قومی زبان

ان کے پیکان پہ پیکان چلے آتے ہیں

ان کے پیکان پہ پیکان چلے آتے ہیں دل میں گھر کرنے کو مہمان چلے آتے ہیں دیکھ کر آئے ہیں کیا عارض و گیسو ان کے لوگ حیران پریشان چلے آتے ہیں چار انگل کا وہ پرچہ نہیں لکھتے مجھ کو پاس اغیار کے فرمان چلے آتے ہیں اپنی محفل میں مجھے دیکھ کے کہتا ہے وہ بت کیوں مرے گھر میں مسلمان چلے آتے ...

مزید پڑھیے

دکھائے معجزے گر وہ بت عیار چٹکی میں

دکھائے معجزے گر وہ بت عیار چٹکی میں تو بولے طائر رنگ حنا ہر بار چٹکی میں حنائی فندقیں ہیں سرخ ہے سوفار چٹکی میں کھلایا ہے مرے قاتل نے کیا گل زار چٹکی میں ستاری ہے تمہاری یا کہ نغموں کا خزانہ ہے بنی مضراب بھی منقار موسیقار چٹکی میں ملے گر خاک در تیری تو ہے اکسیر کی چٹکی ابھی ...

مزید پڑھیے

جدھر دیکھ تمہاری بزم میں اغیار بیٹھے ہیں

جدھر دیکھ تمہاری بزم میں اغیار بیٹھے ہیں ادھر دس پانچ بیٹھے ہیں ادھر دو چار بیٹھے ہیں انہیں دنبالہ دار آنکھوں نے مجھ کو مار رکھا ہے انہیں چھریوں کے میرے دل پہ گہرے وار بیٹھے ہیں انہیں کی موت ہے جن کو تمہارے وصل کی دہن ہے وہی سکھ نیند سوتے ہیں جو ہمت ہار بیٹھے ہیں تمہیں کیا ہو ...

مزید پڑھیے

تمام عمر چلا ہوں مگر چلا نہ گیا

تمام عمر چلا ہوں مگر چلا نہ گیا تری گلی کی طرف کوئی راستہ نہ گیا ترے خیال نے پہنا شفق کا پیراہن مری نگاہ سے رنگوں کا سلسلہ نہ گیا بڑا عجیب ہے افسانۂ محبت بھی زباں سے کیا یہ نگاہوں سے بھی کہا نہ گیا ابھر رہے ہیں فضاؤں میں صبح کے آثار یہ اور بات مرے دل کا ڈوبنا نہ گیا کھلے ...

مزید پڑھیے

کوئی جھنکار ہے نغمہ ہے صدا ہے کیا ہے

کوئی جھنکار ہے نغمہ ہے صدا ہے کیا ہے تو کرن ہے کے کلی ہے کے صبا ہے کیا ہے تیری آنکھوں میں کئی رنگ جھلکتے دیکھے سادگی ہے کہ جھجھک ہے کہ حیا ہے کیا ہے روح کی پیاس بجھا دی ہے تری قربت نے تو کوئی جھیل ہے جھرنا ہے گھٹا ہے کیا ہے نام ہونٹوں پہ ترا آئے تو راحت سی ملے تو تسلی ہے دلاسہ ہے ...

مزید پڑھیے

مانا تری نظر میں ترا پیار ہم نہیں

مانا تری نظر میں ترا پیار ہم نہیں کیسے کہیں کہ تیرے طلب گار ہم نہیں سینچا تھا جس کو خون تمنا سے رات دن گلشن میں اس بہار کے حق دار ہم نہیں ہم نے تو اپنے نقش قدم بھی مٹا دیے لو اب تمہاری راہ میں دیوار ہم نہیں یہ بھی نہیں کے اٹھتی نہیں ہم پہ انگلیاں یہ بھی نہیں کے صاحب کردار ہم ...

مزید پڑھیے

میں دنیا کی حقیقت جانتا ہوں

میں دنیا کی حقیقت جانتا ہوں کسے ملتی ہے شہرت جانتا ہوں مری پہچان ہے شعر و سخن سے میں اپنی قدر و قیمت جانتا ہوں تیری یادیں ہیں شب بیداریاں ہیں ہے آنکھوں کو شکایت جانتا ہوں میں رسوا ہو گیا ہوں شہر بھر میں مگر کس کی بدولت جانتا ہوں غزل پھولوں سی دل صحراؤں جیسا میں اہل فن کی حالت ...

مزید پڑھیے

جب درد محبت کا مرے پاس نہیں تھا

جب درد محبت کا مرے پاس نہیں تھا میں کون ہوں کیا ہوں مجھے احساس نہیں تھا ٹوٹا مرا ہر خواب ہوا جب سے جدا وہ اتنا تو کبھی دل مرا بے آس نہیں تھا آیا جو مرے پاس مرے ہونٹ بھگونے وہ ریت کا دریا تھا مری پیاس نہیں تھا بیٹھا ہوں میں تنہائی کو سینہ سے لگا کے اس حال میں جینا تو مجھے راس نہیں ...

مزید پڑھیے

پلٹ کر دیکھ لینا جب سدا دل کی سنائی دے

پلٹ کر دیکھ لینا جب سدا دل کی سنائی دے میری آواز میں شاید مرا چہرہ دکھائی دے محبت روشنی کا ایک لمحہ ہے مگر چپ ہے کسے شمع تمنا دے کسے داغ جدائی دے چبھیں آنکھوں میں بھی اور روح میں بھی درد کی کرچیں مرا دل اس طرح توڑو کے آئینہ بدھائی دے کھنک اٹھیں نہ پلکوں پر کہیں جلتے ہوئے آنسو تم ...

مزید پڑھیے

ذکر دشمن ہے ناگوار کسے

ذکر دشمن ہے ناگوار کسے تم سناتے ہو بار بار کسے مانگ لوں عمر خضر سے لیکن تیرے وعدے کا اعتبار کسے ہائے بے چپن کر دیا دم خواب تو نے اے آہ شعلہ بار کسے گالیاں دے رہے ہیں ہونٹوں میں اس ادا پر نہ آئے پیار کسے ہے نسیمؔ ایک سنگ دل وہ بت دل کو دیتا ہے میرے یار کسے

مزید پڑھیے
صفحہ 2328 سے 6203