اب آئے ہو صدا سن کر گجر کی
اب آئے ہو صدا سن کر گجر کی کہو جی شب کہاں تم نے بسر کی سحر کو دفن کر کے جائیے گا مصیبت اور ہے اک رات بھر کی قفس میں بند کرنا تھا جو تقدیر ندامت کیوں مجھے دی بال و پر کی گزر جائے گی جو گزرے گی ہم پر چلو جی راہ لو تم اپنے گھر کی ابھی تو جان لے لے اے غم عشق مصیبت کون اٹھائے عمر بھر ...