کی کہو جی شب کہاں تم نے بسر کی سحر کو دفن کر کے جائیے گا مصیبت اور ہے اک رات بھر کی قفس میں بند کرنا تھا جو تقدیر ندامت کیوں مجھے دی بال و پر کی گزر جائے گی جو گزرے گی ہم پر چلو جی راہ لو تم اپنے گھر کی ابھی تو جان لے لے اے غم عشق مصیبت کون اٹھائے عمر بھر ...

مزید پڑھیے

سن لے یہ التماس مرا دوستانہ ہے

سن لے یہ التماس مرا دوستانہ ہے ہشیار ہو کہ تیر اجل کا نشانہ ہے کب تک رہے گی مسند کمخواب زیر پا کاہے خمیدہ یار ترا شامیانہ ہے دنیا کے مخمصے ہیں یہ فرزند و اقربا بیگانہ سب سے ہو کہ اجل کا یگانہ ہے اے عندلیب جان چمن جسم پر نہ پھول ویرانہ ایک روز ترا آشیانہ ہے انفاس مستعار پہ کیا ...

مزید پڑھیے

فصل گل آئی ہے کل اور ہی ساماں ہوں گے

فصل گل آئی ہے کل اور ہی ساماں ہوں گے میرے دامن میں ترے دست و گریباں ہوں گے سب یہ کافر ہیں حسینوں کی نہ سن تو اے دل چار دن بعد یہی دشمن ایماں ہوں گے کس طرح جائیں گے مانع ہے ہمیں خوف مزاج زلف پر خم ہے تو کچھ وہ بھی پریشاں ہوں گے گریہ انجام تبسم ہے نہ ہنس اے غافل خون روئیں گے وہی زخم ...

مزید پڑھیے

دل کے آتے ہی یہ نقشہ ہو گیا

دل کے آتے ہی یہ نقشہ ہو گیا کیا بتاؤں دوستو کیا ہو گیا تم نے فرصت پائی گھر بیٹھے طبیب مر گیا بیمار اچھا ہو گیا کر چکا تھا کام افسون رقیب آج ہم سے ان سے پرچھا ہو گیا ان پہ دل آیا بڑی مشکل پڑی مدعی پہلو میں پیدا ہو گیا ہائے بیتابی نے میری کیا کیا حال سب ان پر ہویدا ہو گیا ایک ظالم ...

مزید پڑھیے

گشت نہ کر ادھر ادھر بے خبری جہاں میں ہے

گشت نہ کر ادھر ادھر بے خبری جہاں میں ہے اپنے ہی دل میں غور کر دیکھ مکیں مکاں میں ہے رات تمام کھو چکا نیند سے سیر ہو چکا جاگ کہ خوب سو چکا کوس اجل فغاں میں ہے کس سے مثال تجھ کو دوں غیر کہاں جو نام لوں حال کہوں تو کیا کہوں قفل ادب زباں میں ہے پاؤں بہت تھکا چکا شام کا قرب آ چکا دوڑ کہ ...

مزید پڑھیے

دیکھ او قاتل بسر کرتے ہیں کس مشکل سے ہم

دیکھ او قاتل بسر کرتے ہیں کس مشکل سے ہم چارہ گر سے درد نالاں درد سے دل دل سے ہم ہائے کیا بے خود کیا ہے غفلت امید نے حال دل کہتے ہیں اپنا پھر اسی قاتل سے ہم رشک اعدا نے کیے روشن بدن میں استخواں شمع محفل ہو کے اٹھے آپ کی محفل سے ہم اس کو کہتے ہیں وفاداری کہ بعد از قتل بھی داغ‌ خوں ...

مزید پڑھیے

شکایت کے عوض ہم شکر کرتے ہیں صنم تیرے

شکایت کے عوض ہم شکر کرتے ہیں صنم تیرے مزا دینے لگے کچھ سہتے سہتے اب ستم تیرے نہ پوچھ اب مجھ سے تو میری امیدوں کی یہ صورت ہے کہ ہیں بھی اور نہیں بھی جس طرح پر لطف کم تیرے جدھر تو نے کیا رخ زیر پا میرا تصور تھا نہ باور ہو تو دیکھ آنکھوں میں ہیں نقش قدم تیرے لب جاں بخش جاناں کب اجازت ...

مزید پڑھیے

بدلا نہیں ہے تجھ سے مرا دل سنبھل کے دیکھ

بدلا نہیں ہے تجھ سے مرا دل سنبھل کے دیکھ لے میں ملاؤں آنکھ تو آنکھیں بدل کے دیکھ اپنے ہی چال تک ہے زمانے کا چل چلاؤ کشتی پہ نخل ساحل دریا کو چل کے دیکھ اے دل نہ چھوڑ دامن طفل سرشک کو رہ جائے گا برنگ مژہ ہاتھ مل کے دیکھ دامن تلک کسی کی رسائی جو جاتی ہو مانند اشک دیدۂ مردم سے ڈھل کے ...

مزید پڑھیے

شکوا ہے نہ غصہ ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

شکوا ہے نہ غصہ ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا کیوں آپ کو دھڑکا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا چپ رہنے دو دم بھر مجھے للہ نہ چھیڑو اب اس سے تمہیں کیا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا اس لطف زبانی کو ذرا سوچیے دل میں یہ عذر تو بے جا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا اس لطف زبانی کو ذرا سوچیے دل میں یہ عذر تو بے جا ہے ...

مزید پڑھیے

آباد غم و درد سے ویرانہ ہے اس کا

آباد غم و درد سے ویرانہ ہے اس کا ٹوٹا ہوا جو دل ہے وہ کاشانہ ہے اس کا جس دل میں کہ ہے شوق وہ پیمانہ ہے اس کا جس آنکھ میں ہے کیف وہ مے خانہ ہے اس کا جب دیکھیے کہتا ہے وہی ذکر سناؤ معلوم ہوا شوق بھی دیوانہ ہے اس کا بے ہوش اگر میں ہوں تو باہوش کہاں ہے جو خلق ہے اس دہر میں دیوانہ ہے اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2341 سے 6203