سب لطف ہے خاک زندگی کا
سب لطف ہے خاک زندگی کا ہو خانہ خراب عاشقی کا ہر وقت کی ضد بری ہے دیکھو کہنا بھی کیا کرو کسی کا یوں داد وہ دیتے ہیں وفا کی یہ کام نہیں ہے آدمی کا دل کش نہ ہوں کیوں نسیمؔ کے شعر شاگرد ہے داغؔ دہلوی کا
سب لطف ہے خاک زندگی کا ہو خانہ خراب عاشقی کا ہر وقت کی ضد بری ہے دیکھو کہنا بھی کیا کرو کسی کا یوں داد وہ دیتے ہیں وفا کی یہ کام نہیں ہے آدمی کا دل کش نہ ہوں کیوں نسیمؔ کے شعر شاگرد ہے داغؔ دہلوی کا
غیر کے گھر بن کے ڈالی جائے گی کیوں کر ان کی عید خالی جائے گی آپ نے باندھی ہے کیوں تلوار آج کیا مری حسرت نکالی جائے گی پھنس چکا دل ہو چکی آشفتگی اب طبیعت کیا سنبھالی جائے گی جان کا دینا مجھے منظور ہے ان کی فرمائش نہ ٹالی جائے گی ان پہ ظاہر ہو نہ اے دل شوق مرگ تیغ گردن سے اٹھا لی ...
رکھنا خم گیسو میں یا دل کو رہا کرنا کچھ کہہ تو سہی ظالم آخر تجھے کیا کرنا کیا تم سے زیادہ ہے دنیا میں حسیں کوئی ایمان سے کہہ دینا انصاف ذرا کرنا سہنی بھی جفا ان کی کرنی بھی وفا ان سے ان کی بھی خوشی کرنی دل کا بھی کہا کرنا بوسہ بھی مجھے دینا ہونٹوں میں بھی کچھ کہنا جینے کی دوا ...
آپ وہ سب کی جان لیتے ہیں موت کو مفت سان لینے ہیں دل بھلا عاشقوں کے پاس کہاں آپ ہی چھین چھان لیتے ہیں کیا کہوں کون جان لیتا ہے وہ مرے مہربان لیتے ہیں میکدے کے قریب ہم واعظ تیری ضد سے مکان لیتے ہیں اب تو یہ حال ہے نسیمؔ ان کا جو میں کہنا ہوں مان لیتے ہیں
نالۂ دل کمال کا نکلا ان سے پہلو وصال کا نکلا دل کی چوری کی فال کھولی تھی نام اس مہ جمال کا نکلا دے گئے وہ جواب صاف مجھے یہ نتیجہ سوال کا نکلا وہ خفا تھے یوں ہی کہ اے قاصد کچھ سبب بھی ملال کا نکلا دل لیا تیرا اے نسیمؔ اس نے گاہک اچھے ہی مال کا نکلا
بہار آئی ہے پھر وحشت کے ساماں ہوتے جاتے ہیں مرے سینے میں داغوں کے گلستاں ہوتے جاتے ہیں مجھے بچپن کر کے دل دہی بھی ہوتی جاتی ہے جفائیں کرتے جاتے ہیں پشیماں ہوتے جاتے ہیں کہاں جاتا ہے اے دل شکوۂ مہر و وفا کرنے وہاں بیداد کرنے کے بھی احساں ہوتے جاتے ہیں نسیمؔ زندہ دل مرنے لگے ...
سیدھا سچا تمہیں اے جان جہاں جانے کون دل کو لگتی نہ ہو جو بات اسے مانے کون تھا ابھی تو دل بے تاب مرے پہلو میں لے گیا آنکھوں ہی آنکھوں میں خدا جانے کون پھاڑ ڈالیں ہیں گلوں نے جو قبائیں اپنی باغ میں آج گیا تھا یہ ہوا کھانے کون تم نہ تھے محفل اغیار میں شرمندہ نہ ہو منہ چھپائے ہوئے ...
نہ مانی اس نے ایک بھی دل کی دل ہی میں بات رہ گئی دل کی گیسوئے یار میں یہ بات کہاں اور ہی شے ہے برہمی دل کی کھینچتے ہیں وہ تیر پہلو سے کھوئے دیتے ہیں دل لگی دل کی یوں وہ نکلے تڑپ کے پہلو سے شکل آنکھوں میں پھر گئی دل کی گھٹتی جاتی ہے ان کی مہر و وفا بڑھتی جاتی ہے بے خودی دل کی چھوڑ ...
بیتاب ہیں کسی کی نگاہیں نقاب میں ہیں بجلیاں کہ کوند رہی ہیں سحاب میں لکھوں گا خط میں خوب عدو کی برائیاں ہو کر خفا وہ کچھ نہ لکھیں گے جواب میں ہم کو ہے ان کی فکر تو ان کو عدو کی فکر دونوں ہیں ایک سلسلۂ اضطراب میں اس چھیڑ کے نثار کہ سن کر سوال وصل آئینہ رکھ دیا مرے آگے جواب ...
کیا خاک کہوں مطلب دل دار کے آگے سو اور سنائے گا وہ اغیار کے آگے بولا تھا جو آغاز محبت میں بڑا بول آیا وہی آخر دل بیمار کے آگے روکا ہی کیا ضبط محبت سر محفل سر جھک ہی گیا اس بت عیار کے آگے پیدا نہیں دنیا میں دوائے مرض عشق کیا لوگ نہ ہوتے تھے اس آزار کے آگے فریادئ بیداد جفا جان کے ...