قومی زبان

عرابچی سو گیا ہے

عرابچی سو گیا ہے طولانی فاصلوں کی تھکن سے مغلوب ہو گیا ہے خبر نہیں ہے اسے کہاں ہے بس ایک لمبے کٹے پھٹے ناتراش رستے پہ چوبی گاڑی ازل سے یوں ہی ابد کی جانب رواں دواں ہے ذرا سے جھٹکے سے چرچراتی ہے جب تو بوسیدگی کی لاکھوں تہوں میں لپٹا ہر ایک ذی روح چونکتا ہے عرابچی خواب دیکھتا ہے وہ ...

مزید پڑھیے

تم نے اسے کہاں دیکھا ہے

کبھی تم نے دیکھا ہے خوابوں سے آگے کا منظر جہاں چاند تاروں سے روٹھی ہوئی رات اپنے برہنہ بدن پر سیہ راکھ مل کر الاؤ کے چاروں طرف ناچتی ہے! کبھی تم نے جھانکا ہے پلکوں کے پیچھے تھکی نیلی آنکھوں کے اندر جہاں آسمانوں کی ساری اداسی خلا در خلا تیرتی ہے کبھی تم نے اک دن گزارا ہے رستوں کے ...

مزید پڑھیے

وہ دن تیری یاد کا دن تھا

وہ دن تیری یاد کا دن تھا اس دن میں بھول گیا سانسیں لینا لمحے ڈھونا باتیں کرنا کھل کھل ہنسنا چھپ کر رونا لکھنا پڑھنا جاگنا سونا وہ دن تیری یاد کا دن تھا اس دن میں بھول گیا جینا مرنا کچھ بھی کرنا!

مزید پڑھیے

مجھے اک خواب لکھنا ہے

مجھے اک خواب لکھنا ہے کہیں اسکول سے بھاگے کسی بچے کی تختی پر مجھے اک چاند لکھنا ہے سواد شام سے گہری سیہ عورت کے ماتھے پر مجھے اک گیت لکھنا ہے گھنے بانسوں کے جنگل میں ہوا کے سرد ہونٹوں پر مجھے ایک نام لکھنا ہے پرانی یاد گاروں میں کسی بے نام کتبے پر

مزید پڑھیے

ایک ضبط شدہ پوسٹر

خواب ہماری گلیوں کے گندے پانی پر مچھر مار دوائیں ہیں باورچی خانوں میں آٹے گھی اور تیل کے خالی ڈبے آنے والی نسلوں کی آنکھیں ہیں بھوک ہمارے آنگن کی رقاصہ ہے پیاس ہمارا تاریخی ورثہ ہے تحریریں پڑھنے والو! لفظ نصابوں کے قیدی ہیں تعبیریں ڈھونڈنے والو! ہم سب ان دیکھے خوابوں کے قیدی ...

مزید پڑھیے

تاریخ ٹسوے بہائے گی

تم سر بام آ کر اٹھایا ہوا ہاتھ اپنا ہلا کر چمک دار آنکھوں سے اپنی مجھے رخصتی کا اگر اذن دیتیں تو میں دشمنوں کے لیے موت بن کر نکلتا تمہارے فقط اک اشارے سے کشتوں کے پشتے لگاتا چلا جاتا تم دیکھتیں کس طرح میں زمانے کی سرحد ذرا دیر میں پار کرتا ہر اک سمت سے وار کرتا محبت کی تاریخ تبدیل ...

مزید پڑھیے

فقیہ شہر کا لہجہ ہے پر جلال بہت

فقیہ شہر کا لہجہ ہے پر جلال بہت تبھی تو شہر میں پھیلا ہے اشتعال بہت وہ ایک شخص کہ محروم شانۂ و سر ہے اسے ہے جبہ و دستار کا خیال بہت وہ پہلے آگ لگاتا ہے پھر بجھاتا ہے اسے ہے شعبدہ بازی میں بھی کمال بہت امیر شہر کی ساری تجوریاں خالی گدائے شہر کے کشکول میں ہے مال بہت محافظوں کی ...

مزید پڑھیے

رک جاؤں بھلا کیسے تری راہ گزر میں

رک جاؤں بھلا کیسے تری راہ گزر میں میں باد صبا ہوں مجھے رہنا ہے سفر میں ہر پل مجھے اک خوف کا احساس ہوا ہے آسیب کوئی رہتا ہے شاید مرے گھر میں اس پیکر خوشبو کی میں تصویر بناؤں اتنا تو کمال آئے مرے دست ہنر میں دستار فضیلت کے میں قابل تو نہیں تھا کیا تجھ کو نظر آیا تھا اس خاک بسر ...

مزید پڑھیے

جو نہیں اس جہاں روتے ہیں

جو نہیں اس جہاں روتے ہیں حاصل رائیگاں کو روتے ہیں دکھ زمیں کا تو بانٹ سکتے نہیں اور زمان و مکاں کو روتے ہیں ریزہ ریزہ پڑا ہے آنکھوں میں غم کے کوہ گراں کو روتے ہیں دل گرفتہ خموش راتوں میں شور ہائے سگاں کو روتے ہیں موسموں کی بہار میں ہم سب اپنی اپنی خزاں کو روتے ہیں جا نکلتے ...

مزید پڑھیے

اجنبی کس خواب کی دنیا سے آئے ہو

اجنبی کس خواب کی دنیا سے آئے ہو تھکے لگتے ہو آنکھوں میں کئی صدیوں کی نیندیں جاگتی ہیں فاصلوں کی گرد پلکوں پر جمی ہے اجنبی! کیسی مسافت سے گزر کر آ رہے ہو کون سے دیسوں کے قصے درد کی خاموش لے میں گا رہے ہو دور سے نزدیک آتے جا رہے ہو اجنبی آؤ! کسی اگلے سفر کی رات سے پہلے ذرا آرام کر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2305 سے 6203